کورونا وائرس کی رپورٹنگ پر کئی ایشیائی ملکوں میں میڈیا پر پابندیاں
- ہفتہ 18 / اپریل / 2020
- 3740
براعظم ایشیا میں جس کی آبادی تقریباً 3 ارب 40 کروڑ افراد پر مشتمل ہے، خبررساں اداروں کو اس بحران سے متعلق حقائق تک رسائی میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب لاک ڈاؤن کی وجہ سے صحافی اپنے ذرائع سے براہ راست رابطے نہیں کر سکتے، دوسری جانب سرکاری عہدیدار ان کی نقل و حرکت پر قدغن لگا رہے ہیں اور مبہم معلومات مہیا کر رہے ہیں۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ صحافیوں کو پابند سلاسل کیے جانے اور حتٰی کہ گمشدگی کے بھی خطرات لاحق ہیں۔
وائس آف امریکہ کے نامہ نگار رالف جینیکس نے تائیوان سے اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ ایشیا کے مختلف ملکوں میں صحافیوں کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہے اس کی ایک بڑی وجہ آمرانہ حکومتوں، خاص کر چین جیسے ملک کا میڈیا پر آہنی کنڑول ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز سے منسلک ایک اعلی عہدیدار نے شکایت کی کہ چینی حکام نے کئی صحافیوں اور تبصرہ نگاروں کو گرفتار کیا ہے۔ صحافیوں کی انٹرنیشنل فیڈریشن کا کہنا ہے کہ چین میں تین جرنلسٹ لاپتہ بھی ہو چکے ہیں۔
علاقے کے دوسرے ممالک مثلاً بھارت اور فلپائن کسی حد تک اظہار کی آزادی کی اجازت تو دیتے ہیں لیکن وہ عوامی صحت کے تحفظ کی آڑ میں سخت ہنگامی اقدامات کے تحت میڈیا رپورٹنگ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کی خبریں دینے والے صحافیوں کو نئے انداز سے ہراساں کیے جانے کی صورت حال کا سامنا ہے۔ تنظیم نے بھارت کی ایک کہنہ مشق ہیلتھ رپورٹر ودیا کرشنان کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب اس بات کو میڈیا میں اجاگر کیا گیا کہ حکومت ہیلتھ ورکرز کے لیے حفاظتی سامان مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے تو اسے عہدیداروں نے جعلی خبر سے تعبیر کیا اور جس کے بعد آن لائن ہراساں کئے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
فلپائن میں بھی صدر نے میڈیا کے خلاف مخالفانہ انداز اختیار کر رکھا ہے۔ کانگریس نے 24 مارچ کو ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے کورونا وائرس کے بارے میں حکام کے مطابق غلط معلومات پھیلانے کو تعزیری جرم قرار دیا گیا ہے۔ فلپائن میں صحافیوں کی قومی انجمن نے حکومت کو حاصل اس اختیار کی مخالفت کی ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کر سکتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس تمام پس منظر میں ایشیا کے بہت سے ملکوں میں کورونا وائرس کی کوریج آسانی سے دستیاب ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ مثلاً یہ کہ کتنی اموات ہو گئیں اور کتنے نئے لوگ وائرس کا شکار ہوئے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار غلط بھی ہو سکتے ہیں۔