کار جہاں: فٹ پاتھ پر پارٹی اور شاپنگ کے نئے انداز

یہ امریکا ہے اور ہم ٹیکساس میں اپنے ہی گھر میں محبوس ہیں۔ ہم ایک ایسے دشمن سے نبرد آزما ہیں جو نظر نہیں آتا لیکن وار کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ دشمن کا ہر وار کاری ہو۔ مخلوق گھروں میں بند ہے۔ راہ نجات کے خواہش مند ہیں لیکن ساری راہیں مسدود ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھریلو ناچاقی ابھر رہی ہے۔ لوگ بیویوں کو طلاق دے رہے ہیں۔ ٹین ایج بچوں کو ان کے ناجائز اقدام پر گھروں سے نکال باہر پھینک رہے ہیں۔ شراب نوشی کسی حد تک بڑھ رہی ہے۔ امریکا جیسے ملک میں ہا ہو کی جگہ بڑی حد تک خاموشیاں اتر رہی ہیں۔ ملک کے سارے ریسٹورنٹ  اور بارز  بند ہیں۔ بڑے بڑے مال بند ہیں۔ ہوائی اڈے سنسان ہیں۔ بیاہ شادیاں ٹھپ ہیں۔ ٹورسٹ والی جگہیں خالی ہیں۔ دوڑتی بھاگتی شاہراہیں اداس ہیں۔ گلیاں اور بازار نوحہ کناں ہیں۔

 اور دوسری طرف امریکی قوم ٹک کے بیٹھنے والی قوم نہیں۔ تو لہو گرم رکھنے کے بہانے ڈھونڈتی پھرتی ہے۔ اب ایک بہانہ برتھ ڈے ہے۔ ایسے میں جب میل ملاپ پر پابندی ہے، پارٹیاں ناپید ہیں، لیکن بچوں کی برتھ ڈے تو لازمی ہے۔ تو ہوا یوں کہ کسی نے سوچا کہ پارٹی نہ سہی ملنا ضروری ہے اور بچوں کو خوش کرنا ہی بہانہ سہی۔ تو دوست احباب  اور رشتہ داروں کو فون کیا جاتا ہے کہ آپ ہمارے بیٹے یا بیٹی کی برتھ ڈے پر تشریف لائیں۔ وقت کا تعین کیا جاتا ہے۔ برتھ ڈے والے گھر کے سامنے فٹ پاتھ پر درختوں، جھاڑیوں کو ربن یا غباروں سے مزین کیا جاتا ہے۔ یعنی ستم ظریف تو لیٹر باکس کو Gift wrap  بھی کر دیتے ہیں۔ موسیقی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ برتھ ڈے والا لڑکا یا لڑکی ہاتھ میں بورڈ اٹھائے، چہرے پر مسکراہٹ سجائے فٹ پاتھ پر کھڑا نظر آئے گا۔ وقت مقررہ پر احباب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پل کی پل گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہیں۔ کار سے باہر نہیں نکلتے دور سے ہاتھ ہلا کر مبارک باد دیتے ہیں۔ علیک سلیک ہوتی ہے۔ فاصلوں سے گفتگو ہوتی ہے۔ برتھ ڈے تحفہ فٹ پاتھ پر رکھ دیا جاتا ہے۔ اور HAPPY BIRTH DAY کا نعرہ لگا کر آنے والا خوش دلی سے رخصت لیتا ہے۔ اس ملن کو Drive Through Birthday کا نام دیا جاتا ہے۔ جب کوئی اجنبی اس سڑک یا گلی سے گزرتا ہے اور فٹ پاتھ پر ربن اور غبارے دیکھ کر ہاتھ ہلا کر ہیپی برتھ ڈے کا نعرہ لگا کر چلا جاتا ہے:

دل کے بہلانے کا غالب یہ خیال اچھا ہے

لوگ دل بہلانے کیلئے ذریعہ نکال لیتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ڈوبتی معیشت کے سہارے بھی لازمی ہیں۔ کچھ ایسے کاروبار بھی ہیں جن کی آج چاندی ہی چاندی ہے۔ مثلاً پلاسٹک کے دستانے، ماسک بنانے والی کمپنیاں، کاغذ کے تولیے، نیپکن، ٹوائلٹ پیپر، کیڑے مار دوائیں، صابن، ان کا بزنس عروج پر ہے۔ بعض اسٹورز میں یہ چیزیں ناپید ہیں۔ (ٹکٹ کٹاؤ، لین لگاؤ) لیکن سب سے زیادہ کامیاب بزنس کریڈٹ کارڈ ہے۔ ایک بزنس اور بھی ہے جس کا ذکر اوپر اچھا نہیں لگے گا۔ لیکن برسبیل تذکرہ عرض کرتے جائیں۔ وہ ہے ”تابوت سازی“۔ صرف امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تابوت سازی عروج پر ہے۔ لیکن ہم کریڈٹ کارڈ کی طرف آتے ہیں۔

خاندان کو کھانا تو ضرور کھانا ہے۔ تو ضروریات زندگی بہر طور مہیا کرنا ہے۔ تو ضروریات زندگی بیچنے والے نے نئی راہ نکالی ہے۔ وہ آلو، پیاز،  مالٹے، خربوزے آپ فون پر بمعہ کریڈٹ کارڈ نمبر کے لکھوا دیں۔ آرڈر لینے والے آپ کو بتا دیں گے کہ آپ کا آرڈر فلاں وقت تیار ہو گا۔ لیکن آپ کو اسٹور کے اندر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سامان اٹھانے والے گاہک کیلئے ایک مخصوص پارکنگ معین ہے جہاں بورڈ پر نمبر درج ہے اور ساتھ ہی آپ کی پارکنگ کی جگہ کا نمبر بھی درج ہے۔

 آپ فون کریں۔ سامان دینے والا یا دینے والی ہاتھوں پر دستانے چڑھائے، منہ پر ماسک لگائے ٹرالی دھکیلتے آئیں گے۔ سامان کار میں رکھیں گے۔ دور سے آپ سے بات کریں گے اور چلتے بنیں گے۔ آپ گھر آ کر سامان کھولیں گے اور ساتھ آپ کو ایک رسید بھی ملے گی۔ جس پر سامان کی تفصیل اور قیمت درج ہو گی۔ وہ سامان جو آپ کو نہیں دیا گیا اس کا متبادل موجود ہو گا اور قیمت درج ہو گی جو عموماً آپ کے آرڈر شدہ سامان سے کم ہو گی۔ اگر آپ کو متبادل چیز پسند نہ آئے تو آپ وہ چیز واپس کر سکتے ہیں اور اس کا کریڈٹ آپ کے کارڈ پر درج کر دیا جائے گا۔ اس سارے قضیہ کا مطلب ہوا کہ آپ کو خریداری کے دوران کسی ذی روح کا آمنا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور آپ کی خریداری بھی مکمل ہو جائے گی:

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں؟

کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر