نشانہ تو تھا۔۔۔

خبریں آرہی تھیں کہ کورونا آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے۔ لوگ خوش تھے۔ لیکن اچانک کورونا نے پلٹا کھایا اور بیماروں اور اموات کی تعداد میں کرہ ارض  پر اضافہ ہوگیا۔ مخلوق پھر سہم گئی۔ نہ نظر نہ آنے والا بے نام دشمن ہے۔ جس کا کوئی علاج نہیں۔

یہ تو بارہا کہا گیا کہ ہجوم سے دور رہو۔ تقریبات نہ کریں اور نہ ہی تقریبات میں شرکت کریں۔ شادی گھروں، ریسٹورنٹ، مساجد ہر جگہ پابندیاں  عائد کردی گئی ہیں۔ اس کے باوجود کورونا پھیل رہا ہے۔ نہ جانے اس میں خطا کس کی ہے۔ غور کریں تومعلوم ہوگا کہ خطا وار بھی ہم ہیں اور نشانہ بھی ہم ہیں۔ ہم یہ بھی کہتے ہیں کی جمعتہ المبارک کی نماز مسجد میں کندھے سے کندھا ملا کر پڑھنی چاہئے۔ اس نعرہ میں بعض  علما حضرات بھی شامل ہیں اور مسجد کے امام بھی شامل ہیں۔ ہم اس سوچ میں غلطاں ہیں کہ اگر مسجد نبوی بند ہے، خانہ کعبہ بند ہے تو ان مقدس مقامات کے آگے محلے کی مسجد کی کیا حیثیت ہے۔ یا جامع مسجد کی حیثیت کیا ہے۔

بعض علمائے دین یہ بھی فرماتے ہیں کہ عبادت گھر پر  کریں۔ وہ درست فرما تے ہیں۔ عبادت اللہ کی کی جاتی  ہے۔ وہ مشرق میں بھی ہے اور مغرب میں بھی۔ وہ ہماری شہ رگ سے قریب تر ہے۔  یقیناً وہ مسجد تک محدود نہیں۔ لیکن اب مسئلہ ذرا ذیادہ گھمبیر ہوگیا ہے۔  ’مرحبا یا ماہ رمضان مرحبا‘ ۔ اللہ کی خاص مہربانیوں ، برکتوں اور بخششوں کا مقدس مہینہ آگیا ہے۔  اور ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے کہ  کیا ہم افطاری بھی مسجد میں نہ کریں؟ کیا ہم تراویح بھی  گھر پر ادا کریں۔  کیوں کہ عبادت اللہ کی  کی جاتی ہے جو مشرق میں بھی ہے اور مغرب میں بھی اور  ہماری شہ رگ کے قریب تر ہے۔

حکومت وقت بھی بارہا بلکہ بار بار  دہائی دے چکی ہے۔ ہمارے معالجین ہاتھ جوڑ کر بار بار  التماس کررہے ہیں لیکن نہ ماننے والے کب مانتے ہیں۔ اپوزیشن  نے تو ہر حکومتی احکامات کی مخالفت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ شاید اس میں ان کی نان جویں بھی مضمر ہے۔ ہم اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اگر ہم نماز، تراویح اور افطار گھر پر کریں تو اس میں کیا برائی ہے؟  جب ہم قبلہ رو ہو کر  خالق کائینات کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں تو:

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

ہم پر امید ہیں کہ کم از کم اس ماہ مبارک میں  بارگاہ ایزدی میں سر جھکا کر سچ کا دامن تھام لیں تو دنیا بہتر ہوجائے گی۔  ہم سیاست دانی نہیں کررہے لیکن سیاسی  چالیں غور سے دیکھ رہے ہیں۔ شہباز شریف کیوں پاکستان آئے؟ شہباز شریف کو کس نے پاکستان بھجوایا؟ دو  بھائیوں اور ایک بھتیجی کی تکون ہے۔ لگتا یوں ہے کہ نواز شریف نے بھائی سے کہاکہ ’پاکستان جاؤ اور کورونا سے نبرد آزما ہوجاؤ‘ اور بیٹی سے کہا  کہ ’ ڈٹ جاؤ‘۔ حکم چلتا ہے نواز شریف کا جو غائب از نظر ہیں۔  اور نون لیگ کے پرانے  اعلیٰ اقتدار کے متلاشی ہیں۔  لیکن وہ نہیں جانتے کہ ملک کی حالت بدل چکی ہے:

ہم تو دل ہار چکے لٹ بھی چکے

اور دل وہی انداز پرانے مانگے

ہمیں پرانا ڈرامہ یاد آرہا ہے جو نہ تو شیکسپئیر نے تحریر کیا اور نہ آغا حشر کاشمیری نے۔ لیکن اس ڈرامے نے ساری قوم کے رونگٹے کھڑے کردیےتھے۔  ڈاکٹروں نے یہ ڈرامہ تخلیق کیاتھا کہ نہ جانے کل تک نواز شریف زندہ رہ بھی سکیں گے یا نہیں۔  ان کا لندن جانا ازبس ضروری ہے۔ نواز شریف لندن روانہ ہوگئے۔ بعض احباب سوچ رہے تھے  کہ نواز شریف جہاز کی سیڑھیاں چڑھ سکیں گے لیکن وہ چڑھ گئے۔  اور لندن پہنچ گئے۔ بعد میں ان کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں جس میں اپنے پسندیدہ ریسٹورنٹ میں طعام شب سے لطف اندوز ہورہے تھے۔  ہم ان کے خیر خواہوں کا سوچ رہے  ہیں جو کہتے تھے کہ نواز شریف جہاز کی سیڑھیاں چڑھ سکیں گے یا نہیں۔ ان کی خدمت میں جسارت کررہے ہیں کہ نواز شریف کے دن لد گئے۔ پہلی حقیقت پسندانہ بات تو یہ ہے کہ وہ کبھی ’صحت یاب ‘ نہ ہوں گے۔ اور اگر صحتیاب ہو بھی جائیں تو امور حکومت چلانے کے اہل نہ ہوں گے۔  یہ عوام بخوبی جان چکے  ہیں کہ شہباز شریف کا نظریہ کیا ہے۔ اور جہاں تک بھتیجی کا تعلق ہے ، وہ سیاسی نہیں شہنشاہی سوچ رکھتی ہیں۔ اور نون لیگ والے صرف پرانے وقت واپس لانے کی جستجو میں ہیں:

یہ ناممکن نہیں ممکن ہے اب بھی

چلو روٹھے  سمے کو پھیر لائیں

ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نہ تو نواز شریف  کی ذہنی آمریت ختم ہوگی اور نہ ہی شہباز شریف کا  نظریہ بدلے گا۔  اور نہ نون لیگ والے پرانے خوابوں سے نکل سکیں گے۔ یہ بہت ہی کڑا وقت ہے۔ آزمائشیں سرحدوں  پر کماں بدست  استادہ ہیں۔ آسمانی وبا کورونا کی صورت میں دنیا میں بپا ہے۔ اپوزیشن تاریک لبادہ اوڑھے اغیار کی طرح  کماں بدست استادہ ہیں:

یارو اغیار کے ہاتھوں میں کمانیں تھیں فراز

اور سب دیکھ رہے تھے کہ نشانہ تو تھا