کورونا سے اتنے لوگ نہیں مرے جتنے ٹریفک حادثات میں مرجاتے ہیں: اسد عمر
- اتوار 03 / مئ / 2020
- 5030
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے اتنے لوگ نہیں مرے جتنے ٹریفک حادثات میں مرجاتے ہیں۔ لیکن کبھی ٹریفک کو روکا نہیں جاتا۔
اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کو آرڈینیشن کمیٹی برائے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلے کرے گی۔
اسد عمر نے کہا کہ فیصلے اس طرح سے کیے جائیں گے کہ وہ ہمارے صحت کے نظام کو مفلوج نہ کریں۔ پابندیاں بتدرییج ہٹائی جائیں گے تاکہ عوام کی زندگی بحال ہوسکے۔ ہم نے صحت کے نظام کی صلاحیت بہتر کی ہے۔ ہمارے پاس اس وقت ایک ہزار 400 وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور آئندہ دو ماہ میں مزید 900 کا اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کورونا وائرس کے صرف 35 مریض وینٹیلیٹرز پر موجود ہیں۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملک میں طبی آلات بنانے کی صلاحیت ہے اور جلد ہم وینٹی لیٹرز کی مقامی پیداوار کا آغاز کردیں گے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 55 پوری طرح فعال لیبز موجود ہیں جن میں تقریباً روزانہ 14 ہزار کورونا ٹیسٹ کرانے کی صلاحیت ہے۔ وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور قرنطینہ کا نظام پوری طرح سے فعال بنایا گیا ہے۔
اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا اگر یورپ اور امریکا اور اسپین سے موازنہ کریں تو ان کے مقابلے میں اتنی مہلک نہیں۔ اگر آپ غیر ملکی میڈیا دیکھیں یا آرٹیکلز پڑھیں تو آپ اصطلاح ’فلیٹن دا کرو‘ سنیں گے۔ وہ بھی اس کے خاتمے پر توجہ دینے کے بجائے اسے محدود کرنے پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ اس کے خاتمے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہمیں احتیاطی تدابیر اپنانی ہوں گی تاکہ اس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے لاک ڈاؤن کے اثرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات دیگر مغربی ممالک سے کہیں زیادہ ہیں۔ لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے باعث معاشی طور پر ریونیو میں 119 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ روزگار میں بھی بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔ ایک کروڑ 80 لاکھ افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں 10 لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہوسکتے ہیں اور ہر 4 میں سےایک پاکستانی کے گھر میں خوراک کی کمی ہوئی ہے۔