مقبوضہ کشمیر میں پانچ سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے

  • اتوار 03 / مئ / 2020
  • 5260

مقبوضہ کشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ میں عسکریت پسندوں کے ساتھ مبینہ مقابلے میں پانچ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

کپواڑہ کے علاقے ہندوارہ کے ایک دور دراز گاؤں ژنجہ مولہ میں آپریشن میں حصہ لینے والے تین افسران سمیت پانچ اہلکاروں کے ساتھ حکام کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا تھا۔  علاقے میں فوری طور پر فوجی کمک روانہ کی گئی جس میں بھارتی فوج کے پیرا کمانڈوز بھی شامل تھے۔ حکام کے مطابق خراب موسم اور اندھیرا ہونے کی وجہ سے آپریشن اتوار کی صبح تک روک دیا گیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ اتوار صبح ہی مسلح فوجی دستے ایک مکان میں داخل ہوئے جہاں آپریشن کے دوران عسکریت پسند مبینہ طور پر چھپ گئے تھے تاہم اس مکان میں داخل ہونے والے اہلکار یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لاپتہ ہونے والے پانچوں سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

قبل ازیں حکام نے کہا تھا کہ طرفین کے درمیان جھڑپ میں دو مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔  انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مکان کے باہر ایک لاش پڑی دیکھی گئی ہے لیکن یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ لاش کسی عسکریت پسند کی ہے یا فوجی کی۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ پانچوں اُس علاقے میں پھنس گئے تھے جس پر عسکریت پسند قابض ہو گئے تھے۔  اس واقعے میں مارے گئے عسکریت پسندوں کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے دعویٰ کیا کہ ہندواڑہ میں جھڑپ میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں لشکر طیبہ کا ایک اہم کمانڈر حیدر شامل ہے جو ان کے بقول پاکستانی شہری تھا۔ بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے مکان میں موجود ایک کنبے کو یرغمال بنا لیا تھا جب کہ کرنل شرما اور اُن کے ساتھیوں نے بہادری کا بھر پور مظاہرہ کرکے اپنی جانوں پر کھیلتے ہوئے ان نہتے شہریوں کو بچا لیا تاہم وہ اس کارروائی میں مارے آگئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاع ملنے پر کہ دہشت گردوں نے ژنجہ مولہ کے ایک گھر میں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے مل کر آپریشن شروع کیا تھا۔  ان کے بقول شہریوں کو آزاد کرانے کے لیے فوج اور پولیس کے پانچ اہلکاروں پر مشتمل ایک دستہ اُس علاقے میں داخل ہوا جس پر دہشت گرد قابض ہوگئے تھے۔ یہ دستہ شہریوں کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب رہا۔ تاہم دہشت گردوں نے فوج اور پولیس کی مشترکہ ٹیم کو فائرنگ کرکے ہدف بنایا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ہندواڑہ کے واڈر بالا نامی گاؤں میں ہفتے کی سہہ پہر حفاظتی دستوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔ بعد ازاں بھارتی فوج اور جموں و کشمیر پولیس کے شورش مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) نے ایک وسیع علاقے کا محاصرے کر لیا اور گھر گھر تلاشی شروع کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ فوجی حکام کو دو روز پہلے علاقے میں تین عسکریت پسندوں کے موجود ہونے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد علاقے کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو بند کیا گیا تھا جب کہ پورے ہندواڑہ میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئی تھیں۔ اس سے قبل ہفتے کے روز جنوبی ضلع پلوامہ کے ڈانگر پورہ علاقے میں سیکیورٹی فروسز سے مقابلے میں دو مشتبہ عسکریت پسند مارے گیے تھے۔

بھارتی فوج، پولیس کا اسپیشل سروسز گروپ اور دوسرے سیکیورٹی دستے کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں حالیہ ہفتوں میں تیزی لائے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ 10 دن میں آپریشنز کے دوران جموں و کشمیر میں ایک درجن سے زائد مشتبہ عسکریت پسندوں اور ان کے دو معاونین کو ہلاک کیا گیا ہے۔

دہشت گردوں کے معاونین قرار دیے گیے افراد کے رشتے داروں نے پولیس حکام کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہتے عام شہری تھے۔ جنہیں بلا وجہ اور بے دردی کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔