کورونا کے باعث صدر ٹرمپ نے امیگریشن پر عارضی پابندی لگادی
- منگل 21 / اپریل / 2020
- 3760
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے پیشِ نظر امیگریشن پر عارضی پابندی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے احتجاج میں بھی شدت آ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ان کی حکومت کو کورونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کے لیے اقدامات میں تاخیر کے الزامات کا سامنا ہے۔ پیر کو صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ نظر نہ آنے والے دشمن کے حملوں اور امریکی شہریوں کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے وہ امیگریشن پر عارضی پابندی کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات میں تاخیر اور بیانات پر صحافیوں کے سخت سوالات کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران وہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے چین سے آنے والی پروازوں کا داخلہ روک دیا تھا۔
امریکہ کورونا وائرس سے دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ امریکہ کی جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک 42 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور متاثرہ مریضوں کی تعداد سات لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے باعث امریکی معیشت مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ملک بھر میں دو کروڑ سے زائد افراد بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔ تیل کی طلب میں کمی کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ امریکی خام تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکہ کی کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن ہے اور لوگ گھروں تک محدود ہیں۔ دوسری جانب پنسلوانیا سمیت دیگر ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج بھی جاری ہے۔
صدر ٹرمپ بھی لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے خواہش مند ہیں اور اس حوالے سے وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ لوگ جلد معمول کے مطابق زندگی گزاریں گے، ملک کی معیشت کا پہیہ چلے گا اور لاک ڈاؤن ختم ہو جائے گا تاہم بعض ریاستوں کے گورنرز لاک ڈاؤن ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
متعدی امراض کے امریکی ماہر اور کورونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ جب تک کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا جاتا اس وقت تک ملک کی معیشت بحال نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے مظاہرین سے بھی اپیل کی کہ وہ ریاستوں کے گونرروں کے حکم پر عمل کریں اور گھروں تک محدود رہیں۔ تاہم مظاہرین نے ڈاکٹر فاؤچی کی برطرف کا مطالبہ کرتے ہوئے لاک ڈاؤن ختم کرنے اور کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔