طالبان کا تشدد کم نہ ہؤا تو امریکی فوج بھی کارروائی کرے گی: ترجمان
- اتوار 03 / مئ / 2020
- 4790
افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ترجمان نے افغان فریقین پر زور دیا ہے کہ تحمل سے کام لیں اور افغان تنازع کو حل کرنے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کریں۔
افغان طالبان کو لکھے گئے ایک خط میں امریکی ترجمان نے کہا ہے کہ افغانستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران تشدد میں اضافہ افغان امن عمل کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے نام لکھے گئے خط میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگٹ نے کہا ہے کہ طالبان کی طرف سے اگر تشدد میں کمی نہیں ہوتی ہے تو پھر اس کا ردِعمل بھی ہوگا۔ سونی لیگٹ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ افغان عوام امن چاہتے ہیں۔ دنیا طالبان سے تشدد کو کم کرکے کورونا وائرس سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرنے کا کہہ رہی ہے۔ اب تشدد کو روکنے کا وقت آگیا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام فریقین کو سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ افغان نمائیندوں کو اب مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہئے اور مل کر افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات کرنے چاہیئں۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ترجمان اور طالبان کے ترجمان کے درمیان ٹوئٹر پر بھی بیانات کا تبادلہ ہوا۔ بیانات کا یہ تبادلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں برس 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں امن معاہدہ ہونے کے بعد افغانستان میں بین الافغان امن مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کے قیام کی امید پیدا ہوئی تھی۔
افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافے کے علاوہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں سست روی کی وجہ سے امن عمل معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ افغان تنازع کو حل کرنے لیے سیاسی راستہ اختیار کریں۔ جب کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور بین الافغان مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بنانے کے لیے افغان حکومت اور طالبان میں قیدیوں کی رہائی کے عمل کو تیز ہونا چاہیے۔
کرنل سونی لیگٹ کا خط سامنے آنے سے قبل افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر نے طالبان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر وہ حملے جاری رکھیں گے تو پھر انہیں جوابی کارروائی کو توقع بھی رکھنی چاہیے۔ اس بیان پر طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔
امریکہ اور طالبان معاہدے کے تحت طالبان نے غیر ملکی افواج پر حملے روک دیے تھے اور قیدیوں کی تبادلے کے بعد انہوں نے بین الافغان مذاکرات میں شرکت پر اتفاق کیا تھا۔ امریکہ نے بھی طالبان کے خلاف حملے روک دیے ہیں لیکن افغان سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی صورت میں ان کی مدد کا عندیہ دیا تھا۔