پاکستان میں علما اور حکومت رمضان کی عبادات پر اتفاق رائے

  • ہفتہ 18 / اپریل / 2020
  • 4940

صدرِ پاکستان عارف علوی کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق مساجد کے احاطے میں نماز تراویح کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ البتہ سحر اور افطار کے اجتماعی دسترخوان نہیں لگائے جائیں گے۔

رمضان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتِ پاکستان اور علما 20 نکاتی تجاویز پر متفق ہو گئے ہیں۔ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت ملک کے چاروں صوبوں میں علما کے ساتھ ویڈیو لنک پر مشاورت کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین اور دریاں نہیں بچھائی جائیں گی۔

افطار اور سحر کے اجتماعی دسترخوانوں کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ نماز سے قبل اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے گا۔ جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کے بجائے صحن میں نماز پڑھائی جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 50 سال سے زائد افراد، نابالغ افراد اور کھانسی، نزلہ اور زکام کے مریض مساجد نہیں آ سکیں گے۔

مسجد کے احاطے میں نماز تراویح کا اہتمام کیا جائے گا۔ گھروں میں بھی تراویح کا اہتمام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مساجد کے فرش کو صاف رکھنے کے لیے جراثیم کش محلول استعمال کیا جائے گا۔ مساجد میں صف بندیوں کے دوران چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔ دو نمازیوں کے درمیان دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے گی۔

مسجد انتظامیہ اور معززین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو ان احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔ نمازیوں کو وضو گھر سے کرنے، ماسک پہننے اور بغل گیر نہ ہونے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ مساجد میں موجودگی کے دوران چہرے کو ہاتھ لگانے سے روکنے کی بھی تنبیہ کی گئی ہے۔

صدرمملکت کا علماء سے مشاورت کی روشنی میں متفقہ اعلامیہ:مساجد اور امام بارگاہوں میں نمازاورتراویح کا اہتمام 1) مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی۔2) اگر کچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے 7600 مریض ہین جبکہ 144  افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔صدر عارف علوی نے علما اور مشائخ کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے بعد 20 نکاتی تجاویز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے کیے گئے اور اس حوالے سے یہ کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہر فرد کی زمہ داری ہے کہ وہ ان اصولوں کی پابندی کریں۔