’غیر جمہوری‘ لاک ڈان

لاک اور ڈاؤن دونوں ایسے الفاظ ہیں جو غیر جمہوری سوچ کی غمازی کرتے ہیں۔ آزادی کا سلب کیا جانا یعنی لاک اور مورال میں گراوٹ یعنی ڈاؤن جس کسی نے بھی ان الفاظ کو کرونا وبا کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تعریف کے لیے اخذ کیا ہے یقیناً وہ غیر جمہوری سوچ کا حامل ہوگا۔

اس بحث سے قطع نظر کہ ان اقدامات کی افادیت کتنی ہے۔ ویسے بھی جب کورونا نے ایک غیر جمہوری ملک سے اپنے مہلک سفر پر نکل کر دنیا کو ’تہہ تیغ‘ کرنے کی ٹھانی ہے تو اس کے جمہوری سوچ رکھنے کا سوال ہی نہیں۔ اس کا پہلا حملہ چین جیسے ایک جبری معاشرے پر ہوا تو ردعمل کے طور پر چینی سخت گیری لاک ڈاؤن کی صورت میں ظاہر ہوا۔ چین تو خیر سے کیمونسٹ انقلاب کے بعد کئی دہائی تک لاک ڈاؤن میں رہ چکا ہے یعنی وہ لوگ تو اس طرز زندگی کے عادی رہے ہیں کوئی تین چار مہینے کے لاک ڈاؤن سے انہیں کیا فرق پڑتا۔ مگر دنیا کے آزاد منش انسانوں پر اس لاک ڈاؤن نے بہت برا اثر ڈالا ہے۔

انسان کی آزادی، چہل پہل، گھومنے پھرنے کا اختیار، سیر سپاٹے کا حق، خوش گپیوں کے مواقع اور مذہبی رسومات کا ادا کرنا انسانی بنیادی حقوق کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور چین اور انسانی حقوق؟ مگر اب تو ساری دنیا چین بن چکی ہے۔ ضروری جسمانی طور پر سماجی دوری کو بہانہ بنا کر مطلق العنانیت اپنے وجود کا جواز ڈھونڈ رہی ہے۔ دنیا میں موقع سے فائدہ اٹھانے والے کچھ کم نہیں۔ رومانیہ کے وزیر اعظم ایسے ہی موقع پرست ڈکٹیٹر ہیں۔ جنہوں نے اس وبائی بحران سے یہ فائدہ اٹھایا کہ ایک فرمان کے تحت خود کو غیر معینہ مدت کے لیے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک قرار دے دیا۔

لیکن ایک وہی کیوں بہت سارے سربراہان یا فوجی جرنیل بھی اس وبا میں مبتلا عوام کو لارے لپے دے کر اپنی من مانی کررہے ہیں۔ اسی طرح شمالی کوریا کے سربراہ جو ڈکٹیٹر ہیں، انہوں نے اس مصیبت میں گھری دنیا کو بھی نہیں بخشا اور ابھی چند دن قبل ایٹمی دھماکہ کیا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ بری خبر شمالی امریکہ سےموصول ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں جب کہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ برائے صحت اپنی تمام تر توجہ دنیا کے ان ممالک پر مرکوز کئے ہوئے ہے جو اس افتاد سے نمٹنےکی کم قوت کے حامل ہیں۔ ایسےنازک موقع پر ایک اور عملاً اور مزاجاً ڈکٹیٹر ڈولنڈ ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کی مختص رقم کی ادائیگی سے انکار کرکے دراصل دنیا کے غریب عوام کو تنہا چھوڑ دیاہے۔

غیر جمہوری معاشرے کے لاک ڈاؤن اور جمہوری سوچ کے حامل معاشرے کے لاک ڈاؤن میں تو بڑا فرق ہے۔ یہاں لاک ڈاؤن انسانی قیمتی جانوں کی حفاظت کے لیے کیا جارہا ہے اور کم وسائل کے باجود بھی اس وبا پر بہت اچھی طرح سے قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔ اور پھر بھی یہ بحث جاری ہے کہ کس حد تک انسانی آزادی کو محدود کیا جانا چاہئیے ۔ اور یہ کہ آیا مظاہرے، جلسے جلوس اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کی اجازت کتنی جلدی  بحال ہو سکتی ہے۔