کورونا: لاک ڈاؤن کے سوال پر اختلافی رائے

کیا واقعی کورونا وبا کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات ضروری تھے۔ کیا اس قسم کا شدید ردعمل کا جواز موجود تھا اور  کیا اس انتہائی مہلک بیماری کے حملے سے جرمن معاشرہ اتنا زیادہ متاثر ہونے جارہا تھا کہ اس انتہائی معاشی مہلک اقدامات اٹھانے ضروری تھے۔

یہ سوال اب جرمن معاشرے میں سر اٹھا رہے ہیں۔ یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ آیا یہ اقدامات بر وقت تھے اور کیا ان کی اب بھی ضرورت باقی ہے۔ان سوالات کے اٹھائے جانے سے انجیلیکا میرکل کی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں صوبائی حکومتیں مرکز سے بغاوت پر اتر آئی ہیں۔ ان سارے سوالوں کو سمجھنے سے پہلے کورونا وبا کی وجہ سے جرمنی کی موجودہ صورتحال کو جاننا بے حد ضروری ہے۔ سب سے پہلے آج 26 اپریل 20 20  کا وبا کے پھیلاؤ کا چارٹ دیکھئے۔

کل اموات: 154.175،  اضافہ بمقابلہ ایک دن پہلے: 1.7371،  ایک لاکھ افراد پر اموات کی شرح: 185، کل اموات: 5.640

اب اگر اس چارٹ کو دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ  میں آتی ہے کہ ہر  ایک لاکھ میں  شرح اموات 185 ہے جو کہ باوجود ایک بڑی تعداد ہونے کہ کوئی ایسی ڈرامائی تعداد نہیں جو  ایسے سخت اقدامات کرنے کے جواز کی تصدیق کر سکے۔  اور اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ بھی پیش نظر رکھی جانی چاہئے کہ  اموات کی اس  تعداد   میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ ان اموات کی  وجہ صرف کورونا وائرس ہی ہے یا ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کو کورونا ہوا مگر ان کی موت کی وجہ کوئی اور بیماری بنی۔

اسی طرح سے روبرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کا ہی، جو کہ سرکاری ادارہ ہے اور ان تمام لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات کا حامی بھی ہے،  کا پیش کردہ ایک اور گراف بھی جسےRKI  ریپروڈکشن گراف کے نام سے جانا جاتا ہے جو اس ادارے نے پچھلے ہفتے ہی جاری کیا ہے۔  اور اسے ہر روز نئی اطلاع کے مطابق آگے بڑھایا جا تا ہے۔ اس سلسلے میں بہت اہمیت حامل ہے اور  بحث کی وجہ بن رہا ہے۔ اس گراف کو جو کہ وبا کے پھیلاؤ اور دن کے مابین کھینچا گیا ہے (اسے انٹر نیٹ میں دیکھا جاسکتا ہے) کے مطابق جب جرمنی میں لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کئے گئے تو اس  وقت تک وائرس کے پھیلا ؤ کی شرح وہاں تک نیچے آچکی تھی جہاں وہ اب ہے۔ یعنی  اس گراف کے مطابق جرمنی میں مارچ مہینے کے اوئل میں یہ وبا اپنے عروج پر تھی، مگر لاک ڈاؤن کے احکامات سولہ مارچ کو نافذ کیے گئے۔ اور اس کے نفاذ سے لے کر اب تک جب شرح پھیلاؤ مستقل اعشاریہ9 اور اعشاریہ 7 کے درمیان رکی ہوئی ہے تو پھر ان شدید اقدامات کو جاری رکھنے کی وجہ کیا ہے۔شرح اموات میں سب سے بڑی تعداد80 سال سے اوپر کے افراد کی ہے تو کیا یہ ضروری نہ تھا کہ ایسے شدید اقدامات کی بجائے ایسے افراد جو اس وائرس کی  زد میں تھے انہیں بہتر سہولیات، دیکھ بھال اور علاج معالجے کے ذریعہ خصوصی تحفظ دیا جاتا،  نہ کہ ایسے شدید اقدامات کی وجہ سے ان افراد کی دیکھ بھال سے غفلت کی گئی۔

روبرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو ہی لے کر مختلف سائنسدان  اور ماہرین  یہ کہہ رہے ہیں کہ وفاقی جمہوریہ جرمنی کی کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے گئے اقدامات غیر ضروری اور غلط تھے۔ اس ضمن میں  جرمنی کے ماہر ِ وائرولوجی  پروفیسر بختی، جن کا آبائی وطن  انڈونیشیا ہے انہوں نے چانسلر میرکل کو ایک ویڈیو پیغام بھیجا ہے اور درخواست کی ہے کہ رابرٹ کاخ انسٹیٹیوٹ کے  ماہرین کے علاوہ دیگر ماہرین سے بھی رائے لی جائے اور اس کے پیش نظر اقدامات کئے جائیں۔ پروفیسر ڈاکٹر بختی مائنز یونیورسٹی کے سابقہ پروفیسر، شبعہ مائیکروبالوجی  کے سربراہ رہ چکے ہیں اور ملیریا کی وبائی پھیلاؤ کے روک تھام کی سلسلے میں جرمنی میں اور ڈبلیو ایچ او کے ساتھ گرا ں قدر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر پشل نے بھی اسی طرح کا بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتیا طی اقدامات بروقت ضرور تھے، اور اس لیے بھی شاید کہ خدشات بہت تھے مگر اب لاک ڈاؤن کی کوئی ضرورت نہیں۔ چونکہ انہوں نے رابرٹ کاخ انسٹیٹیوٹ کے مشورے کے برخلاف ہمبرگ میں تمام ایسے افراد کی، جنہیں کورونا مرض لاحق ہو گیا تھا،ان کے مرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے ذریعہ یہ معلوم کیا کہ ان میں سے پچاس سال سے اوپر کا کوئی بھی شخص کے مرنے کی وجہ کورونا نہیں تھی۔یہ افراد  پالیٹیو اسٹیشن، یعنی بستر مرگ پر تھے۔ اور مرنے سے قبل انہیں کورونا وائرس بھی لگ گیا تھا۔  

ان دونوں ماہرین کے علاوہ بھی  وائریولوجی کے کئی ماہرین  اس بات کے خلاف ہیں کہ لاک ڈاؤن کو مزید طول دے کر معیشت کا جنازہ نکالاجائے۔ چونکہ جرمنی کی معیشت اس لاک ڈاؤن کے نتیجے میں شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر پیٹر سن اور ڈاکٹر وولز بھی اس ٹیم کے ایک اہم رکن ہیں جن کے خیال سے وائرس نے جو تباہی مچانی تھی وہ جرمنی میں مچا چکا۔ یہ لوگ خاص کر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مرنے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کر کے اس بات کا تجزیہ کیا جائے کہ اموات کی اصل وجہ کیا تھی۔اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر اسٹیفان ہامبورگ جو کہ لائبنٹز یونیورسٹی ہانوور سے ہیں اس بات کو بہت اہم جانتے ہیں کہ ری پروڈکشن ویلو جو کہ وائرس کے پھیلاؤ کی شرح فی مریض  فی افراد کے مابین ایک  ’آر‘  ویلو دیتی ہے وہ جرمنی میں مارچ کے مہینے کے پہلے پندرہ دنوں میں اپنی بلندی تک یعنی ایک اعشاریہ تین تک پہنچ چکی تھی۔ جبکہ لاک ڈاؤن کے بعد سے سے متواتر اعشاریہ 9 کے قریب ہے۔

آسٹریا کے ایل ماہر  مائیکرو بیالوجی  کلے مینس آورے کا کہنا ہے کہ ماسک کی پابندی غیر ضروری ہے۔ بلکہ اچھے اور فلٹر کے بغیر تیار کیے گئے ماسک نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ جرمنی میں مارچ اور اپریل کی بیس تاریخ تک ماہرین کی یہی رائے تھی کہ ماسک جب تک طبی مقاصد کے بنائے ہوئے اور فلٹر سے مرصع نہ ہوں ان کا استعمال درست نہیں۔ جبکہ اپریل ہی کے مہینے میں کسی بھی طرح کے ماسک پہن کر ہی باہر نکلنے کی پابندی کا قانون لاگو کر دیا گیا۔ حکومت کی  پالیسیوں کے رد بدل سے بھی عوام میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔اور نتیجے کے طور پر برلن، میونخ، کیمنٹز، اسٹٹ گارٹ میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کئے ہیں۔