اب کیوں گِلہ کرتے ہو کرونا کی وارداتوں میں

  • تحریر
  • ہفتہ 18 / اپریل / 2020
  • 7970

جنہیں یہ خوش فہمی تھی کہ لاکھ اختلاف سہی، وبا، ابتلا اور قدرتی آفت کے دور میں ہماری قوم ایک  ہو جاتی ہے۔ کووِڈ 19  کا ایک  ماہ سے  سامنا کرتے ہوئے جس ’فقید المثال‘ یک جہتی  اور اتفاق کے  مناظر دیکھے، ان کے بعد  یہ خوش فہمی اب  اپنا منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔

یوں  تو مخالفین کو رگڑنے  کے لئے کسی خاص موضوع کی ضرورت نہیں ہوتی، بس ایک  ہمہ وقت چالاک ذہن  اور  ارادے کی  پختگی  درکار  ہوتی ہے،  الزام تو آٹا گوندھتے ہلنے کا بھی لگ سکتا ہے۔  اور جب کووِڈ19  کا معاملہ درمیان میں ہو تو کیا ہی بات ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ  کہتے ہیں خدارا لاک ڈاؤن سخت اور  مکمل کریں، جواب آتا ہے انہیں کیا معلوم کہ پسے  ہوئے طبقات کے دکھ کیا ہوتے ہیں۔ اور ہاں اب یہ ٹسوے بہانے بیٹھ گئے، گزشتہ گیارہ بارہ سالوں کے دوران ہسپتالوں کی حالت  بہتر کی ہوتی تو آج  یوں خواری نہ ہوتی۔

 پی ٹی آئی کی  وفاقی حکومت نے احساس پروگرام کے تحت پہلی بار ریکارڈ وقت میں نیا ڈیٹا بیس بنا کر پچھلے اور نئے مستحقین کو ماہانہ بارہ ہزار روپے فی خاندان دینے کا سلسلہ شروع کیا تو پی پی پی اور ن لیگ سمیت دوسری اپوزیشن جماعتوں نے اس  میں وہ وہ کیڑے نکالے کہ خدا کی پناہ۔ تسلیم کہ بہتری کی گنجائش ہوگی لیکن جو ہؤا اس کی داد نہ دینا بھی مناسب نہیں۔  

اس بحثا بحثی میں دو باتیں بہت کی گئیں مگر  متبادل حل  پر ٹھوس تجاویز اور گفتگو  خال ہی سننے کو ملی۔  جنگ کی تیاری زمانہ امن میں کی جاتی ہے، دشمن کے دھاوا بولنے کے  بعد  اسلحہ خانوں کو فوری گولیاں، گولے اور سامان حرب کے ٹینڈڑ کال کرنے کا حکم  نہیں دیا جاتا۔  اسی طرح  قدرتی آفات  اور وبا کی صورت میں  تیاری بھی بھلے وقتوں میں  کی جاتی ہے۔ مختلف  امکانات ماضی کے تجربات اور دنیا کے مشاہدات کی روشنی میں  کھنگالے جاتے ہیں، ماہرین سے مشاورت ہوتی ہے،  بجٹ بنائے جاتے ہیں اور وسائل مختص کئے جاتے ہیں۔  پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کی آفات سے نمٹنے کے لیے  وفاق اور صوبوں میں  ڈیز اسٹر مینجمنٹ کے  ادارے بنائے گئے جن کے دم قدم سے   فوری رسپانس  اور بہت حد تک  دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ کو آرڈینیشن  وضع کردہ  ضابطے یعنی SOPs  کے مطابق ہو جاتی ہے۔

کووِڈ19  کی صورت میں دنیا پر ایک  اَن دیکھی، اَن سوچی ابتلا وارد ہوئی ہے۔ یہ انسانوں کی صحت  کی تو دشمن ہے ہی اس  نے  ٹیکنالوجی اور عالمگیریت  کے سہارے پر کھڑی گلوبل اکونومی  کو یوں چاروں شانے چت کیا ہے کہ گلوبل ورلڈ آرڈر کے کرتا دھرتا ؤں کی معیشتوں کو  آن کی آن  میں جکڑ دیا ہے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف  نے  عالمی جی ڈی پی میں تین فی صد کمی  کا تخمینہ لگایا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں سکڑاؤ  کا اندازہ بھی اڑھائی فی صد کے  قریب ہے۔

ایسے میں  جب ملک کی  درآمدات ٹھپ  ہو گئی ہیں، خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور اور دیگر  لوگ واپسی کے لئے سر پھوڑ رہے ہیں، ملک میں لاک ڈاؤن سے  حکومتی محاصل میں کمی  مزیدہے،   حکومت پر ہر طبقے کی جانب سے امدادی پیکیج، ریلیف اور  نقصان کی تلافی  کے لئے دباؤ ہے۔   یہ مطالبہ کوئی بے جا بھی نہیں کہ حکومت دیہاڑی دار، روزانہ  اور ماہانہ کمانے والوں کو  وقتی  بے روزگاری سے بچائے اور باقی متاثرہ طبقات کو فوری  امداد فراہم کرے۔ 

مگر کیسے؟  ملک کی آبادی کتنی ہے، کن کن پیشوں سے متعلق ہے، ان کی آمدن کتنی ہے، کن جگہوں کی رہائشی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ اور ان جیسے سوالوں کے جوابات ترقی یافتہ ممالک میں قومی،  صوبائی اور مقامی حکومتوں کے پاس  ڈیٹا بیس  میں پائے جاتے ہیں۔ مگر جس ملک میں مردم شماری ہی بیس سال کے وقفے سے  ہو اور اس پر بھی سیاسی اتفاق نہ ہو، وہاں کیا ڈیٹا دستیاب ہوگا؟

 ایسے میں  مختلف  پیشوں سے وابستہ  لوگوں کے  ریکارڈ  کہاں ہو سکتا ہے؟  مگر شام کو حکومت کو لتاڑنے کے لئے یہ موضوع بہترین ثابت ہوا۔  بنیادی بات  مگرالزام لگانے والوں کے چالاک ذہنوں  نے سامنے نہیں آنے دی کہ مشرف، پی پی پی  اور ن لیگ دور  میں  ملک کی  آبادی اور اس  سے متعلق بااعتبار ڈیٹا بیس بنانے میں  کسی کو  بھی دلچسپی نہیں  رہی۔اب وقت نے  مخالفین پر تنقید کا سنہرا موقع فراہم کیا ہے  جس کا ہر کوئی بھر پور فائدہ اٹھا  رہا ہے۔

مناسب  اور  اپ ڈیٹ ڈیٹا بیس  کے علاوہ ایک اور خامی سامنے آئی کہ  اداراتی سطح پر   معاشی  اور معاشرتی طور پر  کمزور طبقات کے لئے مناسب اور وسیع   سوشل سیفٹی نیٹ نہ  ہونے کے برابر ہے۔ لے دے کر بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ جو اب احساس کے نئے نام سے موجود ہے، بیت المال  کا  انتہائی محدود سیٹ اپ  ہے،  عشر و زکواۃ  کمیٹیاں  متروک و بے اثر۔  چند فلاحی اداروں کی کوششیں سر آنکھوں پر مگر ان کی رسائی ہرضرورت مند تک نہیں، اور پھر زندگی کے شب و روز کے تقاضے صرف راشن سے  پورے نہیں ہوتے۔

قومیں اداروں سے بنتی ہیں۔ ادارے سالوں کی مسلسل ریاضت اور محنت سے تشکیل پاتے  ہیں  جو  سیاست اور مفادات کی  لُو سے بچ کر ہی نمو پاتے ہیں۔  اللہ کرے کہ کووِڈ 19  کی ابتلا جلد ختم ہو مگر  ان کمزوریوں کی نشاندہی اگر یاد رہ  سکے  اور ایسے ڈیٹا بیس اور سوشل سیفٹی  نیٹ  ہر حکومت اپنی ذمہ داری سمجھ کر بنائے تو  کل کلاں کسی اور نئی ابتلاکے وقت پھر دوبارہ یہ تماشہ نہ ہو۔ 

ابتلا اور وبا کے اس دور میں  دیارِ غیر   میں پھنس  جانے والے  اپنے اپنے شہریوں  کا ان کی حکومتوں نے فوری ساتھ دیا اور انہیں چارٹرڈ طیاروں سے واپس لانے کے جتن کئے۔ پاکستان نے بھی کئی ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے  کا اہتمام کیا  لیکن اب بھی ہزاروں تارکین وطن امید، خوف اور مایوسی میں خلیجی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔  کینیڈا   میں مقیم ہزاروں  خاندان بھی اسی بیم و رجا کا شکار ہیں۔  ٹورانٹو کینیڈا کے اخبار  دی اسٹارکے مطابق   ائیر لاینز  یک طرفہ سفر کے لئے چار ہزار کینیڈین ڈالرز  تک کرایہ  مانگ  رہی ہیں۔ ہمارے پڑوس میں ایک خاندان اسی جبر کا شکار ہے اور صبح و شام واپسی کے جتن  میں مزید خوار ہو  رہا ہے۔ حکومت جہاں  دیگر طبقات کے لئے ریلیف پیکیج دے رہی ہے، پاکستان سے واپس جانے والے اور دیار  غیر سے ملک  آنے والوں کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پر  فلائٹس کا بندوبست کرے۔ پی آئی اے اور نجی ایئر لائنز کے طیاروں کا استعمال ان ائیر لائنز کے کام بھی آئے گا اور پھنسے ہوئے ہزاروں لوگ بھی  سکھ کا سانس لے سکیں گے۔