پاکستان میں صلاحیت کے باوجود ٹیسٹ کیوں نہیں ہو رہے؟
- جمعہ 01 / مئ / 2020
- 6500
پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے روزانہ ہزاروں ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ملک میں بتدریج ٹیسٹنگ کی استعدار کار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں ملک بھر میں ٹیسٹوں کی شرح کم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
نینشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ 82 ہزار 131 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ جن میں سے 16 ہزار 817 کیس مثبت آئے ہیں۔ یوں ٹیسٹ مثبت آںے کی شرح لگ بھگ آٹھ فی صد ہے۔ پاکستان کو شروع میں ٹیسٹنگ کٹس نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب محض بیرون ملک سے آنے والوں کی صرف تھرمل اسکینگ کی جا رہی تھی۔ بعد میں چین اور دیگر ممالک سے پاکستان نے بڑی تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس درآمد کیں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ٹیسٹنگ کٹس وافر مقدار میں موجود ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ 82 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں سب سے زیادہ 79,914 ٹیسٹ ہوئے، یہاں روزانہ دو سے ڈھائی ہزار ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ سندھ میں جمعرات کو 3729 ٹیسٹ اور مجموعی طور پراب تک 51 ہزار 790 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 730 جب کہ مجموعی طور پراب تک 10 ہزار 435 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں عام طور پر روزانہ ایک ہزار ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور تک مجموعی طور پر17 ہزار 452 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں ایک دن میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی تعد 316 اور اب تک مجموعی طور پر 8820 ٹیسٹ ہوئے۔ گلگت بلتستان میں اب تک 3791 ٹیسٹ کیے گئے، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک مجموعی طور پر 1958 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کے ڈاکٹر ممتاز کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت 20 سے 25 ہزار ہو چکی ہے۔ پاکستان کے پاس ٹیسٹنگ کٹس بھی وافر تعداد میں موجود ہیں۔ پاکستان کی صلاحیت اگرچہ 20 ہزار سے زائد ٹیسٹ کرنے کی ہے لیکن ابھی بھی روزانہ لگ بھگ آٹھ ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کا صوبہ سندھ کورونا کے حوالے سے سب سے پہلے اقدامات کرنے والا صوبہ ہے۔ جہاں کورونا کا پہلا مثبت کیس سامنے آیا تھا۔ صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے اب تک چھ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اور یہ تعداد ملک بھر میں کسی بھی صوبے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اب تک 117 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک اور 1284 صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
وائس آف امریکہ کے مطابق اس وقت صوبے میں کورونا ٹیسٹ کے 11 مراکز قائم ہیں۔ جن میں سے نو کراچی جب کہ ایک ضلع خیرپور کے علاقے گمبٹ اور ایک حیدرآباد کی لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں واقع ہے۔ صوبے بھر کے 29 اضلاع میں 68 چھوٹے بڑے آئسولیشن مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے ترجمان کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں آبادی کے تناسب سے سندھ میں ٹیسٹنگ کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ صوبے میں کیے جانے والے ٹیسٹس کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی سب سے زیادہ قابل بھروسہ قرار دیا تھا۔
گزشتہ 18 روز میں سندھ میں کورونا ٹیسٹ کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس دوران کورونا ٹیسٹ کی استعداد کار 500 سے بڑھا کر 2500 ٹیسٹ یومیہ تک کر دی ہے۔ جسے مزید بڑھانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق اِس وقت اُن کے پاس روزانہ کی بنیاد پر صوبہ بھر میں کورونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت پانچ ہزار سے ہے۔ لیکن روزانہ اس تعداد میں ٹیسٹ نہیں ہو رہے۔ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کے ترجمان حافظ قیصر عباس کے مطابق صوبہ بھر میں روزانہ دو ہزار کے قریب ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کم ہونے کی وجہ ترجیحی بنیادوں پر تبلیغی جماعت اور بیرون ممالک سے آنے والے افراد کے ٹیسٹ کرنا ہے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آئندہ چند روز میں پنجاب میں روزانہ سات ہزار تک ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
پنجاب میں حکومتی اسپتالوں کے ساتھ نجی شعبہ میں بھی کورونا کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ جن میں شوکت خانم میموریل اسپتال لیبارٹری، چغتائی لیبارٹری اور مغل لیبارٹریز شامل ہیں۔ ون لیبارٹریز میں روزانہ کی شرح پندرہ سو ٹیسٹ ہے۔ محکمہ صحت نے بتایا کہ سرکاری سطح پر کسی بھی شخص کے ٹیسٹ سے انکار نہیں کیا جاتا۔ کسی بھی جگہ کورونا کا مشتبہ مریض سامنے آتا ہے تو اُس کا مفت ٹیست کیا جاتا ہے۔ صوبہ کے ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں سرکاری سطح پر کورونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
خیبر پختونخوا میں سرکاری سطح پر کورونا وائرس ٹیسٹنگ کی شرح کم ہے۔ اس ضمن میں سوات میں ایک نجی لیبارٹری کو بھی کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔ مجموعی طور پر نجی شعبے میں تین اداروں کو ٹیسٹ کرنے کی اجازت ہے۔ پشاور کے رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور نارتھ ویسٹ اسپتال کو پہلے ہی سے کورونا ٹیسٹ کرنے کی اجازت ہے۔ شوکت خانم اسپتال کی پشاور برانچ بھی تجزیے کے لیے نمونے جمع کرتی ہے۔
وائس آف امریکہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں پشاور کی خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ٹیسٹنگ سہولت موجود ہے۔ سوات کے سیدو شریف اسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان کے مفتی محمود اسپتال اور ایبٹ آباد کے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی سہولیات اور انتظامات بھی موجود ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابتدائی دنوں میں صوبے میں روزانہ کی بنیادوں پر صرف 20 افراد کے ٹیسٹ کیے جا سکتے تھے۔ مگر اب صوبے بھرمیں یہ تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
صوبہ بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 1031 ہوگئی ہے جبکہ صوبے میں کورونا ٹیسٹ کر نے کی صلاحیت تقریباً 800 ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان کرونا وائرس سیل بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کہتے ہیں کہ اس وقت بلوچستان میں کوئٹہ میں سول اسپتال، اور فاطمہ جناح ٹی بی سینٹوریم میں کرونا ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ تفتان بازار میں بھی وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر اب تک 24 ہزار 145 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔