مولانا کی معافیاں، وزیر اعظم کی نئی الزام تراشیاں
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 25 / اپریل / 2020
- 10510
دو روز قبل وزیر اعظم ہاؤس میں پوری قوم اور میڈیا کو جھوٹا قرار دینے والے دعائیہ بیان کے بعد مولانا طارق جمیل نے میڈیا سے معافی مانگی ہے۔ سوشل میڈیا پر خواتین گروپس کی طرف سے بے حیائی کے حوالے سے بیان پر تنقید کے بعد مولانا نے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا۔ اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی میڈیا کے بعض حصوں کو غیر ذمہ دار اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بعض اینکر بدعنوان سیاست دانوں سے پیسے لے کر بدعنوانی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر سرگرم اور یوٹیوب چینل چلانے والے لوگوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا کی کارکردگی پر مایوسی اور پریشانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کسی کو نہ تو عزت دے سکتا ہے اور نہ ہی بے عزت کرسکتا ہے۔ اگر کوئی انسان کسی کو عزت دے سکتا تو صرف امرا ہی عزت پاتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ’ حالات حاضرہ کے شو بے مقصد اور فضول ہوچکے ہیں۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘۔ وزیر اعظم نے احساس ٹیلی تھون کے دوران مولانا طارق جمیل کے بیان پر براہ راست تو تبصرہ نہیں کیا لیکن ملاقاتوں کے دوران ان کی یہ بات رپورٹ کی گئی ہے کہ’بالی وڈ اور ہالی وڈ فحاشی پھیلاتے ہیں۔ فحاشی خاندانی نظام کو تباہ کردیتی ہے‘۔ وزیر اعظم نے مین اسٹریم میڈیا کے مقابلے میں سوشل میدیا کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سب سے پہلے ان کی پارٹی نے سوشل میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا۔ بعد میں وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سوشل میڈیا اور یو ٹیوب چینلز کے لئے سرکاری وسائل فراہم کرنے کے منصوبہ کا اعلان کیا۔
وزیر اعظم کی گفتگو اور حکومت کی پالیسی سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ مولانا طارق جمیل کے الزامات کی آڑ میں قومی میڈیا کو بدنام کرنے کی مہم کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تاکہ میڈیا میں تھوڑی بہت خود مختارانہ رائے کو بھی دبایا جاسکے۔ اس دوران حکومت ایک ایسے قانون پر بھی غور کررہی ہے جس کے تحت الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس طرح پیمرا نشریات کو کنٹرول ، جرمانہ عائد کرنے یا نشریات بند کرنے میں زیادہ بااختیار ہو جائے گا۔ اس طرح میڈیا کو دفاعی پوزیشن میں لا کر سرکاری پالیسی کے مطابق کام کرنے اور صرف برسر اقتدار طبقہ کی مدح سرائی پر مجبور کیا جائے گا۔ یہ اقدامات کرتے ہوئے وزیر اعظم البتہ یہ بھول رہے ہیں کہ جس میڈیا کو وہ آج اپنی تابعداری کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں ، اقتدار سے محرومی کے بعد وہ انہی کے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
تاہم کسی مقبولیت پسند رہنما سے ایسی دور اندیشانہ حکمت عملی کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان کی حکومت کورونا وبا کے دنوں میں بھی اپوزیشن کو ساتھ ملانے سے انکار کرہی ہے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے اور اپوزیشن پارٹیوں کو آن بورڈ لینے سے گریز کیا جارہا ہے۔ کورونا کے خلاف مہم میں سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی اعلیٰ اور بروقت کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے ، مسلسل اس پر تنقید کی جاتی ہے۔ اپوزیشن سے دوری ، میڈ یا پر پابندی اور بدعنوانی کا مقدمہ استوار کرنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ ان سرکاری کوششوں سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ عمران خان ملک میں ایسا آمرانہ نظام مسلط کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جس میں انہیں دائمی اقتدار حاصل ہو اور جبر کے ذریعے ہر مخالف کو جیلوں میں بند اور ہر اختلافی آواز کو خاموش کرواسکیں۔ اس حوالے سے عمران خان چین اور سعودی عرب کی مثال دیتے رہے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ عوام میں سیاست کے بارے میں نفرت کو گہرا کرتے ہوئے جمہوریت بیزاری کا جذبہ راسخ کیا جائے تاکہ مکمل آمرانہ نظام کی کوئی شکل مسلط کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔ قوم اور میڈیا کو جھوٹا اور وبا کو فحاشی اور بے حیائی کی وجہ قرار دے کر شروع کی جانے والی تازہ ترین مہم ان لوازمات کے خلاف کام کا آغاز ہے جو کسی معاشرے میں جمہوری نظام کی کامیابی کے لئے اہم ہوتے ہیں۔
بے حیائی، جھوٹ اور پیسے لے کر پروگرام کرنے جیسے الزام لگا کر جب میڈیا کو بدنام اور بے اعتبار کیا جائے گا اور وزار ت عظمی کے منصب پر فائز شخص یہ الزامات لگانا معیوب نہیں سمجھے گا تو اس سے پاکستان جیسے معاشرے میں پیدا ہونے والے رد عمل کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم حکومت کے سربراہ ہیں۔ اگر ان کے علم میں ہے کہ کسی اینکر نے پیسے لے کر کسی بدعنوان سیاست دان کی حمایت میں پروگرام کئے ہیں تو بیانات دینے، جذبات انگیختہ کرنے اور عوام کے شبہات میں اضافہ کرنے کی بجائے ، اینکرز کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔ اگر عمران خان اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی صرف الزام تراشی کو ہی واحد مؤثر ہتھکنڈا سمجھیں گے اور ان کے زیر انتظام کام کرنے والے ادارے کسی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے میں ناکام رہیں گے تو اس سے حکومتی نااہلی اور حکمرانوں کی بدنیتی ہی واضح ہوگی۔
یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اس وقت عمران خان کے جتنے بھی سیاسی مخالفین کو مقدمات کا سامنا ہے، ان میں سے کسی معاملہ پر بھی موجودہ حکومت نے مواد اکٹھا کرکے عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ بلکہ یہ سارے مقدمات بیس سے چالیس سال پرانے ہیں جنہیں نیب یا ایف آئی اے کے ذریعے تازہ دم کرکے اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کرنے اور مقدموں میں الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس عمل میں اس روایت کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا کہ جب معاملات عدالتوں کے زیر غور ہوں تو ان پر تبصرہ کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کی جائے اور فیصلہ آنے کے بعد رائے کا اظہار کیا جائے۔ عمران خان کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ پاکستان میں ہمیشہ اپوزیشن لیڈروں کو ہی مقدمات میں الجھایا جاتا ہے۔ حکومت میں شامل عناصر ہمیشہ بدعنوانی یا بدانتظامی کی سزا اور الزام سے محفوظ رہتے ہیں۔ کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ عمران خان ملک میں یک جہتی کی فضا قائم کرکے اس مشکل سے مقابلہ کرنے کا ماحول پیدا کریں گے لیکن اپوزیشن لیڈروں کے خلاف ماحول بنا کر اب میڈیا کو بدعنوان سیاست دانوں کا ’ایجنٹ‘ ثابت کرکے اہم ترین جمہوری ادارے کی خودمختاری اور دیانت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کورونا وائرس سے صرف ایک خاص مدت کے لئے مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ یہ صرف عارضی سماجی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی دوا یا ویکسین کی ایجاد کے بعد انسانی صحت کو لاحق اندیشے ختم ہونے سے اس مشکل کا خاتمہ ہوجائے گا۔ عالمی سطح پر ہونے والے لاک ڈاؤن ، معاشی کساد بازاری اور بحران کی وجہ سے پاکستان کو ایک طویل عرصہ تک شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا رہے گا۔ فوری طور بحران کی بین الاقوامی نوعیت کی وجہ سے عالمی ادارے اور باوسیلہ ممالک پاکستان کو کچھ معاشی سہولتیں دے رہے ہیں۔ اس وقتی امداد کو اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے ملنے والی سہولت کو اگر کسی وسیع المدت اقتصادی بحالی کے منصوبے کے لئے استعمال نہ کیا گیا تو پاکستان کی اصل مشکلات کورونا وائرس کا زور ٹوٹ جانے کے بعد شروع ہوں گی۔ بدقسمتی سے حکومت اس آنے والے وقت کی تیاری کرنے کی بجائے ملک میں جمہوریت اور اس سے وابستہ اداروں کو کمزور کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔
اس مشن میں ایک طرف عمران خان اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کرسیاست دانوں اور میڈیا کو بدنام کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں تو ان کے بعض ساتھی یہ رائے استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عمران خان تو سب کچھ تبدیل کرنا چاہتا ہے لیکن ملکی نظام اسے کام نہیں کرنے دیتا۔ حالانکہ کوئی نیا نظام استوار کرنا تو کجا عمران خان نے وزیر اعظم کے طور پر جس ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ امور مملکت سمجھنے اور معاملات چلانے کی بنیادی صلاحیت سے محروم ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج کورونا وائرس پر سو موٹو کے تحت قائم مقدمہ کی سماعت کے دوران موجودہ حکومت میں شامل بدعنوان عناصر کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ اور وفاقی کابینہ کو بھاری بھر کم بوجھ قرار دیتے ہوئے غیر مؤثر کہا جاچکا ہے۔ عمران خان کو میڈیا کے پر کاٹنے سے پہلے عدالت عظمی کی طرف سے اپنی حکومت اور طرز حکمرانی پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔
اب پوری قوم کو اصل خطرہ اور مشکل سے بے خبر رکھنے کے لئے مولانا طارق جمیل کی سربراہی میں اخلاقیات کے مباحث شروع کئے گئے ہیں اور فحاشی و بے حیائی کو وبا اور قومی مشکلات کا سبب قرار دیا جارہا ہے۔ طارق جمیل اپنے بے بنیاد بیان پر معافی مانگ رہے ہیں لیکن عمران خان اسی نکتہ کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ حالانکہ صرف اپوزیشن ہی نہیں خود ان کی کابینہ کی رکن شیریں مزاری نے سماجی اطور کو وبا کی وجہ قرار دینے کو گمراہ کن اور افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ’لغو اور مضحکہ خیز الزامات لگا کر پاکستانی خواتین کو ان کی آزادی سے محروم نہیں کیا جاسکتا‘۔
وبا کے اس موسم میں ملک کے ہر فرد کو ساتھ ملا کر مستقبل میں پیش آنے والی سماجی، معاشی اور سفارتی مشکلات کی پیش بندی کے لئے کام کرنے کی ضرورت تھی۔ حکومت اور وزیر اعظم اس کے برعکس ہر مخالف آواز پر فرد جرم عائد کرکے ہر سطح پر انتشار اور رسہ کشی کی کیفیت پیدا کررہے ہیں۔ کسی قوم کی تاریخ میں اس سے بڑی بے حیائی اور فحاشی کیا ہوسکتی ہے۔ جھوٹ کو قومی عارضہ قرار دینے والے خود اس بیماری میں مبتلا ہیں۔