مودی حکومت کی مسلمان دشمنی

بھارت میں بدقسمتی سے اس وقت اسلام مخالف لہر بڑی شدت سے موجود ہے۔ مودی حکومت کی بنیاد ایک سیکولر بھارت کے مقابلے میں  ہندوتوا کے نظریہ پر مبنی ریاست اورحکومت ہے۔ ان کے بقول بھارت صرف اورصرف ہندوؤں کا ہے اور مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو اگر بھارت میں رہنا ہے تو اسے ہندوؤں کی بالادستی کو قبول کرنا ہوگا۔

اس کھیل کے اصل سرپرست نریندر مودی اور ان کی انتہا پسند جماعت بی جے پی اور اتحادی سخت گیر ہندو جماعتیں یا گروہ ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حالیہ چند برسوں میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں ہمیں مسلم دشمنی یا دیگر اقلیتی لوگوں کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ منطق دی جاتی ہے کہ یہ کا م محض مودی حکومت یا ان سخت گیر اتحادیوں کا ہے، لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کھیل میں بھارت کی ریاست کے ادارے بھی شامل ہیں یا وہ اس کھیل میں مودی فاشزم کے ہاتھوں یرغمال بن کر عملی طور پر اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

حالیہ دنوں میں بھارت بھی ان ملکوں میں شامل ہے جو عالمی وبا کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس موقع پر بھارت میں اس بحران سے نمٹنے میں جو اتفاق رائے نظر آنا چاہیے تھا اس کا فقدان ہے۔ بدقسمتی سے بھارت میں کرونا وائرس سے پہلے جو مسلم دشمنی کی تصویر دیکھنے کو ملتی تھی وہ اس کرونا بحران میں اور زیادہ شدت سے دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سب سے بڑا الزام تو مسلمانوں پر لگایا جارہا ہے کہ بھارت میں پھیلنے والے کرونا وائرس کے اصل ذمہ دارمسلم طبقہ ہے۔ مارچ میں ہونے والے ایک بڑے اسلامی اجتماع کو بنیاد بناکر تبلیغی جماعت سمیت مسلم آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس الزام کے بعد ایک سخت ردعمل ہمیں فطری طور پر مسلم آبادی کے خلاف دیکھنے کو ملا ہے جہاں اس مرض میں مبتلا مریضوں کو مذہب کی بنیاد پر پرکھا، جانچا جارہا ہے۔

یہ شکایت عام ہورہی ہیں کہ بھارت کے مختلف شہروں او ربالخصوص ان علاقوں میں جہاں سخت گیر ہندو کی سیاست کا غلبہ ہے وہاں ہسپتالوں میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے مقابلے میں مذہبی تفریق کا سامنا ہے۔ ابتدا میں تمام وارڈز میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تقسیم نہیں تھی، لیکن اب وہاں آہستہ آہستہ ہندو او رمسلم وارڈ کی بنیاد پر مریضوں کی تقسیم کی جارہی ہے۔ مسلم مریضوں کو وہ تمام سہولیات میسر نہیں جو وہاں ہندوؤں کو دی جارہی ہیں۔ مسلم آبادی کی جانب سے آواز اٹھانے پر ان کو نہ صرف دھکیاں دی جارہی ہیں بلکہ ان کو بلاوجہ ہسپتالوں سے بھی فارغ کردیا جاتا ہے۔ ادویات اور ٹیسٹوں کی فراہمی سمیت کئی محاذ پرمسلم آبادی پریشان نظر آتی ہے۔ اگرچہ بھارت کی حکومت ان الزام کی تردید کرتی ہے، مگر احمد آباد سول ہسپتال کے ایم ایس جی ایچ رتہوڑ نے دی انڈین ایکسپریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا تھا کہ یہ کام انہوں نے ایک حکومتی نوٹیفیکیشن کی بنیاد پر کیا ہے کہ مسلم اور ہندو وارڈ علیحدہ ہوں۔ تاہم بعد میں بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وہ اس کی تردید کرتے ہوئے نظر آئے۔

اسی طرح یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ لا ک ڈاؤن کے نتیجے میں جو بھارت میں معاشی بدحالی پیدا ہوئی ہے اوراس پر جو حکومت نے عام اور غریب لوگوں کے لیے معاشی ریلیف یا راشن کی فراہمی یا خوارک پہنچانے کی جو کوشش کی اس میں بھی مذہب کی بنیاد پر تفریق کے پہلو نمایاں طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ راشن کی تقسیم سے پہلے لوگوں سے پوچھا جارہا ہے کہ ان کا مذہب کیا ہے اورجب لوگ مسلمان ہونے کا کہتے ہیں تو تفریق کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح انتہا پسند ہندو بلاوجہ مسلم آبادی میں خوف پیدا کررہے ہیں اورجگہ جگہ مسلمان عورتوں، بچیوں او رنوجوانوں کو روک کر ان پر تشدد کیا جارہا ہے جو مسلم دشمنی کی عکاسی کرتا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے بھی بھارت میں کووڈ19 کے پھیلاؤ کے الزام میں مودی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی غرض سے اسلامو فوبیا مہم کی شدید مذمت کی ہے۔ فورم نے مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں کرونا کی آڑ میں اسلام فوبیا کو روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں کرونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام اورمیڈیا میں ان کی کردار کشی سمیت انہیں امتیازی سلوک اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس لیے مودی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی قوانین کے مطابق مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے اورمیڈیا کو مسلمانوں کے خلاف منفی مہم سے روکا جائے، کیونکہ اس کا ردعمل آسکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ نے بھی بھارت پر شدید تنقید کی ہے اور بھارت کو اقلیتوں کے حوالے سے خطرنا ک ملک قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان  تواتر سے مودی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں کو ملکی اور عالمی دنیا میں بڑی طاقت کے ساتھ چیلنج کررہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر وزیر اعظم عمران خان نے بھار ت کی موجودہ صورتحال پر اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ”ہزاروں افراد کو بھوک اورمصائب میں پھانسنے والی اپنا ناکام کرونا پالیسی کے خلاف ردعمل سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی حکومت کا جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ ستم بنانا ویسا ہی ہے جیسا جرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا۔  نسلی بالادستی کے نظریے ہندواتہ سے مودی حکومت کے گہرے تعلق کا یہ ایک اور ثبوت ہے“۔ اسی سوچ کا اظہار بھارت کی معروف مصنف اور دانشور ارون دھتی رائے نے بھی کیا ہے۔ ان کے بقول مودی حکومت براہ راست مسلم نسل کشی میں ملوث ہے اورمسلمانوں کو ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب بھارت اورمودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں بھی سیاسی ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔ وہاں بدستور کسی نہ کسی شکل میں لاک ڈاؤن جو پہلے سے موجود تھا اورکرونا کے بعد وہاں کی صورتحال اور زیادہ بگاڑ کا شکار نظر آتی ہے۔ لیکن اس صورتحال میں بھی مودی حکومت اپنے سیاسی تعصب یا کشمیر دشمنی میں پیچھے نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ خود مودی حکومت کی عالمی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ سارک ویڈیو کانفرنس میں پاکستان نے جس انداز میں وہاں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو پیش کیا اس پر بھی بھارت کافی غصہ میں ہے اور اس غصہ کا ایک عمل ہمیں وہاں موجود کشمیریوں کے ساتھ سلوک کے تناظر میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

جو کچھ بھارت میں ہورہا ہے کوئی نیا پہلو نہیں۔ پچھلے کئی برسوں سے مودی حکومت انتہا پسندی اورمسلم دشمنی کی سیاست کررہی ہے۔ اس پر عالمی اداروں، حکومتوں، انسانی حقوق سے جڑے اداروں او ران کی رپورٹس موجود ہیں جو ظا ہر کرتی ہیں کہ بھارت کی ہندوتوا کی سیاست صرف مسلمانوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں سمیت خود بھارت کی بھی سلامتی کے لیے بھی خطرہے۔ کیونکہ بھار ت میں موجود بیس کروڑ مسلمانوں کو اگر طاقت کے انداز میں دیوار سے لگایا گیا تو اس کا ایک بڑا ردعمل بھارت کی داخلی سیاست میں غالب ہوگا اور  اس سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج کا بھارت ا ور مودی حکومت کے اس فاشزم کے کھیل کو کیسے روکا جائے۔ کیونکہ بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتیں، سول سوسائٹی، اہل دانش سمیت کئی طبقات تسلسل کے ساتھ مودی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں کو چیلنج کررہے ہیں، لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکل پایا۔

اس کی تین اہم وجوہات ہیں۔ اول دنیا کی بے حسی یا کمزور دباؤ کی پالیسی جس نے بھار ت میں موجود مودی حکومت کو اپنے فیصلے تبدیل کرنے میں کوئی بڑا دباؤ نہیں ڈالا۔ دوئم بھارت کی اعلی عدلیہ جو وہاں کے سیکولر ازم کی محافظ ہے، لیکن اس کی خاموشی اور تاخیری حربے اورجو لوگ مودی کی انتہا پسندی کو عدالتوں میں چیلنج کررہے ہیں ان کو ریلیف نہ ملنا اور یہ عمل انتہا پسندوں کو اپنے ایجنڈے میں اور زیادہ تقویت دیتا ہے۔ سوئم بھارت میں موجود کمزور حزب اختلاف، سول سوسائٹی جو آواز تو اٹھاتی ہے مگر یہ بھی کوئی بڑا دباؤ پیدا نہیں کرسکی۔

جو آگ مودی حکومت ہندوتوا کو بنیاد بنا کر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف لگارہے ہیں وہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے خلاف ایک مضبوط بند باندھنا ہوگا اوراس عمل میں تمام فریقین کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وگرنہ یہ عمل بھار ت کی اپنی داخلی سیاست کو کمزور کرے گا۔