پاکستان میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں پس و پیش
- بدھ 22 / اپریل / 2020
- 4500
دنیا کے کئی ممالک میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ میں اس حوالے سے تاحال کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) اور ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کے ارکان کی مجموعی تعداد 446 ارکان ہے۔ تاہم کسی بھی رکن کی جانب سے قانون سازی کا کوئی بل سامنے نہیں آیا البتہ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی ہے۔
قانون کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ایک سال میں 130 دن کا سیشن مکمل کرنا ہوتا ہے۔ سینیٹ کا 12 مارچ کے بعد سے اب تک کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ قومی اسمبلی کے بھی ابھی صرف 100 دن مکمل ہوئے ہیں اور جولائی تک انہیں بھی 130 دن مکمل کرنے ہیں۔
اس بارے میں سینئر صحافی اور پارلیمانی رپورٹرز ایسویسی ایشن کے سابق صدر صدیق ساجد کہتے ہیں کہ اس وقت ارکان پارلیمنٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ خود خوف کا شکار ہیں۔ ان کے بقول حکومت کی طرف سے اعلان نہیں کیا گیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر کام کرنے والے تین ملازمین کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد بیشتر ملازمین کو پارلیمنٹ آنے سے روک دیا گیا ہے۔
اسپیکر اسد قیصر کی کوشش ہے کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس بلایا جائے لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) اس سے انکار کر رہی ہے۔ اسپیکر آئینی تقاضہ پورا کرنے کے لیے اجلاس بلانا چاہتے ہیں۔ بعض ارکان پارلیمنٹ میں بھی اس حوالے سے خوف پایا جاتا ہے۔ صدیق ساجد نے کہا کہ اس کی ایک اور وجہ پارلیمان کو اہمیت نہ دینا بھی ہے۔ موجودہ دور حکومت میں عوام کے منتخب نمائندے بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور قانون سازی کا کام رکا ہوا ہے۔
ان کے مطابق یوں لگتا ہے کہ ان کی بات کی کوئی اہمیت نہیں۔ 25 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنی لیکن اس نے بھی اب تک کوئی کام نہیں کیا۔ جو سفارشات پیش کی گئیں ان پر بھی کوئی عمل نہیں ہوا۔ ماضی میں عمران خان اس پارلیمنٹ کو ڈیبیٹنگ کلب کہتے رہے، اسی وجہ سے وہ اسے اہمیت دینے کو بھی تیار نہیں۔
پارلیمان کا اجلاس کیوں نہیں بلایا جا رہا اور اس کو اہمیت کیوں نہیں دی جا رہی؟ اس سوال پر وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا اسپیکر قومی اسمبلی کا استحقاق ہے وہ جب چاہیں گے اجلاس بلا لیں گے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے حکومت اسپیکر کو ہدایات نہیں دے سکتی۔ پارلیمنٹ ایک خود مختار ادارہ ہے اور اسپیکر اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں لہذا حکومتی ترجمان ہونے کی حیثیت سے وہ اس پہ زیادہ تبصرہ نہیں کرسکتے۔
معروف سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کا کام اجتماعی دانش کو سامنے لانا ہے۔ جب کوئی بحران ہو تو اس وقت ارکان پارلیمنٹ مل کر بیٹھتے ہیں اور اس کا حل نکالتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں ایسا کوئی عمل نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خطرے کا بہانہ بنا کر اجلاس نہ بلانا درست نہیں۔ اس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ حفاظتی اقدامات کیا ہوں۔ یہ اسپیکر اور دیگر ادارے مل کر فیصلہ کریں لیکن اجلاس ضرور بلانا چاہیے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کا تعلق مختلف علاقوں سے ہوتا ہے وہ اپنے علاقے کے مسائل اور وہاں استعمال میں لائی جانے والی دانش اور فیصلوں کو اپنے علاقوں سے پارلیمان میں لاتے ہیں جب کہ یہاں سے ہونے والے اجتماعی فیصلوں کو اپنے علاقوں میں لے کر جاتے ہیں لیکن یہاں تو بالکل خاموشی ہے اور ارکان پارلیمان سے کچھ پوچھا ہی نہیں جا رہا۔
سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا سیشن نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پارلیمان کی کمیٹیاں حکومت کے کام کی نگرانی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں محدود سطح پر سہی لیکن وہاں اجلاس ہو رہے ہیں۔ اس وقت عوام کی نظریں پارلیمان کی طرف ہیں اور پارلیمان خاموش بیٹھی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن قومی اسمبلی میں جمع کروا دی ہے۔ قومی اسمبلی کے 98 ارکان کے دستخطوں سے جمع ہونے والی اس ریکوزیشن میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے حوالے سے حکومتی اقدامات، بیرون ممالک سے آنے والی امداد، اب تک کیے گئے اخراجات، ٹائیگر فورس کی قانونی حیثیت، چینی و گندم بحران کے حوالے سے ایف آئی اے کی رپورٹ پر بحث اور تمام معلومات عوام تک پہنچانے کے لیے اسمبلی کا اجلاس بلانا ضروری ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن کے بعد اسپیکر کے لیے لازم ہے کہ وہ آئندہ 14 دن کے اندر اجلاس طلب کریں۔ حکومت کے لیے مشکل مرحلہ بجٹ کا ہے جس کے لیے اجلاس بلانا ضروری ہے۔ ایف بی آر میں بجٹ کی تیاری جاری ہے لیکن اس بار سیشن کیسا ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔