ملیریا کی ادویات کورونا کے علاج میں بے اثر اور نقصان کا باعث ہیں: رپورٹ
- بدھ 22 / اپریل / 2020
- 6660
امریکی حکومت کی معاونت سے ہونے والے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے ملیریا کی ادویات کا استعمال بے اثر بلکہ اموات میں اضافے کا بھی باعث بن رہا ہے۔
گو کہ اس اسٹڈی کا دائرہ کار محدود ہے لیکن اس میں کہا گیا ہے کہ جن مریضوں کو ملیریا کی ادویات دی گئی اُن کی شرح اموات علاج کے دیگر طریقوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملیریا کی ادویات سے علاج کو سود مند قرار دیا تھا۔ جس کے بعد دنیا بھر میں 'ہائیڈروکسی کلوروکوئن' نامی دوا کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
جائزے میں امریکہ میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے 368 سابق فوجی اہلکاروں کے میڈیکل ریکارڈ کو بنیاد بنایا گیا۔ جو 11 اپریل تک اسپتالوں میں زیرِ علاج رہ کر صحت یاب ہوئے یا ہلاک ہوئے۔ مطالعے میں انکشاف ہوا کہ جن مریضوں کو صرف 'ہائیڈروکسی کلوروکوئن' دی گئی اُن کی اموات کی شرح 28 فی صد تھی۔ جن مریضوں کو یہ دوا 'ایزتھرومائسیین' کے ساتھ دی گئی اُن کی اموات کی شرح 22 فی صد تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن مریضوں کو ان ادویات کے بجائے معمول کی طبی امداد دی گئی اُن کی اموات کی شرح صرف 11 فی صد تھی۔ محقیقین کا کہنا ہے کہ عام طور پر یہ ادویات زیادہ بیمار مریضوں کی دی گئیں۔ لیکن دیگر مریضوں کو بھی یہ دوا دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس سے اموات میں اضافہ ہوا۔ البتہ اس مطالعے پر سوالات بھی اُٹھائے جا رہے ہیں کہ اس میں سروے کے مروجہ اُصولوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ مریضوں کی درجہ بندی نہیں کی گئی۔
تاحال اس رپورٹ کا عام نہیں کیا گیا کیوں کہ تحقیق کے لیے 65 سال سے زائد عمر کے زیادہ تر سیاہ فام افراد کا انتخاب کیا گیا۔ جن میں سے بیشتر دل اور ذیابیطس کے مریض بھی تھے۔ لہذٰا ماہرین کا کہنا ہے کہ ان افراد کی اموات کی وجہ نظام تنفس میں خرابی کے علاوہ بھی ہو سکتی ہے۔ 'ہائیڈروکسی کلوروکوئن' کئی دہائیوں سے ملیریا کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ البتہ کورونا وائرس کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں میں اس دوا کا استعمال تاحال جاری ہے۔
اس سے پہلے ہونے والی تحقیق میں طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ دوا وائرس کو انسانی خلیوں میں پھیلنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ البتہ اسے کورونا وائرس کا علاج قرار نہیں دیا گیا تھا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کی افادیت سے متعلق حتمی رائے اسی وقت قائم کی جا سکتی ہے، جب بڑے پیمانے پر کوئی تحقیق ہو اور زیادہ لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں اس حوالے سے ریسرچ جاری ہے۔