پاکستان میں کورونا سے335 افراد جاں بحق، متاثرین کی تعداد پندرہ ہزار سے بڑھ گئی

  • بدھ 29 / اپریل / 2020
  • 5400

پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 26 اموات اور 806 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ بھارت کی ریزرو پولیس فورس کے 46 اہلکاروں میں وبا کی تشخیص ہوئی ہے۔ بھارت میں ہلاکتیں ایک ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔

اس وقت دنیا میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 31 لاکھ 32 ہزار اور مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعدداد 15289 جبکہ جاں بحق ہونے والے افرد 335 ہوگئے ہیں۔

تاہم ملک ميں کورونا وائرس کے حوالے سے وفاقی وزير منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے گزشتہ دو ماہ کی صورت حال کا جائزہ لينے کے حالات کو تسلی بخش قرار ديا ہے۔ اسلام آباد ميں نيشنل کمانڈ اينڈ کنٹرول سينٹر ميں ميڈيا سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پاکستان ميں اگرچہ باقی ماندہ دنيا کی نسبت ہلاکتيں بہت کم ہوئی ہيں تاہم اقتصادی طور پر پاکستانی شہريوں کو شديد دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے بتايا کہ حکومت نے ملک بھر ميں احساس پروگرام کے تحت رقوم تقسيم کی ہيں جب کہ مزيد اقدامات کیے جا رہے ہيں۔

وزيراعظم کے خصوصی معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتايا کہ اب تک پاکستان ميں 480 طبی عملے کے ارکان کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتايا کہ پاکستان ميں کورونا وائرس کے حوالے سے صرف چار ٹيسٹنگ ليبارٹريز تھيں جو کہ اب بڑھ کر 52 ہو گئيں ہيں۔ 

امریکہ میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز 10 لاکھ سے بڑھ گئے ہیں جب کہ مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 57 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض ریاستیں کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔  خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق اپریل کے مہینے میں ہر روز اوسطً دو ہزار امریکی شہری وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے۔

بعض امریکی طبی ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیسٹنگ اور کیس رپورٹ نہ ہونے کے باعث متاثر اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین اُن امریکی ریاستوں کو بھی خبردار کر رہے ہیں جو وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانے پر غور کر رہی ہیں۔ ان ریاستوں میں جارجیا، آئیوا، ٹیکساس اور ٹینیسی شامل ہیں۔

طبی ماہرین نے ان ریاستوں کے گورنرز کو خبردار کیا ہے کہ قبل از وقت سماجی پابندیاں ختم کرنے سے وائرس کی نئی لہر حملہ آور ہو سکتی ہے۔ لہذٰا احتیاط سے کام لیا جائے۔ وائٹ ہاؤس بھی ریاستوں کو سماجی پابندیاں ہٹانے سے متعلق سفارشات کے معاملے پر تذبذب کا شکار ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکی معیشت کو بحال کیا جائے۔ صدر نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے مختلف ریاستوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی بھی حمایت کی تھی۔

امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ اگر عجلت میں سماجی پابندیاں ہٹائی گئیں تو کیسز بڑھ سکتے ہیں۔ اگر سماجی پابندیاں ہٹانے اور معیشت کی بحالی کے وقت احتیاط سے کام لیا جائے تو نئے کیسز کم ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا تھا کہ "اگر ریاستیں یہ صلاحیت رکھتی ہیں کہ جن افراد کو وائرس ہے، ان کی نشاندہی کر لیں اور ان سے منسلک افراد کا بھی سراغ لگا لیں، تو پھر نئے کیسز بھی کم ہو سکتے ہیں۔"

افغانستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 10 صوبوں میں کورونا وائرس کے 110 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1939ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر واحد اللہ مائر نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ اب تک کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 60 ہو چکی ہے جب کہ 252 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔