پاکستان وینٹی لیٹر اور دیگر طبی آلات خود بنا رہا ہے: وزیر اعظم
- جمعرات 30 / اپریل / 2020
- 4820
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان خود وینٹی لیٹر بنارہا ہے۔ جو ملک ایٹمی ہتھیا بنا سکتا ہے، اس کے لئے وینٹی لیٹر بنانا مشکل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے خود پر انحصار اور اعتماد کرنا ضروری ہے۔
اسلام آباد میں کامسٹیک ہیڈکوارٹرز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں بہت صلاحیت ہے اور پاکستان سب کچھ بناسکتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ وسائل نہیں بلکہ کیس قوم کا اعتماد اسے آگے لے کر جاتا ہے۔ قوم خود پر اعتماد کرنا شروع کردے تو آگے بڑھتی ہے۔ قوم جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے اس کے اندر اعتماد بڑھتا جاتا ہے اور پھر کوئی مشکل اسے مشکل نہیں لگتی۔
وزیراعظم عمران خان نےکہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں کچھ باتیں سامنے آئی ہیں ایک یہ کہ جب دنیا میں وینٹی لیٹرز کی طلب ہو تو لازمی نہیں کہ ہم ہرچیز درآمد کرسکیں۔ تب ہم نے سوچنا شروع کیا کہ وینٹی لیٹرز بنانا کتنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا جو ملک جوہری ہتھیار بناسکتا ہے اس کے لیے وینٹی لیٹر بنانا کتنا مشکل ہے؟ ہم بائیس کروڑ لوگوں کے لئے سینیٹائزر، ڈس انفیکٹنٹس اور دیگر آلات درآمد نہیں کرسکتے۔
عمران خان نے کہا کہ دنیا میں وینٹی لیٹرز کی قلت سے ہمیں معلوم ہوا کہ وینٹی لیٹرز بنانا اتنا مشکل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نالج اکنامی میں کوئی ترقی نہیں کی۔ ہم نے تعلیم پر پیسہ خرچ نہیں کیا اس لئے ہمیں اعتماد نہیں تھا کہ ہم خود بھی کوئی چیز بناسکتے ہیں۔ جب ہمیں مجبوری ہوئی تو ہم نے خود بنانے کی کوشش کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ کورونا سے دوسری بات یہ سامنے آئی کہ کوئی چاہے بھی تو باہر علاج کروانے نہیں جاسکتا۔ ہمیں اپنا میڈیکل انفراسٹرکچر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا۔ حکمران اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ غریب مزدور کا کیا ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ پاکستان اب سینیٹائزرز اور ڈس انفیکٹنٹس برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ قبل پاکستان کو سینیٹائزز اور ڈس انفیکٹنٹس کی قلت کا سامنا تھا اور آج ہم نہ صرف خود سینیٹائزر بنارہے ہیں بلکہ اس کی برآمد کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم وزارت کامرس کی جانب سے سینیٹائزر کی برآمد پر عائد پابندی ہٹائے جانے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں کورونا ٹیسٹنگ کٹس ہفتوں میں بنا دی گئیں اور اس پر ہم نے بھی کام شروع کردیا۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے فرنٹ لائن ورکرز کے لیے حفاظتی طبی آلات کی تیاری میں نجی شعبے کے کردار کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ چند ہفتے قبل ہمیں پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ کی قلت کا سامنا تھا اب پورا فیصل آباد ڈاکٹرز اور فرنٹ لائن ورکرز کے لیے حفاظتی لباس تیار کررہا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اب یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں ان میں سے کس چیز کی ضرورت ہے اور کیا برآمد کرنا چاہیے۔ اب فیکٹریاں یہ حفاظتی لباس تیار کررہی ہیں، ان کی وافر مقدار موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اب اپنا این-95 ماسک بھی تیار کررہا ہے۔