کئی ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی، معمولات زندگی بحال ہونا شروع
- سوموار 27 / اپریل / 2020
- 5420
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب جاری لاک ڈاؤن کے بعد اس مہلک وبا سے متاثر ہونے والے کئی ممالک میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
چین کے دو بڑے شہروں بیجنگ اور شنگھائی میں اسکول کھول دیے گئے ہیں جب کہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ووہان کے اسپتالوں میں موجود کورونا وائرس کے تمام مریض صحت یاب ہو گئے ہیں جنہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ عالمی وبا سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثر والا ملک امریکہ ہے جس کی کئی ریاستوں میں عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ نیویارک کے گورنر نے بھی اشارہ دیا ہے کہ مئی کے وسط سے نیویارک کو جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔
یورپی ملک اٹلی میں چار مئی سے معمولات زندگی پر لگائی گئی پابندیوں کو نرم کرنے گا آغاز ہو گا جب کہ اسپین بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کر چکا ہے۔ سعودی عرب نے مکہ کے علاوہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے کرفیو میں جزوی نرمی کر دی ہے۔ ماہِ رمضان میں پاکستان بھر کی مساجد میں رمضان کے اجتماعات منعقد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بازاروں میں خریداری کے دوران بھی سماجی دوری برقرار نہیں رکھی جا رہی۔
دیگر ممالک کی طرح بھارت بھی بتدریج لاک ڈاؤن ختم کرنے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور بھارت نے ہفتے کے روز دیہی علاقوں اور شہروں کے مضافات میں کاروبار کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
امریکہ کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے صوبہ ہوبی کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جب کہ اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس وبا کے پھیلاؤ میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی ریاستوں جارجیا، شمالی کیرولائنا اور ٹینیسی میں چند کاروبار کھول دیے گئے ہیں اور گھروں میں قیام کے احکامات میں بھی نرمی کردی گئی ہے۔ کیلی فورنیا اور فلوریڈا نے بھی ساحل سمندر پر نافذ کردہ پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ ریاست میری لینڈ کے گورنر لیری ہوگن کی طرف سے بھی کاروبار اور اجتماعات دوبارہ سے شروع کرنے سے متعلق کہا ہے۔ البتہ واشنگٹن ڈی سی کے میئر مریئل بوزر نے 15 مئی تک لاک ڈاؤن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ یورپی ملک اٹلی ہے۔ جہاں لاک ڈاؤن میں چار مئی سے پابندیوں میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اٹلی کے وزیرِ اعظم گوسیپی کونتے نے اتوار کے روز اپنے خطاب میں کہا کہ لوگوں کو اپنے رشتے داروں سے چھوٹے گروپس میں ملنے کی اجازت ہو گی۔ لیکن انہیں فیس ماسکس پہننا ہو گا۔ وزیرِ اعظم گوسیپی نے مزید کہا کہ پبلک پارکس کھول دیے جائیں گے۔ تاہم اسکول ستمبر تک بدستور بند رہیں گے۔
یورپی ملک اسپین میں جہاں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، وہاں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسپین میں اتوار سے 14 سال سے کم عمر بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔ اسپین میں اتوار کو کورونا وائرس کے شکار 288 افراد ہلاک ہوئے۔ ایک ماہ کے دوران ہلاکتوں کی یہ سب سے کم یومیہ تعداد تھی۔
کورونا وائرس کا شکار ہونے والے برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن پیر کے روز سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ برطانیہ میں کورونا وائرس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہے۔ جبکہ اتوار کے روز برطانیہ میں 413 مزید ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ جو کہ رواں ماہ ہونے والی ہلاکتوں کی کم ترین یومیہ تعداد ہے۔ جرمنی نے بھی سماجی دوری اختیار کرنے اور فیس ماسکس کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہوئے پیر کے روز سے اسکولز اور کاروبار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
سویڈن نے اپنے ہمسایہ ممالک ناروے اور ڈنمارک کے برعکس لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا۔ تاہم سویڈن نے اپنے شہریوں کو سماجی دوری اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ سویڈن میں لگ بھگ 19 ہزار کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ جب کہ 2200 کے قریب افراد کرونا وائرس کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔
چین کے شہر بیجنگ اور شنگھائی کے اسکول کھول دیے گئے ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ووہان کے اسپتالوں سے کرونا وائرس کے تمام مریضوں کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ تاہم ووہان میں پابندیاں ہٹائے جانے کے باوجود شہریوں کے مسلسل کورونا ٹیسٹس کیے جا رہے ہیں۔
روس میں سخت ترین پابندیاں نافذ کیے جانے کے سبب کورونا وائرس سے متاثرہ صرف 270 مریض سامنے آئے۔ جبکہ اس وبا سے کوئی بھی ہلاکت رپورٹ نہیں کی گئی۔ روس میں بھی معاشی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔