مقبوضہ کشمیر میں خاتون صحافی کے خلاف غداری کا مقدمہ

  • منگل 21 / اپریل / 2020
  • 4070

مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے ایک خاتون صحافی کو غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے تحت گرفتار کرلیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق 26 سالہ مسرت زہرا کو سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتارکیا گیا ہے۔

سری نگر کی فوٹو جرنلسٹ خاتون پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے فیس بک پر نوجوانوں کو ریاست مخالف جرائم کے لیے اکسانے کا مواد پوسٹ کیا۔ سری نگر میں سائبر کرائم پولیس اسٹیشن سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں مستند ذرائع سے خبر ملی تھی مسرت زہرا فیس بک پر مجرمانہ انداز میں ریاست مخالف پوسٹس کررہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کے صارفین کا بھی ماننا ہے کہ اپ لوڈ کی گئیں تصاویر نقص امن کا باعث بن سکتی ہیں اور صحافی ریاست مخالف سرگرمیوں کی حمایت بھی کررہی ہیں۔ بھارتی پولیس نے خاتون صحافی کی فیس بک پوسٹس کے حوالے سے کہا کہ ان کی پوسٹس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تشخص مسخ ہورہا ہے، اس کے علاوہ ملک کے خلاف اثرات پڑرہے ہیں۔

پولیس نے مزید کہا کہ ایف آئی آر ہفتے کو درج کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ متنازع قانون یواے پی اے حکومت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو دہشت گرد قرار دے اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اس طرح کے کیسز کی تفتیش کرسکتی ہے۔ اس قانون کے تحت 7 سال تک سزا ہوسکتی ہے۔  

مسرت زہرا نے الجزیرہ کو  بتایا کہ پولیس اور حکومت مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ میں صحافی ہوں، وہ کہہ رہے ہیں میں فیس بک صارف ہوں۔ مسرت زہرا نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ گزشتہ برسوں کے دوران شائع ہونے والے کام کو فیس بک پر دوبارہ پوسٹ کرنے پر درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی پرانی تصاویر کو جاری کرتی رہتی ہوں جو پہلے ہی بھارتی اور دنیا کے مختلف اداروں یا سوشل میڈیا میں شائع ہوچکی ہوتی ہیں جس پر میرے خلاف مقدمہ بنایا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسرت زہرا کی کھینچی ہوئی تصاویر واشنگٹن پوسٹ، دی نیو ہیومنیٹیرین، ٹی آر ٹی ورلڈ، الجزیرہ اور دیگر اخبارات اور سوشل میڈیا میں شائع ہوتی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں نے پولیس کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ کشمیر پریس کلب کی جانب سے جاری بیان میں خطے کے صحافیوں پر لگنے والے الزامات کی مذمت کی گئی اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ جب دنیا وبا میں جکڑی ہوئی ہے، جب ہمیں کووڈ-19 کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے تو ایسے میں پولیس نے صحافیوں کے خلاف مقدمات بنانے اور انہیں ہراساں کرنا شروع کردیا ہے۔