ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈی ننس جاری، سخت سزاؤں کا حکم

  • اتوار 19 / اپریل / 2020
  • 6250

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کو مجرمانہ فعل قرار دے دیا گیا ہے جس میں ملوث افراد کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس تیار کیا ہے جس کی صدر مملکت نے منظوری دے دی ہے۔ آرڈیننس کے چیدہ چیدہ نکات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا جو کوئی بھی آٹا، گندم، چینی،گڑ، گھی، دستانوں، ماسکس، سینیٹائزرز وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کرے اس کے سخت سزائیں مقرر کی گئیں ہیں۔

 سزاؤں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملوث افراد کو 3 سال قید کی سزا ہوسکے گی۔ اس کے علاوہ ذخیرہ کی گئی اشیا ضبط کرلی جائیں گی۔ قانون بنا دیا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی شروع کردیا ہے۔

حکومت نےانسداد اسمگلنگ آرڈیننس بھی تیار کرلیا ہے جسے وزیراعظم کے دفتر بھجوادیا گیا ہے جہاں اس پر غور کیا جارہا ہے اور آئندہ 2 سے 3 روز میں اسے بھی حتمی شکل دے دی جائے گی۔ انسداد اسمگلنگ آرڈیننس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ غیر اعلانیہ راستوں سے پاکستان سے باہر ڈالر کی اسمگلنگ کی روک تھام اور گندم، چینی، آلو وغیرہ کی سمگلنگ عوامی مفاد کے خلاف ہے اور وبائی صورتحال میں ضروری ہے کہ ان تمام اشیا کی غیر اعلانیہ راستوں سے اسمگلنگ روکی جائے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس آرڈینسس میں فوکل پوائنٹ محکمہ کسٹم ہے لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو کسی بھی ادارے مثلاً آئی ایس آئی، ایم آئی، لیویز، کوسٹڑ گارڈز، ایف آئی اے یا آئی بی کو معاونت کے لیے اختیار دے سکتا ہے۔

آرڈیننس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ ضلعی انتظامیہ کے پاس خاصی معلومات ہوتی ہے لہٰذا ضلعی انتظامیہ یا کسی بھی شخص کے پاس اگر کوئی معلومات ہو تو وہ متعلقہ شخص کو معلومات فراہم کرے جس کی نقل سیکریٹری قانون کو ارسال کی جائے گی۔ سیکریٹری قانون اس بات کا جائزہ لیں گے کہ معلومات فراہم کرنے کی صورت میں متعلقہ ادارے نے اس پر کام کیا یا نہیں اور ایک رپورٹ تیار کر کے جواب دہی کریں گے۔

انہوں نےبتایا کہ ذخیرہ اندوزی کے آرڈیننس میں مارکیٹ میں ساز باز کرنے کو مجرمانہ فعل قرار دیا گیا ہے۔ آرڈیننس کے تحت سمری ٹرائل مجیسٹریٹ کریں گے جبکہ اسمگلنگ کے خلاف سمری ٹرائل خصوصی جج کریں گے جنہیں چیف جسٹس کی مشاورت سے تعینات کیا جائے گا۔