امریکہ میں 5 ہفتوں کے دوران 2 کروڑ 65 لاکھ افراد بیروزگار

  • جمعرات 23 / اپریل / 2020
  • 3890

امریکہ کے محکمہ محنت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے مزید 44 لاکھ شہریوں نے بیروزگاری انشورنس کلیم داخل کیے ہیں۔ اس طرح کورونا وائرس بحران کے دوران بیروزگار ہوجانے والوں کی تعداد 2 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے پانچ پفتے پہلے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہر ہفتے لاکھوں افراد ملازمتوں سے محروم ہورہے ہیں۔ پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ اور چوتھے میں 52 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے تھے۔

امریکہ میں 2008 کے معاشی بحران کے بعد 10 سال میں روزگار کے 2 کروڑ 28 لاکھ مواقع پیدا ہوئے تھے۔ لیکن اب چند ہفتوں میں بے روزگار ہوجانے والوں کی تعداد ان سے زیادہ ہوگئی ہے اور برسوں کی معاشی ترقی صفر ہوچکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیروزگار ہونے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ محکمہ محنت کے اعداد و شمار میں وہ لاکھوں لوگ شامل نہیں جو مختلف وجوہ سے بیروزگاری الاؤنس کے اہل نہیں ہیں۔ امریکہ میں لاکھوں تارکین وطن ایسے ہیں جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں۔

امریکہ میں آخری بار ایسی صورتحال 1930 کے عشرے کی کساد بازاری میں دیکھنے میں آئی تھی جب 25 فیصد امریکی روزگار سے محروم ہوگئے تھے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت بیروزگاری کی شرح 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں مزید لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئی بندش سے جو کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں فضائی کمپنیاں، ہوٹل اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری شامل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کمپنیاں اپنے ملازمین کو فارغ کررہی ہیں اور جن لوگوں کے پاس آمدن کا کوئی ذریعہ ہے، وہ مستقبل سے خوف زدہ ہیں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے لاکھوں افراد بیروزگار ہوئے ہیں لیکن روزگار کے بہت سے نئے مواقع بھی پیدا ہورہے ہیں۔ امیزون، وال مارٹ اور ہوم ڈلیوری کرنے والے کئی دوسرے اداروں نے لاکھوں افراد کو بھرتی کرنے کا عندیہ دیا ہے کیونکہ ان کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی انتظامیہ اور کانگریس نے معیشت کو بحال رکھنے کے لیے گزشتہ ماہ 2200 ارب ڈالر کے پیکج کی منظوری دی تھی جبکہ اس ہفتے چھوٹے کاروباروں کے تحفظ کے لیے 484 ارب ڈالر کا ایک اور پیکج منظور کیا جارہا ہے۔