کورونا وائرس جلد ختم نہیں ہوگا: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
- جمعرات 23 / اپریل / 2020
- 4230
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس جلد ختم ہونے والا نہیں ہے اور فی الوقت بہت سے ملک اس کے اثرات کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریاسس نے بدھ کو متنبہ کیا ہے کہ دنیا کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کورونا وائرس کی وبا اب تک ہمارے ساتھ ہے اور یہ طویل عرصے تک ساتھ رہ سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتِ حال میں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ بیشتر ملک کورونا وائرس کے اثرات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور وہ ممالک جہاں کیسز کی تعداد میں کمی آ چکی ہے وہاں یہ وبا دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 26 لاکھ سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔ دنیا کے کئی ملکوں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی فاصلہ اختیار کرنے اور لاک ڈاؤن سمیت مختلف قسم کی پابندیاں عائد ہیں۔ بعض ملکوں نے ہلاکتوں اور کیسز کی تعداد میں کمی کے بعد عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کی ہے۔
تاہم عالمی ادارۂصحت کے سربراہ نے بدھ کو اپنے ایک انتباہی پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کو کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے مزید جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر ماہرینِ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن اور اس جیسے دیگر اقدامات کو اس وقت تک برقرار رکھنے کی ضرورت ہے جب تک اس وبا کی ویکسین تیار نہیں ہو جاتی۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ کے متعدی امراض کے شعبے کے ڈائریکٹر نے عوام سے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے اثرات کی دوسری لہر کے لیے تیار رہیں جو پہلے سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ امریکہ دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اس وبا سے اب تک 46 ہزار سے زائد اموات اور آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
یورپ میں کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری سے متعلق امید کی ایک کرن روشن ہوئی ہے۔ جرمنی نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے کورونا وائرس کی ویکسین کی انسان پر آزمائش شروع کرے گا۔ جرمنی کی ریگولیٹری باڈی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کی یہ پانچویں کوشش ہے۔ اُمید ہے کہ اس وبا کی ویکسین تیاری کے بعد جلد دستیاب ہو گی۔
یورپ میں اب تک کورونا وائرس سے ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم بعض ملکوں نے پابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔ البتہ بڑے اجتماع پر اب بھی پابندی برقرار ہے۔