پاکستان میں کورونا متاثرین 13 ہزار، دنیا میں 29 لاکھ ہوگئے

  • اتوار 26 / اپریل / 2020
  • 4920

گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں وبا کے 783 نئے مریض سامنے آئے ہیں، اس طرح کورونا سے متاثرین کی تعداد 13 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔  272 افراد کورونا کے سبب جاں بحق ہوچکے ہیں۔ دنیا میں کورونا متاثئیرن کی تعداد 29 لاکھ تک پہنچھ گئی ہے جبلہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ  دو ہزار ہوگئی ہے۔

پاکستان میں اب تک ایک لاکھ 44ہزار افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن میں سے 6200 افراد کے ٹیسٹ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک 272 افراد کی موت ہو چکی ہے جن میں سے 93 افراد خیبر پختونخوا، 81 افراد پنجاب، 78 افراد سندھ، 11 افراد بلوچستان، 3 گلت بلتستان جب کہ 3 اسلام آباد میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کسی کی بھی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ملک میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 2 ہزار 866 ہو گئی ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب نے مکہ کے علاوہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے کرفیو میں جزوی نرمی کر دی ہے۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ملک میں کرفیو میں نرمی کے حکم نامے میں مکہ میں 24 گھنٹے کا کرفیو برقرار رکھنے کے احکامات شامل ہیں جب کہ مکہ کے مضافات میں بھی پابندیاں برقرار رہیں گی۔

رمضان کے آغاز پر ملک کے تمام شہروں میں صبح 9بجے اور شام کے 5بجے کرفیو میں نرمی کی جائے گی۔ یہ سلسلہ 13مئی تک جاری رہے گا۔ شاہی حکم نامے میں کچھ معاشی سرگرمیاں شروع کرنے کی رعایت دی گئی ہے۔ جن میں ہول سیل کی مارکیٹ، اشیا ضروریہ کی دکانیں اور شاپنگ مال شامل ہیں۔

خوراک کے عالمی ادارے کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کورونا وائرس کے مزید تکلیف دہ اثرات ظاہر ہونے کے خدشات موجود ہیں جس کے لیے ابھی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے نیوز چینل سی بی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آنے والے دنوں میں انسانی ہمدردی کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے اور تین درجن کے لگ بھگ ملکوں میں قحط پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سب سے شدید بحران ہوگا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بندرگاہیں بند پڑی ہیں اور رسد کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے اعلیٰ عہدے دار ڈیوڈ بیسلی نےبتایا کہ امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں ملک کو غربت، خوراک کی قلت اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ خوراک کی نقل و حمل جاری رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت افریقہ کے کئی ملکوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں لاکھوں پناہ گزینوں کو بھی خوراک اور زندگی کی بنیادی سہولتوں کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارے ان کی مدد کے لیے دنیا بھر سے اپیلیں کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں ملنے والی امداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔