کورونا سے بچوں کی ذہنی حالت متاثر ہوسکتی ہے: یونیسیف

  • اتوار 19 / اپریل / 2020
  • 7030

کورونا وائرس نے کی وجہ سے طبی مسائل کا شکار ہونے والے لوھگوں کے علاوہ اب یونیسیف نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اسکول بند ہونے اور مناسب سہولت اور تازہ ہوا کی کمی کی وجہ سے کروڑوں بچوں کی ذہنی حالت متاثر ہوسکتی ہے۔

یونیسیف کا خیال ہے کہ بچوں کے ذہنوں پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یونیسیف نے اپیل کی ہے کہ بچوں کو اس وبا کے مضر اثرات سے بچایا جائے۔ اقوام متحدہ کے چلڈرنز فنڈ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اس بات کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے کہ بچے بھی اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ادارے نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں بچے اس ماحول میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کے اثرات ان کی آئیندہ زندگی میں ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔

یونیسیف کے 'گلوبل ان سائٹ' شعبے سے متعلق لارنس چانڈے نے اپنی اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش ایک طرف بہت اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنی اگلی نسل کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی اور انہیں کورونا کے مہلک اثرات سے ممکن حد تک بچانا ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس وبائی مرض سے بڑوں کی نسبت بچوں کو کم خطرہ ہو۔ 60 فی صد بچے ایک ایسے ماحول میں رہ رہے ہیں جہاں لاک ڈاؤن ہے، سکول بند ہیں اور وہ گھر سے باہر تازہ ہوا میں سانس نہیں لے سکتے۔

چانڈے لکھتے ہیں کہ ''سکولوں میں صرف تعلیم ہی نہیں ملتی، بلکہ انہیں یہاں کھانا بھی ملتا ہے۔ اب یہ سب کچھ بند ہے۔ دنیا کے 143 ملکوں کے پچاس کروڑ بچے سکول لنچ سے محروم ہیں''۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول بند ہونے کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت پر بہت دباؤ ہے اور یہ خاندانی جھگڑوں سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ''یہ درست ہےکہ اس وبا سےجسمانی طور پر کم بچے شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کی ذہنی اور جسمانی صحت سے متعلق بہت ضرورتیں ادھوری چھوڑ دی گئی ہیں''۔ انہیں ویکسین شیڈول کے مطابق دستیاب نہیں۔ مثال کے طور پر انسداد پولیو کی مہم کئی سال پیچھے چلی جائے گی۔ 23 ملکوں میں خسرہ کی ویکسین نہیں دی جا رہی۔ زچہ و بچہ کو مناسب طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔ سب سے بڑھ کر ان کی پڑھائی لکھائی معطل ہے اور کھیل کود کی سرگرمیاں موقوف ہو چکی ہیں۔

یونیسیف نے عالمی سطح پر حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ کہ وہ کورونا کے خلاف یک طرفہ جنگ میں اپنے سارے وسائل صرف نہ کریں، بلکہ اس سلسلے میں وہ ایک متوازن رویہ اختیار کریں۔ ادارے نے کہا ہے کہ ''صرف کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی گنتی نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ اگلی نسل کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ان بچوں کی آئندہ زندگی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنا اور لوگوں کی زندگیاں بچانا ضروری ہے''۔