شمالی وزیرستان: چیک پوسٹ پر حملے میں 5 دہشت گرد ہلاک

  • سوموار 20 / اپریل / 2020
  • 6820

افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کی بویہ چیک پوسٹ پر نامعلوم دہشت گردوں نے حملہ کر کے ایک سیکیورٹی اہلکار کو شہید کردیا۔  سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں پانچ  دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

جھڑپ کے بعد دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری رہا۔ جس سے مقامی آبادی کے لوگ بھی نشانہ بنے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق فائرنگ کے دوران قریبی گھر کے اندر ایک خاتون گولی لگنے سے زخمی ہوئی ہے۔ جنہیں میران شاہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق جدید خود کار ہتھیاروں سے لیس حملہ آوروں کے حملے میں حولدار اکبر شہید ہوا ہے۔ زخمی ہونے والوں میں سپاہی سعید، یاسر اور شفقت شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں پانچ  دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے بارے میں  تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

میران شاہ میں سول انتظامیہ کے عہدیداروں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور علاقے میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی ہے۔ شمالی وزیرستان کے اس علاقے میں ذرائع ابلاغ کو رسائی حاصل نہ ہونے کے سبب آزاد ذرائع سے فوجی حکام کے ان دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان جھڑپوں میں دونوں جانب سے دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں پر بعض قوم پرست سیاسی جماعتیں اور افراد تحفظات کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد سوات، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند اور دیگر علاقوں سے افغانستان فرار ہونے والے دہشت گرد اب واپس سرحدی علاقوں یا ملک بھر کے شہری علاقوں میں منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔