کووڈ-19 کے خلاف جنگ: وقت، فاصلہ اور حفاظتی ڈھال
- تحریر عائشہ یونس
- منگل 21 / اپریل / 2020
- 8960
آج کل ہر طرف کووڈ-19 سے بچاؤ کی مہم جاری ہے۔ کووڈ-19ایک وائرس ہے جو نظامِ تنفس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کمزور قوت مدافعت والے لوگ، عمر رسیدہ یا مریض اشخاص کے لئے یہ حملہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ بہت سارے متاثرہ افراد کو اس سے نمٹنے کے لئے ہسپتال میں داخل ہو کر علاج کروانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
یہی وجہ ہے ساری دنیا اس وائرس کی روک تھام کے لئے اکٹھی ہو کر دامے، درمے، سخنے جدو جہد کر ہی ہے۔ آخر کار یہ انسانی بقا کا معاملہ ہے۔ اس وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری کا علاج یا ویکسین ابھی تک دریافت نہیں ہوئی۔ اس طرح ابھی تک اس وائرس کے اثرات کو روکنے کا کوئی ذریعہ نہین ہے۔
ان حالات میں مقابلے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے۔ یہ وائرس انسان کے منہ، ناک اور پھیپھڑوں میں موجود رطوبت کے ذریعے سے پھیلتا ہے۔اس رطوبت کا ایک شخص سے دوسرے تک پہنچنا بہت معمولی بات ہے۔ مثلًا انسان کے چھینکنے اور کھانسنے سے اس رطوبت کے ننھے منے، اکثر عام آنکھ سے نظر نا آنے والے قطرات اس کے اردگرد پھیل جاتے ہیں اور قریب موجود افراد کے منہ، ناک، آنکھ اور کان تک براہ راست پہنچنے کے علاوہ، کچھ دیر ہوا میں معلق رہ کر کسی چیز پر اور پھر وہاں سے اس انسان تک (جو بے شک چھینک کے دوران وہاں موجود نہ ہو)پہنچ سکتے ہیں جو اس چیز کو چھوۓ۔چھینکنے اور کھانسنے میں اپنا ہاتھ استعمال کرنے سے یہ قطرے ہاتھ پر لگ جاتے ہیں اور ہر اس چیز تک پہنچ سکتے ہیں جس کو چھینکنے والا شخص ہاتھ سے چھوئے۔ منہ یا ناک کے قریب کی جلد کو ہاتھ لگانے سے بھی یہ ہاتھ پر منتقل ہو سکتے ہیں اور پھر وہاں سے آگے کے سفر سے تو آپ واقف ہو ہی چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سماجی دوری کا مشورہ دیا جارہا ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے رعکا جاسکے۔ سوشل ڈسٹنسنگ یا معاشرتی میل ملاپ کو کم کرنے سے یہ مقصد کیسے حاصل ہو رہا ہے؟ سوشل ڈسٹنسنگ کے پیچھے کیا اصول کار فرما ہیں؟ اور اس کو کیسے صورتحال کے مطابق ڈھالا جائے؟ اس کو سمجھنے کے لئے ایک عمدہ مثال موجود ہے۔
اگر جوہری یا تابکاری صنعتوں کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہم لاشعوری طور پر اس کو بہت جگہ پر استعمال کرتے ہیں۔آئیے پہلے جوہری اور تابکاری صنعتوں کی بات کرتے ہیں۔ اگر کسی انسان کو ایک حد سے زیادہ تابکاری سہنا پڑ جائے تو اس کے بیمار ہونے یا مر جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ حد سائنس دانوں نے بہت سوچ بچار اور تجربات کے بعد متعین کی ہے۔ اس کو لاگو کرنے کے لئے تین چیزوں پر نظر رکھی جاتی ہے: وقت، فاصلہ اور ڈھال-کم وقت تابکاری کے مخزن کے نزدیک گزارنے سے
کم شعاعیں انسان تک پہنچتی ہیں - تابکاری کے مخزن اور انسان کے درمیان کسی حفاظتی ڈھال کی موجودگی سے بھی تابکاری کو اس انسان تک پہنچنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے تابکاری کے مخزن کے قریب گزرنے والے وقت کو کم نہ کیا جا سکتا ہو، تو مقرر کردہ حد میں رہنے کے لئے فاصلہ یا ڈھال کو بڑھانا ہو گا۔
اگر ڈھال موجود نہ ہو تو وقت کو کم سے کم اور فاصلے کو زیادہ رکھنا ہو گا۔ اور اگر فاصلہ پر رہنا ممکن نہ ہو، تو وقت کو کم اور ڈھال کو زیادہ کرنا ہو گا۔ غرضیکہ اصل مقصد انسان تک پہنچنے والی تابکاری کی مقدار کو کم کرنا ہے۔
چیزیں، یعنی وقت، فاصلہ اور ڈھال، ہمارے اختیار میں ہیں۔ ان میں کمی بیشی سے تابکاری کی مقدار پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اب آتے ہیں کووڈ-19 کی طرف۔ سب سے پہلے یہ یاد دہانی کروانا ضروری ہے کہ وائرس یا تو براہ راست (ہوا سے) ناک یا منہ تک پہنچے گا یا ہاتھ کے ذریعے سے۔ اگر میں کسی کووڈ۔ 19 سے متاثرہ شخص کے قریب زیادہ وقت گزاروں تو زیادہ اندیشہ ہے کہ کوئی وائرس والی رطوبت مجھ تک پہنچ جائے۔ مثلًا جیسے جیسے وقت گزرے گا، اپنے آلودہ ہاتھ سے منہ، ناک یا آنکھ کو بے اختیار چھونے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔ لیکن اگر کسی شخص کے پاس وقت گزارنا ضروری ہو (مثلًا ہمسائے کا حال چال پوچھتے ہوئے)تو پھر فاصلہ (کم از کم دو میٹر) رکھنا ضروری ہے۔ دو میٹر کے فاصلے سے کسی دوسرے شخص کی رطوبتیں آپ تک پہنچنے کا اندیشہ کم ہے۔ اور اگر آپ کو بہت زیادہ وقت کسی کے ساتھ گزارنا ہے تو حالات کے مطابق آپ کو کوئ ڈھال استعمال کرنی ہو گی۔
ڈھال نہ صرف وائرس کو براہ راست آپ تک پہنچنے سے روکے گی، بلکہ آپ کو اپنے ہاتھوں
کو چہرے سے دور رکھنے میں بھی معاون ہوگی۔ مثلًا بازار یا دفتر میں منہ ڈھانپ لیں۔ جہاں موجود دوسرے افراد کے قریب ہیں تو ماسک مفید ہوگا۔ اگر کوئی بیمار ہے آپ کو ان کے قریب رہنا ہے (مثلًا آپ کسی مریض کی تیمار داری کر رہے ہیں) تو آپ کے لئے
طبی معیار کا ماسک پہننا بہترین بچاؤ ہے۔ سوشل ڈسٹنسنگ کا مقصد وائرس سے آلودہ ماحول میں گزارے جانے والا وقت کم کرنا، آلودگی کے ممکنہ ماخذ (جو میں اور آپ ہیں) سے فاصلہ بڑھانا اور وائرس سے بچنے کے لئے ڈھال استعمال کرنا ہے۔ اور بوقتِ ضرورت ان تین ہتھیاروں (وقت، فاصلہ اور ڈھال) میں ردو بدل کرنے سے اس وائرس کا مقابلہ کرنا ممکن ہے۔
یہاں یہ یاددہانی بھی ضروری ہے کہ سوشل ڈسٹنسنگ ہاتھوں کی صفائ برقرار رکھے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔