خُدا کا لشکر ۔۔۔ کرونا
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 19 / اپریل / 2020
- 9440
( یہ ایک مجذوب کی ڈائری کے اقتباسات ہیں )
کرونا نام کی یہ وبا کیا ہے اور ہم پر یہ بلا کیوں نازل ہوئی ہے؟
یہ بات کوئی نہیں جانتا مگر یہ طے ہے کہ انسانی بستیاں وباؤں کی آمدو رفت کی قدیم سے شاہراہ رہی ہیں ۔ کبھی طاعون ، کبھی زرد بُخار ، کبھی ملیریا ، کبھی گردن توڑ بُخار ، کبھی فلو اور کبھی کرونا ۔ مگر ہم جو وقت اور خلا کی اولاد ہیں ، ابھی تک یہ سمجھ نہیں پائے کہ وقت تاریخ کا وہ پروٹوکول ہے ، جو خلا کی الواح پر رقم ہے اور اس میں جو سانحات درج ہیں وہ عام انسانی نظروں سے اوجھل ہیں ۔۔
انسان اپنے حواسِ خمسہ کے محدود وسائل کے ذریعے جنم سے موت کے درمیان کے بعض حالات ، واقعات اور سانحات کو یاد رکھ سکتا ہے مگر وقت کی اپنی یاداشت اتنی قوی ، کُشادہ اور تیز ہے کہ وہ جنم سے پہلے اور موت کے بعد کی باتیں اور وارداتیں بھی یاد رکھتا ہے ۔جی ہاں ، وقت کو سب یاد ہوتا ہے اور رہتا ہے کہ ہم نے اور تُم نے ان بہتر سالوں میں ، جن کو تم اپنی آزادی کے سال کہتے ہو ، کیا کیا گل کھلائے ، کس کس آسمان کے کتنے تارے توڑے ؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ آزادی کے یہ سال مجرمانہ غفلت اور بے لگامی کے سال ہیں ، جسے ہم تم نہیں جانتے کیونکہ ہم اپنے بہت سے کرتوتوں کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور تاریخ کے آئینے میں ہمیں اپنا چہرا دیکھتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ ہمیں کشادہ دلی سے یہ اعتراف کرنا بھی نہیں آتا کہ ہم سے بہت سے کام ہماری جہالت کی بنا پر سرزد ہو جاتے ہیں ، جسے ہم پالیسی کا نام دیتے ہیں ۔
وہ قطعہ ء زمین جس کو ہم نے اپنا وطن بتایا ، جس کی ہواؤں میں سانس لی اور جس کی مٹّی میں اُگا رزق ہم کھا رہے ہیں ، وہ ہمارے نامہ ء اعمال کی امین ہے ، جس کے کچھ اندراجات تو ہم نے دانستہ بدل دیے ہیں اور بنگلہ دیش جیسے کچھ واقعات سے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے ۔ زندگی کی ساری خوش اطوریاں اور بد کاریاں زندگی کا متن ہیں ۔ اور ہمارے اعمال ہماری نیتوں پر مبنی ہیں اور ہماری کارکردگی یہ ہے کہ ہم لوگ ملک کو مجموعی طور پر پر امن ، ترقی یافتہ اور خوش حال بنانے کے بجائے اپنے نجی اور گروہی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں جس نے ہر شخص کو اپنی جگہ بر خود غلط ، کرپٹ اور بد کردار بنا دیا ہے ۔ ممکن ہے میرے اس بیان پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا جائے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان بہتر سالوں میں ہمارے وہ ادارے جو قوم کی اخلاقیات اور رزقِ حلال کمانے کی صلاحیتوں کو سنوارنے اور بہتر بنانے کے لیے خُدا کے احکامات اور نبی ء آخرلزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تحت قائم تھے ، اپنا فرض ادا نہیں کر سکے اور نہ ہی وہ ملی تشخص اور قومی کردار تخلیق کر سکے ہیں جو اسلام کا مطمحِ نظر ، نصب العین اور ہدف ہے ۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ جس مذہب کو مذاہبِ عالم کا امام بنایا گیا اور وہ تمام رسول اور نبی جن کی رسالتوں پر ختم الرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی اور مہرِ تصدیق رقم ہے ، اس کے علمبردار ا س عہد میں اپنے منصب پر پورے نہیں اترے جو نہ صرف اسلام سے غداری ہے بلکہ اُس کی وجہ سے خُدا کی پوری دنیا میں اضطراب ، بے چینی اور خوف کا دور دورہ ہے ۔ اور اُس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وقت کے مذہبی ٹھیکیداروں نے اس متبادل دین کو جو انہوں نے اسلام کے نام پر خود وضع کیا ہے ، عالمی سرمایہ داری کا غُلام بنا دیا ہے جس کا مطلب مذہب سے انکار اور لا محالہ کفر ہے ۔ ، جس کی وجہ سے اقوامِ عالم ، خُدا کے لشکر کرونا کی ہِٹ لسٹ پر ہیں ۔یہ انسانی اعمال کی سزا ہے ۔ اگر آپ ملحد ہیں ، لبرل ہیں یا روشن خیال مسلمان تو آپ کو یہ حق ہے کہ آپ میرے اس خیال پر دل کھول کر ہنسیں کیونکہ میری مذہبی کوتاہ نظری میں جو وسعت اور دروں بینی ہے وہ افق کے پار جھانکنے والوں سے مستعار ہے ۔
لیکن اس کا سبب کیا ہے؟
یہ جاننے کے لیے ذرا اپنے ملک کے گلی کوچوں کا جائزہ لیں تو جا بجا کوڑے کے ڈھیر اور کچرا کُنڈیاں نظر آئیں گی جو جراثیم پالنے کی فیکٹریاں ہیں ۔ جگہ جگہ ٹھیرے پانیوں کے جوہڑ جہاں ڈینگی مچھر پالے جاتے ہیں اور ہم نے بڑے اہتمام سے اپنے سب سے بڑے شہر میں مچھر کالونی نام کی بستی بسا رکھی ہے جو مچھروں کے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ اس لیے کہ یہاں جو مچھر پالے ہیں اُس مچھر کی نسل سے ہیں جس نے نمرود کو ہلاک کیا تھا ۔ ان بستیوں کے اطراف میں جابجا غیر ضروری انسانی تجاوزات ، آوارہ بچے اور کُتے ، بندر ، منشیات میں غرق نوجوان جو زندہ بدست مردہ ہیں ، چوہے ، کیڑے ، تعلیم سے محروم ڈھائی کروڑ بچے ، جنسی بے راہروی کے شہزادے ، اٹھائی گیرے ، دن دیہاڑے لوٹ مار کرنے والے ماڈرن ڈاکو اور ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی ، سیاہ کاری اور جرم کے ایک ہی جیڈ کے مختلف شیڈ ہیں ۔ اور ہم میں سے ہر شخص اس صورتِ حال کا ذمہ دار بھی ہے اور جواب دہ بھی ۔
اور یہ باطنی اور ظاہری غلاظتیں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں ، ایک ہی کاغذ کے دو صفحے ہیں اور انسان کی ذمہ داری ہے کہ ان غلاظتوں کو صاف کرے اور پاکیزگی اور صفائی کا اعلیٰ معیار قائم رکھے لیکن جب انسان اپنی ذمہ داری پوری نہ کر رہا ہوں تو آسمان یہ کام اپنے ذمے لے لیتا ہے اور پھر وہی ہوتا ہے جس کی طرف اشارہ سر تھامس مالتھس نے اپنے نظریہ ء آبادی میں کیا تھا ۔ یہی بات رب کی اپنی کتاب میں بھی درج ہے کہ آسمان اس کثرتِ آبادی سے نالاں ہے اور اسے توازن میں لانا چاہتا ہے تاکہ آبادی اور وسائل میں توازن قائم ہو اور ایسے لوگ اللہ کی زمین کو آباد کریں جو انسانیت کا بوجھ اُٹھا سکیں ۔ قرآن نے خلقِ جدید کا ایک تصور دیا ہے کیونکہ کہنہ فکر لوگ تخلیق کی نئی سطحوں کو دریافت نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ سورہ ء فاطر کی سولہویں آیت میں کہا گیا کہ :
تیرا رب چاہے تو تم لوگوں کو نابود کردے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق کو لے آئے ۔
اور میں گمان کرتا ہوں کہ خُدا کا لشکر کرونا پُرانی ، دقیانوسی اور کار از رفتہ مخلوق کی جگہ نئی مخلوق کی آمد کی راہ ہموار کر رہا ہے ۔ قسم وحدہ لا شریک کی