علما مساجد کو کورونا سے محفوظ رکھنے لئے اپنی ذمہ داری پوری کریں: وزیر اعظم
- جمعرات 23 / اپریل / 2020
- 4400
پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال دن بدن خراب ہورہی ہے۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 10 ہزار 996 ہوگئی ہے جبکہ اموات 230 تک پینچ گئی ہیں۔
حکومتی سطح پر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ مئی کے وسط میں کورونا وائرس کی صورتحال پاکستان میں مزید خراب ہوسکتی ہے اور اس سے کافی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ حکومت کی طرف سے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور کہیں پابندیاں تو کہیں جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود کیسز میں اضافے کا سلسلہ جارہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی کورونا متاثرین کی نئی لہر کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مساجد میں اجتماعی عبادت کی مشروط اجازت دینے کے بعد اب یہ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں بنائے گئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیچر (ایس او پیز) پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر لگنے والی پابندیوں سے متاثر افراد کی مدد کے لیے فنڈ میں عطیات وصول کرنے کے لیے 'احساس ٹیلی تھون' منعقد کی گئی۔ معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے اس موقع پر دعا بھی کروائی۔
احساس ٹیلی تھون میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک تھے۔ ٹیلی تھون کے دوران ملک بھر کے مختلف اداروں کے سربراہان، معروف شخصیات و عوام نے اپنی حیثیت سے فنڈ کے لیے رقم عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حالات پہلے کبھی نہیں آئے اور اس وائرس کی وجہ ہونے والے لاک ڈاؤن کے اثرات ابھی آئے نہیں ہیں بلکہ یہ آئیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاط سب کو کرنی چاہیے۔ کوئی حکومت خود سے کورونا وائرس کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی، اس وبا کو شکست دینے کے لیے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پتہ ہے کہ ہمیں کورونا کے ساتھ رہنا پڑے گا، کوئی آج یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر ہم لاک ڈاؤن بھی کردیں تو کورونا ختم ہوجائے گا، ہمیں اس کے ساتھ رہنا پڑے گا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا، جس کا مطلب ہے کہ ہمیں دکانیں و کم خطرے والے علاقوں کو کھولنا پڑے گا کیونکہ غیر معینہ مدت تک کا لاک ڈاؤن کوئی آپشن نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ صرف ایلیٹ کلاس کے لیے نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے ہونا چاہئیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ہر ملک لاک ڈاؤن سے متعلق اپنی صورتحال کو دیکھ کر فیصلہ کرے۔ ڈاکٹرز کے مطالبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے اور ہمیں ان کا مکمل سوچنا چاہیے۔
انہوں نے رمضان المبارک میں مساجد سے متعلق کہا کہ ہمارے پاس 2 آپشن تھے۔ ہمیں یہ معلوم تھا کہ ہم جو مرضی کرلیں لوگوں نے رمضان میں مساجد میں جانا ہے۔ تاہم لوگوں کو گھر میں عبادت کرنی چاہیے اور گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے جبکہ پوری مسلم دنیا میں رمضان میں لوگوں کو نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت نے درمیانی راستہ نکالتے ہوئے رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات سے متعلق علما کے ساتھ 20 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا کیونکہ لوگوں نے رمضان میں اجتماعات پر اصرار کیا تھا۔ حکومت نے اجتماعی عبادات کے لیے طریقہ کار (ایس او پیز) جاری کی ہیں جن پر عملدرآمد کی ذمہ داری علما کی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کا پتہ لگانے کے لیے حکومت انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) کا فراہم کیا گیا سسٹم استعمال کررہی ہے۔ یہ نظام اصل میں دہشت گردوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اب ہم اسے کورونا سے نمٹنےکے لیے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکنگ اور ٹیسٹنگ ہی کاروبار کو دوبارہ کھولنے کا واحد طریقہ ہے۔
ٹیلی تھون کے دوران صحافی کامران شاہد کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ نے حریف میڈیا چینلز کو بلا لیا، پوری دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے تو آپ اپوزیشن کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں، ہوسکتا ہے وہ آپ کو اربوں روپے دے دیں اور شہباز شریف اور آصف زرداری کو گلے لگا لیں؟ تو اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ اس میں ایک خطرہ ہے کہ ان کو ساتھ لیا تو کہیں عطیات ہی کم نہ ہوجائیں۔
وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تعمیراتی شعبے کی طرح تمام شعبوں میں یہ کردیا جائے کہ کسی سے کوئی سوال نہ کیا جائے تو اس پر عمران خان نے کہا کہ 'بالکل، میں پوری کوشش کر رہا ہوں لیکن کوئی سوال نہیں کے راستے میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک عذاب بنا ہوا ہے کیونکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق ہم پر بہت پابندیاں لگی ہوئی ہیں'۔