مسلم دشمنی میں بی جے پی کا کرونا ہتھیار

  • تحریر
  • ہفتہ 25 / اپریل / 2020
  • 5000

بہار پولیس نے  پاکستان کی سازش بے نقاب کر دی۔  پاکستان کا نیپال کی  سرحد کے ذریعے کرونا سے متاثر مریض بھارت میں سمگل کرنے  کی اسکیم کا انکشاف۔  اگر آپ کویہ الزام واہیات  لگا تو جان رکھئے کہ بھارت میں کسی بھی ایسے واہیات  الزام اور سازش کی بہت مانگ رہتی ہے۔ صرف ایک ہی شرط ہے کہ یہ الزام پاکستان یا بھارتی مسلمانوں کے خلاف ہو اور بھارت میں اس کے  پھیلانے والے انتہا پسند ہندوتوا س کے سرخیل ہوں۔

 بھارت میں اس الزام کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا،  اس کا اندازہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی اس اندرونی رپورٹس  سے لگایا جا سکتا ہے۔   نیپال بھارت سرحد پر مامور  ساشترا سیما بَل  فور س نے علاقہ ایس پی  اور میجسٹریٹ کو ایک میمو کے ذریعے  مطلع کیا کہ انہوں نے ایک ایسے  مسلم گروہ کا سراغ لگایا ہے جو نیپال سے کرونا وائرس سے متاثر افراد کو  بھارت کے صوبے بہار میں سمگل کرنے کے چکر میں ہے۔پٹنہ کے  ڈ پٹی جنرل پولیس گپت ایشور پانڈے  کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو اس بابت خبردار کر دیا ہے تاکہ بہار کے بارڈر سے اس دراندازی کو روکا جا سکے۔ بھارتی میڈیا نے  دس اپریل کو یہ خبر اڑائی اور پھر ایک کے بعد دوسرے میڈیا نے اس میں مرچ مصالحے لگا کر  مسلم دشمنی کا حق ادا کیا۔

اس سے قبل ایک اور منظم مہم میڈیا میں چل رہی تھی۔ مارچ کے وسط میں نیو دہلی میں تبلیغی جماعت ہند  کا ایک معمول کا  تبلیغی اجتماع  منعقد ہوا۔ اس میں کئی ہزار افراد نے شرکت کی جن میں کئی غیر ممالک سے بھی شامل ہوئے۔  بعد ازاں اس اجتماع سے واپس لوٹے اور وہاں موجود کئی افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے۔ اسی دوران بھارت میں مختلف مقامات پر ہندوؤں کے کئی اجتماعات  منعقد ہوئے لیکن ان کے شرکا کے ٹیسٹ ہوئے نہ میڈیا میں ان کے اجتماع سے ملک میں کرونا جہادکا انکشاف ہوا۔  بھارت میں  تاحال ٹیسٹنگ سہولت بہت محدود اور مخصوص ہے لیکن  اس محدود سہولت کا تبلیغی جماعت کے اس اجتماع کے شرکا پر کھلے دل سے استعمال کیا گیا۔ میڈ یاپر یوں ہاہاکار مچی کہ خدا کی پناہ۔

تبلیغی  جماعت ہند کے امیر مولانا سعد کاندھلوی پر قتل عمد کا مقدمہ تک درج کر دیا گیا۔  دوسری طرف بی جے پی کے انتہا پسندوں نے  تبلیغی جماعت بلکہ بھارت کے تمام مسلمانوں پر کرونا جہاد کا الزام لگا دیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر نفرت اور تعصب کا الاؤ بھڑکا دیا گیا۔ کئی جگہوں پر مقامی شوریدہ سروں نے مسلمانوں  کا  ہندو آبادیوں میں داخلہ بند کردیا، کئی جگہوں پر پھیری لگا کر سامان  بیچنے والوں کو جان کے لالے پڑ گئے۔  مسلمانوں کی  دوکانوں اور چھوٹے موٹے کاروباروں کا بائیکاٹ کیا جانے لگا۔ موئے کو مارے شاہ مدار، مسلمان  پہلے ہی فروری میں نیو دہلی میں ہوئے مسلم کش فسادات کے صدمے اورخوف سے نبردآزما تھے کہ اب یہ ایک نئی آفت آن پڑی۔ کم بخت کرونا وائرس تونظر نہیں آتا  لیکن  اس کی بنیاد پر بھارتی انتہاپسند ہندوؤں کے جبر  نے مسلمانوں  کو نئی مصیبت سے دوچار کر دیا۔

بھارت کے اندر کئی معتدل آوازیں اس جبر اور ناروا سلوک پر بلند ہوئیں لیکن میڈیا مودی سرکار اور ہندوتوا  کے جنونی کارندوں کے پشت پر کھڑا ہوا ہے۔ یوں بھارت کے اندر یہ معتدل آوازیں متبادل بیانئے کے طور پر جگہ نہ پا سکیں۔  گو  عالمی میڈیا  بھی بھارت کے بارے  قدرے محتاط ہی رہتا ہے لیکن اس بار  جور و جبر اس قدر زیادہ اور انتہائی واہیات بنیاد پر روا رکھا گیا کہ وہ بھی کھل کر  چیخ اٹھے۔  برطانیہ کے اخبار دی گارڈین، امریکہ کے نیویارک پوسٹ، واشنگٹن پوسٹ، الجزیرہ، بی بی سی نے کھل کر تفصیلی اسٹوریز فائل کرکے دنیا کو  حقائق سے آگاہ کیا۔ 

بھارت میں بی جے پی  نے اپنی مسلم دشمنی کو کبھی چھپایا نہیں بلکہ جہاں جہاں موقع ملا اس دشمنی کا کئی صورتوں میں اظہار کیا۔ گزشتہ سال دوسری ٹرم شروع ہونے پر بی جے پی نے پراسرار سرعت اورمضبوطی کے ساتھ مسلم دشمنی کے ایک کے بعد ایک اقدامات شروع کر دئے۔ پانچ اگست 2019  کو  جموں  و کشمیر وادی کے بھارتی آئین میں حاصل خصوصی اسٹیٹس کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی وادی میں کرفیو یعنی مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔ اس کے بعد شہریت کے قانون میں ترمیمی بل  کے ذریعے مسلمانوں کو  ٹارگٹ کیا گیا جس پر بھارت میں سیکولر طاقتیں بھی  اس کے خلاف میدان میں اتر آئیں۔

 نیو دہلی  شاہین باغ میں ہونے والا طویل دھرنا  احتجاج کا مرکز بن گیا۔ سخت موسم کے باوجود ہر نسل اور مذہب کے لوگ اس دھرنے میں مسلسل شریک ہوئے۔ عالمی میڈیا نے بھی دھیرے دھیرے اس دھرنے کو کوریج دینا شروع  کر دی۔  بی جے پی کے انتہاء پسندوں نے اس دھرنے کو اکھاڑ پھینکنے کی دھمکیاں دیں۔ باہر سے  لائے گئے غنڈوں کی مدد سے فروری کے  اواخر  میں  امریکی صدر  کے دورے کے عین آخری روز نیو دہلی میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے۔ وزیر اعظم کی ناک کے نیچے ہونے والے ان فسادات پر تیسرے دن ان کی ایک منافقانہ ٹویٹ آئی جس میں سب کو شانتی کا درس دیا گیا۔ مظلوموں کے ساتھ کوئی  ہمدردی کا اظہار نہ ظالموں کے خلاف ایک لفظ۔ ڈھنگ کی ایک اعلیٰ سطحی انکوائری تک کا تردد نہ کیا گیا۔

علامہ اقبال کا شکوہ یاد آتا ہے کہ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر۔ مقبوضہ کشمیر کی وادی میں گزشتہ آٹھ ماہ سے  انسانی تاریخ کا طویل ترین اور انتہائی ظالمانہ لاک ڈاؤن جاری ہے۔ کرونا کی وجہ سے دنیا کے ممالک میں وقتی طور پر جزوی یا کلی لاک  ڈاؤن ہوا ہے تو خلقِ خدا بلبلا اٹھی ہے۔ امریکہ میں گزشتہ ہفتے کئی ریاستوں میں  مظاہرے ہوئے کہ بھاڑ میں جائے کرونا، ہم ایک آزاد قوم ہیں، ہمیں تو نارمل زندگی ا ور جیتی جاگتی اکونومی درکار ہے۔   یورپ میں بھی  اب دھیرے دھیرے لاک ڈاؤن  ختم  کرنے کا پلان ہے۔

دنیا  کو  چند ہفتوں میں  احساس  ہو گیا  کہ آزادانہ گھومنے پھرنے اور کاروبار کی آزادی کے  بغیر ان کا دم گھٹ گیا۔ کوئی  سوچ سکتا ہے کہ  دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں آٹھ ماہ سے زائد گھروں میں مقید اور کاروبار سے محروم لوگوں  پر کیا گزری ہوگی؟ کوئی سوچے تو  اسے زندہ جہنم کی تعریف سمجھ میں آئے۔ آٹھ لاکھ سنگینوں کے سائے میں  کشمیر کے لاک ڈاؤن کا ظلم  اپنی  جگہ، اب اس کے ساتھ ساتھ بھارت بھر میں مسلمانوں کو ایک انتہائی متعصبا نہ جبر کی بھینٹ چڑھانیکا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اگر جلد بھارت کے اندر سے اس تعصب اور اندھے جنون کے خلاف آوازیں نہ اٹھیں تو  خاکم بہ دہن  مسلم دشمنی میں بی جے پی ایک اور ہولو کاسٹ  بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔