کورونا پھیلا تو مساجد ویران ہوجائیں گی: وزیراعظم
- ہفتہ 18 / اپریل / 2020
- 4300
وزیراعطم عمران خان نے کہا ہے کہ اپریل کے آخر تک کورونا کے کیسز 50 ہزار تک تجاوز ہونے کا تخمینہ لگایا تھا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ تعداد 12 سے 15 ہزار کے درمیان ہے۔
انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اتنے کیسز کو سنبھالنے کے لئے ہسپتالوں میں موجود سہولیات کافی ہیں تاہم جس طرح کیسز میں اضافہ ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہورہا ہے کہ 15 مئی سے 25 مئی تک مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے اور اس دوران ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے حالات مغربی ممالک سے بہت مختلف ہیں۔ کچی آبادیوں میں بہت گنجان آبادی ہے جہاں ایک ایک کمرے میں 6 سے 8 افراد رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ جو بھی پالیسی بنائی گئی اسے ایک خاص طبقے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا۔
وزیراعطم کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اختیار تھا اور انہوں نےلاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور اب بھی میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ خطرہ کمزور اور غریب طبقے کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں تقریباً تمام مزدور حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیں جن کی درخواست پر حکومت ان کی مدد کررہی ہے لیکن ہماررے 80 سے 90 فیصد مزدور غیر روایتی شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
انہیوں نے اعتراف کیا کہ رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کے لیے ہر ایک تک پہنچنا ممکن نہیں اور خدشہ ہے کہ اگر لوگوں تک رسائی نہ ہوئی تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے اور لاک ڈاؤن کا مقصد ختم ہوجائے گا اس لیے تعمیرات کا شعبہ کھولا گیا۔ وزیراعظم نے کہا ہم نے تعمیرات کے شعبے میں شرکت کے لیے ہر ایک کو دعوت دی تا کہ لوگوں کو روزگار ملے۔
انہوں نے کہا میں نے سوشل میڈیا پر ایسے چیزیں دیکھی ہیں کہ لاک ڈاؤن توڑنے والوں کو ڈنڈے مارے جارہے ہیں اس لیے میں پولیس سے کہنا چاہتا ہوں کہ ڈنڈے مارنے کے بجائے غریب لوگوں کو سمجھائیں کیوں کہ ڈنڈے سے صرف ایک دو ہفتے تک لاک ڈاؤن کامیاب ہوسکتا ہے۔
رمضان المبارک میں عبادات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ میں مساجد کے اماموں سے کہتا ہوں کہ کورونا وائرس کے حوالے سے طے شدہ چیزوں مثلاْ سماجی فاصلے پر عمل کریں کیوں کہ اگر کورونا پھیلا تو مسجدیں ویران ہوجائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث لوگوں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کر کے پیسہ کمانے کی کوشش سب سے بڑا خطرہ ہے لیکن ہم اس پر بہت سختی کررہے ہیں۔ میں خبردار کررہا ہوں کہ جو لوگ ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہوئے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی اور مالکان کو پکڑا جائے گا۔ وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلروں کےحوالے سے آرٖڈیننس تیار کرلیا گیا ہے اور اسمگلنگ کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ جب کوئی اس قسم کا معاملہ درپیش ہو جس سے سب متاثر ہورہے ہیں خاص کر نچلا طبقہ، ایسی صورتحال میں سیاست نہیں ہونی چاہیئے۔ وزیراعظم نے کراچی میں اموات کی تعداد میں اضافے کی رپورٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی خبروں سے لوگوں میں خوف پھیلے گا اور مزید نقصان پہنچے گا۔
کورونا وائرس کے حوالے بریفنگ دیتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی اور فوکل پرسن برائے کورونا اسد عمر کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرلیا گیا ہے۔ متاثرہ افراد سے منسلک افراد تک پہنچنے کے لیے ایک نظام تشکیل دیا جارہا ہے۔
اسد عمر کے مطابق طبی سہولیات کی گنجائش میں اضافہ کیا گیا ہے تاہم ہم اس سطح تک نہیں پہنچ سکے جتنا ہم چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کسی معاملے پر اتنے مربوط فیصلے نہیں کیےگئے جس طرح اس وبا کے حوالے سے کیے جارہے ہیں۔