پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 18 ہزار سے بڑھ گئی، احساس پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

  • ہفتہ 02 / مئ / 2020
  • 4630

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز دن بدن بڑھتے جارہے ہیں اور اب یومیہ  تقریباً ایک  ہزار یا اس سے زائد کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ اموات کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔

اب تک ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 18662 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اموات 421 ہوگئی ہیں۔ دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد 33 لاکھ 64 ہزار اور مرنے والوں کی تعداد 2 لاکھ 40 ہزار ہوچکی ہے۔ امریکہ 65 ہزار اموات اور دس لاکھ متاثرین کے ساتھ سر فہرست ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث ملازمت سے محروم ہونے والے افراد کے لیے احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔ اسلام آباد میں کورونا ریلیف فنڈ کے ویب پورٹل کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے ویب پورٹل کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔ جہاں ملازمت سے محروم ہونے والے افراد اندراج کرکے رقم کے حصول کے لیے خود کو رجسٹر کرواسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک 3 ہفتوں میں 68 لاکھ خاندانوں میں 81 ارب روپے سے زائد تقسیم ہوچکے ہیں۔  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم آج ملازمت سے محروم ہونے والے افراد کے لیے ویب سائٹ کا آغاز کررہے ہیں جہاں وہ اندراج کرکے رقم حاصل کرسکتے ہیں۔  وزیراعظم نے کہا کہ ٹائیگر فورس اس پورٹل پر اندراج کروانے کے لئے  لوگوں کی مدد کرے۔  رجسٹرڈ افراد کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں رقم ادا کی جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم  فنڈ میں دیے جانے والے عطیات میں 4 گنا عطیات حکومت خود شامل کرے گی تاکہ ان فنڈز کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے بہت زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔ لاک ڈاؤن زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتے۔ امیر ممالک کو بھی یہ احساس ہو رہا ہے اور اس لیے وہ کاروبار کی بحالی کی طرف جا رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اب ہر ملک کی کوشش ہے کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو، نیویارک سب سے زیادہ متاثر ہوا لیکن وہاں بھی صنعتیں کھولی جارہی ہیں، جتنی زیادہ صنعتیں کھلی گیں اتنا زیادہ روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعمیراتی صنعت کو پوری طرح کھول رہے ہیں اور انہیں مراعات بھی دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو روزگار کیسے دیں اور ان کی معاشی مشکلات کیسے دور کریں۔  ہمیں اگلے 6ماہ سے ایک سال تک کورونا کے ساتھ رہنا پڑ سکتا ہے، اس لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جن لوگوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے ان میں سے زیادہ تر میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور صرف 5 فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مثبت ٹیسٹ والے افراد کو اپنے گھروں میں قرنطینہ کرنا چاہیے۔ لوگ قرنطینہ مراکز میں خوش نہیں ہوتے، جب انہیں زبردستی وہاں لایا جاتا ہے۔