اسپیکر قومی اسمبلی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا، وہ گھر پر قرنطینہ میں ہیں
- جمعہ 01 / مئ / 2020
- 4640
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر طبی ماہرین کی ہدایت کے مطابق وہ اپنے گھر پر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے خود ایک ٹوئٹ کے ذریعے بتایا کہ ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
اسپیکر نے بتایا کہ انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے اور عوام سے صحت یابی کی دعا کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ کورونا وائرس کے پیش نظر گھروں تک محدود رہیں اور بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اپنائے رکھیں۔ اطلاعات کے مطابق اسپیکر اسد قیصر کے خاندان کے دو دیگر افراد کے بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں ان کی بیٹی اور بیٹا شامل ہیں۔
پاکستان میں عام شہریوں کے علاوہ سیاسی رہنما، سرکاری اداروں اور محکموں سے وابستہ افراد بھی کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل 27 اپریل کو صوبہ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے بھی اس وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔ رواں ہفتے ہی سینیٹ کے رکن مرزا آفریدی اور سندھ اسمبلی کے اقلیتی رکن رانا ہمیر سنگھ میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔
کورونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان کی پارلیمنٹ عملی طور پر معطل ہے اور موجودہ حالات میں قومی اسمبلی و سینیٹ کے ورچوئل اجلاس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ کورونا وائرس کے وبا کے پیش نظر صورتحال اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاس بلائے جائیں۔
اسد قیصر سے قبل قومی اسمبلی کے تین ملازمین میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے باعث تین سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ اس وبا سے متاثر ہونے والے مصدقہ مریضوں کی تعداد سولہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
پاکستان میں اس وبا کی روک تھام کے لئے لاک ڈاؤن چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے ملک کی سیاسی قیادت تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف چار ہزار سے زائد افراد ہی صحت یاب ہوئے ہیں۔ ایک جانب صحت یاب ہونے والے افراد کی شرح بہت کم ہے تو دوسری جانب یومیہ مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی رائے ہے کہ پاکستان سخت قسم کے لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ معاشی سرگرمیوں کو بحال رہنا چاہئے، جبکہ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت وبا کو روکنے کے لئے مکمل لاک ڈاؤن کی حامی ہے۔