سمارٹ ضرور بنیں مگر دھیان سے
- تحریر
- ہفتہ 02 / مئ / 2020
- 4000
لاک ڈاؤن کا فیصلہ امیروں نے کیا۔ فیصلے کرتے وقت کمزور طبقات کا سوچنا ہو گا۔ دنیا میں لاک ڈاؤن کرتے وقت غریبوں کا نہیں سوچا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے بڑی دلسوزی سے اپنا دکھ سامنے رکھ دیا۔
غریبوں سے ہمدردی کسی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونی بھی چاہئے اور اگر کوئی سیاسی قیادت اقتدار میں آئی ہی اس نعرے اور مشن پر ہو کہ وہ ’ بندہ مزدور کے تلخ اوقات ‘ بدل کر رکھ دیں گے تواس قیادت سے غریبوں کی فکرمندی کی توقع بالکل فطری ہے۔
مگر کیا کیجئے کہ یہ فطری توقع جب زمینی حقائق سے کا سامنا کرتی ہے تو کئی تلخ فیصلے مجبوری بن جاتے ہیں۔ وزیر اعظم شروع دن سے سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر ناخوش تھے اور انہوں نے اپنی ناخوشی کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اس ناخوشی کے باوجود ان کی حکومت کو باقی صوبوں سمیت ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرنا پڑا بلکہ بعد ازاں اس میں توسیع بھی کرنا پڑی۔ وہ خود اور ان کے رفقا نے اس لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج پر اطمینان کا اظہار بھی کیا لیکن ایک سانس میں لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج کا اطمینان مگر دوسرے سانس میں لاک ڈاؤن پر شبہات کا اظہار عوام کو ملے جلے سگنل دے رہا ہے۔
پالیسی فیصلوں میں تیقن اور مضبوطی درکار ہوتی ہے تاکہ عوام اور تمام حکومتی مشینری اس پر یکسوئی سے عمل پیرا ہو ، گومگو، اگر مگر اوررو ز روز نت نئی وضاحتوں سے یقین اور مضبوطی دونوں متزلزل ہو تے ہیں۔ اب وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کی فیصلہ سازی میں ایک نیا عنصر شامل کر دیا ہے کہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ امیروں نے کیا۔ یہ وضاحت کرتے وقت یقیناٌ انہیں اندازہ بھی ہوگا کہ یہ فیصلہ ان کی کابینہ نے ہی کیا ہے۔
پاکستان کیا دنیا بھر میں لاک ٖڈاؤن خوشی سے کسی نے نہیں کیا۔ یہ فیصلہ کئے بغیر کسی کو کوئی راستہ سجھائی نہ دیا۔ امیر غریب کی تفریق تو پہلے بھی تھی، اب بھی ہے اور جس طرح کا عالمی معیشت اور ہمارے ہاں کی اپنی معیشت کا ڈھانچہ ہے اس میں امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ تسلیم کہ لاک ڈاؤن جیسے فیصلوں کا اثر امیر اور غریب پر مختلف طرح اثر انداز ہوتا ہے لیکن جب اَن دیکھا وائرس اس قدر خطرناک ہو کہ امیر دیکھے نہ غریب، رنگ دیکھے نہ نسل، تو ایسے فیصلے مجبوری ہو جاتے ہیں۔ بلکہ ایسے میں خطرہ بھانپتے ہوئے پیشگی فیصلے کرنے سے ممکنہ مشکلات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
دنیا بھر کے اعدادوشمار کے مطابق ویت نام میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ حیران کن حد تک کنٹرول میں رہا۔ کنفرم کیسز کی تعداد فقط 270 ہے اور ایک بھی موت ریکارڈ نہیں ہوئی۔ ویت نام ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ آبادی ساڑھے نو کروڑ سے کچھ زائد۔ کمیونسٹ پارٹی کی آمرانہ حکومت ہے۔ پبلک ہیلتھ ماہرین کے مطابق ویت نام نے کرونا کی وبا پر حیران کن سرعت کے ساتھ قابو پایا جس کے نمایا ں اقدامات دوسروں کے لئے بھی مثال ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ویت نام کا اس وبا کی ہولناکی اور پھیلاؤ کا پیشگی ادراک ہے۔ دوسرے یہ کہ حکومت نے چین کے ساتھ سرحد اور عالمی تجارت میں اپنے دارو مدار کے باوجود پہلا کیس دریافت ہونے کے ساتھ ہی فوراٌ بیرون ملک اور اندورن ملک سفری پابندیاں عائد کر دیں۔ ہزاروں مشتبہ افراد کو قرنطینہ کیا گیا، ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا، مشتبہ اور متاثرہ افراد کی ٹریکنگ کا اعلیٰ نظام نافذ کیا کہ معلوم ہو سکے کہ ان افراد کا کن کن سے رابطہ ہوا۔ کرونا ٹیسٹنگ کے لئے ملک میں جنوری میں صرف تین لیبارٹریاں تھیں جن کی تعداد اپریل میں گیارہ سو سے زائد ہو چکی ہے۔
نتیجہ سب کے سامنے ہے، دنیا حیران ہو کر اب جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ اہم ترین نکتہ حکومت کا خطرے کی سنگینی کا پیشگی ادراک، دوم ان اقدامات اور سہو لیات کا فوری بندوبست جس سے پھیلاؤ روکنا مقصود تھا، تیسرے یہ کہ ایک مضبوط آمرانہ حکومت کا آہنی عزم تھا جس کے سامنے چوں چراں کی کسی کو جرات نہ ہوئی۔ ویت نام کی اجتماعی یادداشت میں ماضی وباؤں کی تلخ یادیں زندہ ہیں جس کی وجہ سے قوم اور حکومت میں یکسوئی بھی اہم فیکٹر ثابت ہوئی۔
یورپ اور امریکہ کے اپنے اپنے تجربات ہیں۔ اٹلی، برطانیہ اور امریکہ نے ابتدا میں اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بعد میں جب ہزاروں اموات اور ہیلتھ سسٹم بیٹھنے لگا تو ہوش آئی۔ یورپ میں سوا لاکھ سے زائد اموات ہو چکیں ہیں۔ وبا کا زور اکثر ممالک میں ٹوٹتا ہوا لگ رہا ہے۔ ان ملکوں میں مسلسل اور شدید لاک ڈاؤن نے معیشتوں کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔ فنانشل ڈسپلن کے سب سبق طاق پرر کھ دے گئے ہیں۔ حکومتیں اب تک کھربوں ڈالرز اور یورو کے امدادی پیکیج دے چکی ہیں۔ اب دوسرے مرحلے میں یورپ کے شدید متاثرین ممالک میں دھیرے دھیرے معاشرتی اور معاشی سرگرمیوں کی اجازت دی جا رہی ہے۔ تمام تر حفاطتی تدابیر کا اہتمام لازمی ہے۔ اس کے باوجود ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی وارننگ ہے کہ یہ ممالک جلدی کر رہے ہیں۔ اس امر کا شدید خطرہ ہے کہ یہ وبا دوسرے ریلے کی صورت پھر سے نہ سر اٹھا لے۔
روزمرہ کے معمولات اور معاشی سرگرمیوں کی محدود اجازت کے ساتھ یہ حکومتیں اپنی ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ صلاحیتوں کو بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ فرانس اور برطانیہ میں مئی دوسرے ہفتے تک روزانہ ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کا ٹارگٹ ہے۔ امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں فری ٹیسٹنگ تک کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ماہرین اور حکومتیں اپنے عوام کو بتا رہی ہیں اور بندوبست کر رہی ہے کہ اب اس وائرس کے ساتھ زندہ رہنے کی عادت ڈال لیں، سماجی فاصلہ، انفرادی اور اجتماعی حفاظتی اقدامات، وسیع ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ اس وبا سے بچنے کے بنیادی اقدامات ہیں۔ ذرا سی غفلت اپنے اور دوسروں کے لئے تباہ کن ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی معیشت کے چیلنجز اور بائیس کروڑ آبادی کے معمولات کے پیشِ نظر اب حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہی ہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح سننے میں آرہی ہے۔ قدرت کی مدد ہے یا کچھ علاقائی نظام مدافعت کا کیا دھرا کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں کرونا وبا اب تک اب تک بہت حد کنٹرول میں ہے۔ اسد عمر اور وزیر اعظم عمران خان اس کا اظہار بھی کرچکے ہیں کہ ان کی توقع سے کم پھیلاؤ اور جانی نقصان ہوا۔ سمارٹ لاک ڈ اؤن وقت کی ضرورت ہے، ضرور کریں۔ سمارٹ بنیں مگر دھیان سے، کنفیوز سگنلز سے گریز ہو سکے تو مزید بہتر ہو گا۔