کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے نمازیوں اور اماموں کو رہا کرنے کا حکم
- سوموار 20 / اپریل / 2020
- 3930
ملک کے علما و مشائخ نے کورونا وائرس کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کی لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کی مکمل حمایت کی ہے۔ وزیراعظم سے اسلام آباد میں علما کے ایک وفد نے ملاقات کی اور انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
وفد میں پیر امین الحسنات شاہ، پیر شمس الامین، پیر نقیب الرحمٰن، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا طاہر محمود اشرفی، مولانا حامد الحق حقانی، حافظ غلام محمد سیالوی، علامہ راجا ناصر عباس، صاحبزادہ پیر سلطان فیاض حسین، مفتی مولانا سید چراغ دین شاہ اور مولانا ضیا اللہ شاہ شامل تھے۔
گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، مفتی منیب الرحمٰن اور مفتی تقی عثمانی نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔ علاوہ ازیں علامہ شہنشاہ حسین نقوی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے پریس کانفرنس میں ملاقات کی تفصیلات بتائیں۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ملک میں کورونا وائرس سے متعلق حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی پر گرفتار کیے گئے خطیب، امام اور نمازیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت کورونا کو پھیلاؤ سے بھی روکنا ہے اور اپنی زندگی کو بھی رواں دواں رکھنا ہے اور علما نے وزیراعظم کی اس سوچ کو خراج تحسین پیش کیا اور اسے اسلام دوستی اور انسان دوستی کا آئینہ دار قرار دیا۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے علما کے تمام مطالبات سنے۔ بہت سے علما نے یہ تجویز دی تھی کہ آنے والے جمعہ کو یوم توبہ یا یوم رحمت کے طور پر منایا جائے۔ علما کو وزیراعظم کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ہمارے امام، موذن اور خطیب جو اس وقت مشکلات کا شکار ہیں، انہیں نظر انداز نہیں کریں گے اور جلد ہی وزیراعظم کوئی ایسا پروگرام متعارف کروائیں گے جس سے ان کی داد رسی ہو۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے پی ٹی وی کو ہدایت کی ہے کہ گھر میں موجود مدارس کے طلبہ و طالبات کے لیے بھی ایسا پروگرام شروع کریں تاکہ ان کے حفظ اور قرآنی تعلیم سے جڑا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ علما کا مطالبہ تھا کہ جس طرح دیگر شعبوں میں یوٹیلیٹی بلز کو مؤخر کیا ہے اسی طرح مساجد، مدارس، امام بارگاہ اور دیگر مذہبی اداروں کے لیے کیا جائے، جس پر وزیراعظم نے اس معاملے کو معاشی ٹیم کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے علمائے کرام کو کورونا وائرس کے خلاف یک زبان ہوکر مقابلہ کرنے کے لیے جو کردار ادا کرنے کا کہا گیا ہے اس پر عمران خان نے اُمید ظاہر کی ہے کہ علما انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ مساجد کو کھولنے سے متعلق اعلامیے پر انہوں نے کہا کہ اُمید ہے کہ علما اس پر عملدرآمد کریں گے اور اگر اس کی خلاف وزری ہوتی ہے تو حکومت اقدام کرنے کی مجاز ہوگی۔
وزیراعظم نے ملک میں کورونا وائرس سے متعلق حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی پر گرفتار کیے گئے خطیب، امام، نمازیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کو مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمٰن نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ سود کے بغیر معیشت کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تو وزیراعظم نے اس پر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں کو ہدایات دی ہیں جبکہ مدارس کو بغیر سود کے قرضوں کے اجرا کے لیے ایک حکمت عملی بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
اس موقع پر وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو آگے آنا ہوگا۔ علما سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ آج کی ہماری نشست بہت کامیاب رہی اور تمام مسالک کی نمائندہ شخصیات نے شرکت کی اور سب نے وزیراعظم کو اپنے تعاون اور حمایت کا یقین دلایا اور وزیراعظم کی معتدل پالیسی کی حمایت کا اظہار کیا۔
نورالحق قادری کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ ہم کورونا وائرس سے متعلق مہم میں بظاہر ہم ایک مشکل فیصلہ کرچکے ہیں کہ نمازوں اور تراویح کے لیے مساجد کو پورا رمضان کھلا رکھا جائے اور وزیراعظم چاہتے تھے مساجد آباد رہیں اور قرآن پاک اور تراویح کی رونق بحال رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے علما سے گزارش کی کہ 20 نکاتی لائحہ عمل پر سختی سے کاربند ہوں تاکہ خدانخواستہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی ذمہ داری علما، مساجد یا ائمہ پر نہ آئے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ جمعہ یا تو رمضان المبارک کا پہلا جمعہ ہوگا یا شعبان کا آخری جمعہ ہوگا اور اس سلسلے میں علما کی طرف سے اپیل کی گئی کہ اسے یوم توبہ اور یوم رحمت کے طور پر منایا جائے جس پر وزیراعظم کی پوری قوم سے اپیل ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کریں، استغفار کریں اور اس کی رحمت کے طلبگار ہوجائیں۔
وزیراعظم نے وزارت تعلیم کو کہا ہے کہ جس طرح باقی تعلیم کی آن لائن تعلیم کی بات ہورہی ہے اسی طرح قرآن پاک کی تعلیم کا بھی آن لائن اہتمام کیا جائے۔