تحریک انصاف کو سچ دکھائی کیوں نہیں دیتا؟
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- بدھ 29 / اپریل / 2020
- 7780
خُدا جانے جو ساری دُنیا کو نظر آ رہا ہے وہ پی ٹی آئی کے دوستوں کو کیوں نظر نہیں آتا۔ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کے ساتھ ابتدائی تعلقات کے علاوہ فوج کی سُپر میسی کے خلاف مزاحمت کا نشان ہے۔ سارا جہان جانتا ہے۔ اور اسی بنا پہ پھانسی چڑھ گیا اور وہ مردانہ وار چڑھا۔
ایک زمانہ گواہ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک حاضر ڈیوٹی آرمی چیف سے زبردستی کس سول لیڈر نے استعفی لیا تھا اور کیوں؟ اور کس طریقے سے؟ نواز شریف ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا کاسہ لیس رہا۔ لیکن اس نے بھی اپنی حکومتوں کے دوران جُرات دکھائی اور ہر دفعہ حکومت کی قربانی دی۔ اس کی مالی کرپشن سے قطع نظر اس نے یہ جُرات دکھائی۔ وقت نے ثابت کیا کہ 1999 میں بھی اس کا مؤقف درست تھا۔ مشرف بعد میں وہی کچھ بھارت سے مانگتا رہا۔ جس کا وعدہ بھارت صلح صفائی میں نواز شریف سے کر چُکا تھا۔ لیکن کارگل کی وجہ سے بھارت نے مشرف کو گھاس نہ ڈالی۔ معاہدہ لاہور پہ عمل ہو جاتا تو برصغیر میں امن کا راستہ کُھل سکتا تھا۔ لیکن اس راستے میں کارگل آگیا۔ جو بہت بڑا بلنڈر تھا۔
پھر اسی طرح ڈان لیکس کا معاملہ تھا۔ جو نواز شریف نے اس میٹنگ میں کہا تھا۔ اور بڑوں نے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں وہی سب کچھ انہیں کرنا پڑا جو نواز شریف کرنے کے لئے کہتا تھا۔ اس کی برملا تصدیق ٹرمپ ایک پریس کانفرنس میں کر چُکا ہے۔
اب اپنے خان صاحب کی طرف آ جائیے۔ کیا انہوں نے مشرف کی حمایت نہیں کی۔ ؟ کیا یہ اس کے لئے کام نہیں کرتے رہے؟ 2002 کے الیکشن میں مشرف سے ان کے جو مطالبات تھے وہ اس نے خود بتائے ہیں۔ اس کی وڈیو یو ٹیوب پہ موجود ہے۔ جسے میرے پی ٹی آئی کے دوست جھوٹ قرار دیتے ہیں۔ یعنی یہ حکومت میں آنے کے لئے مشرف سے ساز باز کرتے رہے۔ جب وہ نہیں مانا تو اس کے خلاف ہو گئے۔ پھر 2011 کے جلسے کی کامیابی کے پیچھے جنرل پاشا کا ہونا اب کوئی راز نہیں۔ 2013 کے الیکشن کی حقیقت خود جہانگیر ترین بتا چُکے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کیسے کامیاب ہوئی یہ اتحادی چودھری پرویز الہی بتا چُکے ہیں۔
جہاں تک جنرل عاصم کا تعلق ہے۔ وہ ایک پاکستانی ہیں۔ اور یہ اُن کا حق ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی میں جائیں۔ حکومت میں یا اپوزیشن میں۔ لیکن اس کے لئے انہیں دو سال کا انتظار کرنا چاہئیے تھا ۔ کیا انہوں نے ایسا کیا؟ ریٹائرمنٹ کے دو مہینے بعد وہ سی پیک کے چیئر مین لگ گئے۔ ابھی دو سال پورے نہیں ہوئے تو وہ مشیر اطلاعات بھی بن گئے ہیں۔ یعنی دونوں تقرریاں غیر قانونی ہیں۔ پھر ریٹائر ہوتے وقت آرمی سے مراعات بھی لیں۔ اور اب دونوں جابز سے تنخواہ بھی لیں گے۔ ہے نا مزے کی بات؟
ایک پارٹی جو میرٹ میرٹ کرتی تھی اور جس کا لیڈر بزعم خویش سچا اور ایماندار ہے۔ کیا اسے یہ غیر قانونی کام کرنا چاہیئے تھا؟ تحریک انصاف والے اپنی پارٹی کے اس غیر قانونی کام پہ تنقید کی بجائے دوسروں پہ طعنہ زنی کیوں کرتے ہیں؟ دوسری پارٹیوں کے لوگوں کے پاس دِکھانے اور فخر کرنے کے لئے مزاحمت کی تاریخ ہے۔ جس کے بدلے انہوں نے سزائیں بھی بُھگتیں. پی ٹی آئی کے پاس تو ابھی کاسہ لیسی کی تاریخ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پی ٹی آئی کس بنیاد پہ دوسروں کو مطعون کرتی ہے۔