پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد سترہ ہزار سے زائید، اموات 406 ہو گئیں
- جمعہ 01 / مئ / 2020
- 4090
پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 16 ہزار 817 جبکہ اموات 385 تک پہنچ چکی ہیں۔ دنیا میں کورونا وائرس کا شکار لوگوں کی تعداد 32 لاکھ 75 ہزار جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 34 ہزار ہوچکی ہے۔ البتہ دس لاکھ افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں اور ان ٹیسٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ ملک میں کورونا متارین کی بڑھتی ہوئی تعدا دکی وجہ سے اندیشہ ہے کہ مئی کے آخر تک ڈیڑھ لاکھ اس وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
ملک میں کورونا وائرس صحت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بڑی تعداد میں متاثر ہورہے ہیں۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایک ہفتے میں میڈیکل شعبہ کے مزید 191 افراد متاثر ہوگئے۔ اس سے قبل 23 اپریل کو سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں کم از کم 253 طبی عملے کے لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ اب اس تعداد میں 75 فیصد اضافہ ریکارڈ ہؤا ہے اور یہ تعداد 444 تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق طبی شعبہ کے متاثرین میں 29 اپریل تک 216 ڈاکٹرز، 67 نرسز اور 161 صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے لوگ شامل تھے۔ ان تمام افراد میں سے 204 گھروں پر آئیسولیشن میں ہیں، 138 ہسپتالوں میں داخل ہیں جبکہ 94 وائرس سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔
8 ہیلتھ کیئر ورکرز اب تک انتقال کرچکے ہیں۔ سب سے پہلے گلگت بلتستان میں نوجوان ڈاکٹر اسامہ ریاض اس وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں سندھ میں کورونا وائرس سے ڈاکٹر عبدالقادر سومرو انتقال کر گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں سینئر ڈاکٹر کورونا کی وجہ سے انتقال کرگئے تھے۔ پشاور میں انتقال کرنے والے یہ ڈاکٹر ہسپتال کے کورونا وائرس وارڈ میں کام کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک سندھ میں 3، گلگت بلتستان میں 2 اور بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں ایک، ایک ہیلتھ کیئر ورکر کا انتقال ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 444 متاثرہ افراد میں سے 138 انتہائی نگہداشت میں کام کررہے تھے جبکہ 306 ہسپتال کے دوسرے وارڈز میں فرائض کی انجام دے رہے تھے۔ صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے رابطے میں آنے والے لوگوں کو تلاش کرکے ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا کہ حکومت میڈیکل ورکرز کے حوالے سے پریشان ہے۔ جلد ہی کورونا وائرس کے خلاف صف اول پر موجود طبی عملے کے تحفظ کا پروگرام متعارف کروایا جائے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اس وقت ذاتی تحفظ کا سامان (پی پی ایز) خود بنا رہا ہے لیکن یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ مقامات پر ان پی پی ایز کا صحیح استعمال نہیں کیا جارہا، اس سلسلے میں ہم عملے کو تربیت فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت فرنٹ لائنز پر کام کرنے والوں کو نفسیاتی مدد بھی فراہم کرے گی۔
واضح رہے ڈاکٹرز نے حکومت کے لاک ڈاؤن اقدامات سے اختلاف کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے باعث ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔