امریکہ میں مظاہرے، لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ
- اتوار 19 / اپریل / 2020
- 3970
امریکہ کی تین ریاستوں ٹیکساس، میری لینڈ اور اوہایو میں ہفتے کے روز لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ یہ ریلیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے منظم کی تھیں۔ مظاہرین دفاتر اور روزگار کے مقامات کو کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ادھر نیو یارک کے گورنر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بری طرح شکار ان کی ریاست آخر کار بظاہر صحت کے بدترین بحران سے باہر نکلنے لگی ہے۔ نیویارک امریکہ میں جاری وبا کا مرکز رہا ہے۔ ہفتے کے روز بتایا گیا کہ 17 اپریل کو ریاست میں کرونا وائرس سے مزید 540 جانیں ضائع ہوئیں، جو یکم اپریل سے اب تک کی یومیہ ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے۔
نیویارک میں اس وبا کے متاثرین کی تعداد اب کم ہورہی ہے۔ نیویارک کے گورنر، اینڈریو کومو نے ہفتے کے دن روزانہ بریفنگ کے دوران بتایا کہ ''اگر آپ گزشتہ تین دنوں پر نظر ڈالیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ شاید ہم بدترین صورت حال سے باہر نکلنے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو ایک اچھی خبر ہو سکتی ہے''۔
تاہم کومو نے بتایا کہ پھر بھی ہر روز کم از کم 2000 وائرس سے متاثرہ افراد کو اسپتالوں میں داخل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ نرسنگ ہومز سے 36 نئی ہلاکتوں کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جو شعبہ وبا کے دوران ملک بھر میں شدید متاثر ہوا ہے۔ ہمسایہ ریاست، نیو جرسی کے ہیلتھ کمشنر نے کہا ہے کہ صحت عامہ کی تنصیبات میں ہلاکتوں کی تعداد 40 فی صد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔
نیو جرسی نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 231 ہلاکتیں ہوئی ہیں، اور ریاست میں مجموعی ہلاکتیں بڑھ کر 4000 سے بڑھ چکی ہیں۔ ریاست کے گورنر فِل مرفی نے بتایا کہ انہیں سینیٹ کے ساتھی اور ڈیموکریٹ پارٹی کے اقلیتی قائد چَک شومر کا ٹیلی فون آیا جس میں انہوں نے بتایا کہ کانگریس میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اس وبائی مرض سے نمٹنے میں ریاستوں کے بجٹ کم پڑ رہے ہیں۔