43 ہزار پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں

  • جمعہ 17 / اپریل / 2020
  • 4200

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک سے 43 ہزار  پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان کی بتدریج واپسی کے لیے پی آئی اے کی خصوصی پروازیں مختلف ملکوں میں جا رہی ہیں۔

اس دوران پاکستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 7 ہزار 261 ہوگئی جبکہ اموات 137تک پہنچ گئی ہیں۔ اس دوران 1765 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 21 لاکھ 72 تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 46 ہزار ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ اس وقت کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔  جمعہ کو نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان عائشہ فارقی نے کہا کہ ان پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے ایک جامع اور مرحلہ پروگرام پر کام جاری ہے۔

اب تک 2287 پاکستانیوں کو دوحہ، دبئی، بینکاک، استنبول، لندن، باکو، تاشقند کوالالمپور اور سنگاپور سے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی 12 پروازوں کے ذریعے وطن واپس لایا جا چکا ہے۔ عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے دوسرا مرحلہ 14 اپریل سے شروع ہو چکا ہے جو 18 اپریل تک جاری رہے گا۔

اس مرحلے میں پی آئی اے کی نو پروازوں کے ذریعے لگ بھگ 2000 پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لا یا جائے گا۔  ان کا کہنا تھا کہ ان میں عمرہ زائرین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 271 افراد کو عمان اور 634 کو متحدہ عرب امارت سے وطن واپس لایا جائے گا۔ بقول تھائی لینڈ اور جاپان سے 270 پاکستانی شہریوں کو پہلے ہی وطن واپس لایا جا چکا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانیوں کی وطن واپسی کے دوسرے مرحلے کے دوران پی آئی اے کی پروازوں کے اسلام آباد کے علاوہ لاہور، ملتان، کراچی، پشاور اور فیصل آباد کے ہوائی اڈوں پر بھی اُترنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد پاکستان مین جمعہ کے اجتماعات کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت کی طرف سے نماز کے محدود اجتماعات پر پابندی کے ختم کرنے کے  بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے نماز جمعہ کے اجتماعات میں شرکت کی۔ کئی ہفتوں بعد ہونے والے جمعہ کے بڑے اجتماعات میں علما نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ترغیب دی۔

نماز جمعہ کے اجتماعات میں کورونا کے خاتمے کے لیے دعائیں بھی کی گئیں اور وبا کو پھیلنے سے روکنے میں سرگرم عمل طبی عملے پولیس اور فوج کے ساتھ تعاون پر بھی زور دیا گیا۔