پاکستان میں کورونا کے مریض 14 ہزار سے بڑھ گئے، گورنر سندھ اور ایک سینیٹر کا ٹیسٹ مثبت
- منگل 28 / اپریل / 2020
- 4890
پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد منگل کو 14 ہزار500 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ تین ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہوئے ہیں لیکن اموات کی تعداد بڑھ کر 312 تک پہنچ چکی ہے۔
اس دوران سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور سینیٹ کے آزاد سینیٹر مرزا محمد آفریدی کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد 30 لاکھ 50 ہزار اور مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ 11 ہزار ہو چکی تھی۔ پیر کو پاکستان میں کورونا سے 20 اموات ہوئی ہیں جو ایک روز کے دوران ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ دنیا میں اب تک 9 لاکھ افراد اس مہلک وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
یورپ میں وائرس کی تباہ کاریوں کا گراف نیچے آ رہا ہے۔ اموات کی شرح میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور نئے مریضوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ چین، امریکہ، اٹلی، اسپین، برطانیہ، سعودی عرب اور بھارت سمیت کئی ملک لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کر رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے نقصانات کے باعث چین کے خلاف تحقیقات اور ہرجانے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکہ میں کورونا کے مریض 10 لاکھ سے زائد ہیں جب کہ ہلاکتیں 56 ہزار 800 سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ نے بعض عہدے داروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں کورونا کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر امریکی فوج کا جلد انخلا چاہتے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے 'این بی سی نیوز' میں پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ تقریباً روزانہ اپنے مشیروں سے افغانستان میں کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر فوج کے حوالے سے فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ صدر افغانستان میں کورونا کے پھیلاؤ کو امریکی فوج کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے یہ تحفظات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں سال فروری میں طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد میں سست روی پر بھی امریکی حکام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اس صورتِ حال میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ افغانستان سے امریکی فوج کے جلد انخلا کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔