امن کی راہ میں تمام رکاوٹیں افغان حکومت کی طرف سے ہیں: طالبان

  • جمعرات 23 / اپریل / 2020
  • 3860

افغان طالبان نے کابل حکومت پر الزام لگایا ہے کہ امن کی راہ ميں تمام تر رکاوٹيں افغان حکومت کی جانب سے ہيں جب کہ امريکہ بھی اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کرنے ميں ناکام رہا ہے۔

طالبان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ چند روز کے دوران  طالبان اور حکومتی فورسز کے درميان جھڑپوں ميں کئی افغان اہلکار مارے گئے ہیں۔ بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان کے قطر ميں قائم سياسی دفتر کے ترجمان سہيل شاہين نے کہا کہ فروری کے آخر ميں امريکہ اور طالبان کے درميان طے پانے والے امن معاہدے کے تحت بين الافغان مذاکرات شروع ہونے تھے اور اس سے پہلے افغان حکومت اور طالبان کے درميان قيديوں کا تبادلہ ہونا تھا۔ ليکن ان کے بقول کابل حکومت طالبان کے قيدی رہا نہیں کر رہی۔

سہيل شاہين نے واضح کيا کہ طالبان آگے بڑھنے کے لیے سنجيدہ ہيں ليکن دوسرے فريق کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ طالبان ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہمارے قيدی امن معاہدے کے تحت 10 مارچ سے پہلے رہا کردیے جاتے تو اب تک بين الافغان مذاکرات شروع بھی ہو چکے ہوتے۔

افغان طالبان اور امریکہ میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار تک قيدی رہا کرنے ہیں۔ جب کہ طالبان نے بھی افغان حکومت کے 1000 قيديوں کو رہا کرنا ہے۔ ليکن اب تک صرف چند سو قيديوں کی رہائی عمل ميں آئی ہے۔ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاويد فيصل کے مطابق طالبان قيديوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ چند ہفتوں کے دوران 1500 قيدی رہا کر ديے جائيں گے۔

افغان حکومت اب تک 433 طالبان قيدی رہا کرچکی ہے جس کے مقابلے ميں طالبان نے اب تک افغان حکومت کے صرف 40 قيدی رہا کیے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان نے طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پيشِ نظر نہ صرف عالمی طاقتوں بلکہ پاکستان سے بھی مدد کی اپيل کی ہے۔ اس سلسلے ميں رواں ہفتے افغانستان کے قائم مقام وزيرِ خارجہ حنيف اتمر نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قريشی سے ٹيلی فون پر رابطہ بھی کیا تھا۔

دونوں رہنماؤں نے اپنی گفتگو کے دوران افغانستان ميں قيامِ امن، بين الافغان مذاکرات اور قيديوں کی رہائی کے معاملے پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کيا تھا۔ دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان نے حالیہ ہفتوں میں حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طالبان نے 10 صوبوں میں سیکیورٹی فورسز کی املاک کو نشانہ بنایا ہے۔

طالبان ترجمان سہیل شاہین کے مطابق ايک جانب افغان حکومت ان کے قيدی رہا نہيں کر رہی جب کہ دوسری جانب حملوں ميں کمی پر زور دے رہی ہے۔ ان کے بقول يہ دونوں باتيں متضاد ہيں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکام خود يہ دعویٰ کر رہے ہيں کہ ان پر روزانہ کی بنياد پر تقريباً 10 حملے ہو رہے ہيں جب کہ ہمارے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال انہی ايام ميں طالبان 150 سے 200 تک حملے کر رہے تھے۔

انہوں نے ايک بار پھر تمام قيديوں کی غير مشروط رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی رہائی کے بعد ہی بين الافغان مذاکرات شروع کیے جائيں گے۔