ادب اور ادیب آن لا ئن

دعا دیجے سائنس کو کہ اس نے ہمارے لئے اتنی سہولتیں اور اتنی آسانیاں پیدا کر دی ہیں کہ اس وقت جب کورونا کی وبا نے ایک انسان کو دوسرے انسان سے دور رہنے اور آپ کو گھروں میں بند رہنے پر مجبور کر دیا ہے توادیبوں نے مل بیٹھنے کا ایک اور ہی وسیلہ تلاش کر لیا ہے ۔

یہاں مل بیٹھنے سے مراد آمنے سامنے بیٹھنا نہیں ہے بلکہ اپنے مو بائل پر ایک دوسرے کے ساتھ علمی اور ادبی مباحث میں شر کت کر نا ہے ۔ لا ہور میں حلقہ ارباب ذوق کی روایت رہی ہے کہ کہ آندھی آئے یا طو فان، ملک کے سیاسی اور سماجی حالات کیسے بھی ہوں حلقے کا ہفت روزہ اجلاس ہر حالت میں ہو گا ۔ اب یہ جو بلائے ناگہانی نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے، اس کی وجہ سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ اس صورت میں حلقے کااجلاس کر نا اور اس کے لئے حاضرین اکٹھا کرنا ممکن ہی نہیں رہے گا ۔ کون نکلے گا اس حالت میں اپنے گھر سے باہر؟ اور کون انہیں اجازت دے گا پاک ٹی ہاؤس میں جمع ہونے کی ؟ لیکن آج کا ادیب اور شاعر وہ پرانا دقیانوسی ادیب و شاعر نہیں ہے جسے باہر کی دنیا تو دور کی بات ہے، اسے خود اپنی خبر بھی نہیں ہو تی تھی ۔

آج کا ادیب و شاعر جدید سائنس اور ٹیکنا لوجی سے بھی بخوبی واقف ہے ۔ اور وہ اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر نا بھی جا نتا ہے۔ عامر فراز آج کل حلقہ ارباب ذوق لا ہور کے سیکریٹری ہیں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ موذی وبا حلقے کے جلسوں کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ چنانچہ انہوں نے جدید ٹیکنالو جی کا سہارا لیا اور حلقے کے اجلاسوں میں شریک ہو نے والے تمام ادیبوں اور شاعروں کو دعوت دی کہ فلاں وقت وہ اپنے اپنے مو بائل کھو ل کر بیٹھ جائیں ۔ مو با ئل پر ہی ایک صاحب اپنامضمون یا افسانہ پڑھیں گے۔ اوراپنے اپنے گھروں میں بیٹھے دوسرے ادیب اس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ۔ اتوار کی سہ پہر ٹھیک چار بجے یہ ”آن لائن‘‘ اجلاس شروع ہو گیا۔ پہلے پچھلے اجلاس کی رپورٹ پڑھی گئی ۔ اورمو بائل پر ہی سب نے اس پر اپنی رائے ظاہر کی ۔

اب یہاں ہم اپنی یا اپنے موبائل کی کمزوری بھی آپ کو بتا دیں کہ اس آن لائن اجلاس میں جو نظم پڑھی گئی ہم وہ پوری طرح سن نہیں سکے ۔ لیکن جو مضمون پڑھا گیا وہ ہم نے پورا سنا۔
یہ مضمون ایرج مبارک کی یاد داشتوں کا ایک حصہ تھا۔ ایرج آ ج کل اپنی یاد دا شتیں لکھ رہے ہیں۔ یہ یاد داشتیں لاہور شہر ، بالخصوس مزنگ اور ٹمپل روڈ کے علاقے اور اس شہر کے ان باسیوں کی یا دلاتی ہیں جن کے ساتھ ایرج کا تعلق رہا۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ہم کسی شخص کی آپ بیتی یا اس کی یاد داشتیں کیوں پڑھتے ہیں؟ سیاست دانوں کی آپ بیتی تو اس لئے پڑھتے ہیں کہ اس میں ” سچی یا جھوٹی‘‘ ہماری سیاسی تاریخ ہو تی ہے ۔ بڑے اور مشہور لوگوں کی یاد داشتیں بھی ہم اسی لئے پڑھتے ہیں کہ وہ ہمیں ہمارا ماضی یاد دلا تی ہیں۔ ایرج مبارک کو ہم ان کی فہرست میں شامل نہیں کر سکتے ۔ ہم انہیں اتنا نیا لکھنے والا تو نہیں کہہ سکتے لیکن وہ اتنے پرانے بھی نہیں ہیں کہ ان کی یاد داشتیں دیکھتے ہی ہم انہیں پڑھنا شروع کر دیں۔ اب یہ ان کا دلچسپ انداز بیان اور ان کی تحریر کا نیانویلا اسلوب ہی ہے جو پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔

اس آن لائن اجلاس میں انہوں نے ان یاد داشتوں کا جو حصہ پڑھ کر سنایا اس کے ہیرو اپنے زمانے کے معروف کا رٹونسٹ قاضی اسلم ہیں ۔ اب آج کی نسل تو قاضی اسلم کو شاید نہ جانتی ہو لیکن انیس سوساٹھ اور ستر کی دہائی یا اس سے ذرا پہلے کی نسل اس نام اور ان کے سنکی پن اور زندگی کے عجیب و غریب انداز سے بخوبی واقف تھی ۔ کہتے ہیں انہوں نے کارٹون بنانے کا آ غاز انگریزی کے قدیم ترین انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ سے کیا تھا۔ بعد میں وہ اخبار مشرق میں کارٹون بناتے رہے ۔ لیکن ان کی شہرت اس گدھے کی وجہ سے زیادہ ہوئی جس پر وہ اپنے کارٹون سجا کر مال روڈ پر لئے پھرتے تھے ۔ ایک بار انہوں نے ہندوستان کے خلاف کارٹون بنا ئے اور انہیں گدھے پر سجا کر مال روڈ پر نکل کھڑے ہو ئے ۔ بظاہر تو یہ کو ئی ایسی خلاف قانون بات نہیں تھی کہ انہیں گرفتار کر لیا جا تا لیکن ان کے ساتھ عام تماشائیوں کا جو ہجوم اکٹھا ہو نا شروع ہوا اس سے شاید امن وامان کا مسئلہ پیدا ہونے لگا تھا۔ اس لئے انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔

اب عدالت میں ان کی پیشی ہوئی تو وہ اپنے ساتھ اپنا گدھا بھی لے گئے۔ پہلے تو اس گدھے کو عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں ملی ، پھر عدالت کے باہر گدھے نے ڈھینچوں ڈھینچوں کرکے آسمان سر پر اٹھا لیا تو اسے عدالت میں داخلے کی اجازت مل گئی ۔ قاضی اسلم نے اس گدھے کو اپنا گواہ بھی بنایا تھا۔ عدالت کے کمرے میں جانے کے بعد بھی گدھے کی ڈھینچوں ڈھینچوں جا ری رہی ۔ شاید مجسٹریٹ صاحب بھی اس تماشے سے محظوظ ہو رہے تھے ۔ انہوں نے قاضی اسلم سے سوال کیا ”یہ گدھا کیا کہہ رہا ہے؟‘‘ قاضی اسلم کا جواب تھا ” یہ کہہ رہا ہے، ہم دونوں بے گناہ ‘‘ ہیں ۔ بعد میں یہی قاضی اسلم اپنے آپ کو بھی بھول گئے تھے۔ وہ ٹمپل روڈ پر حاجی کریم بخش کی دکان کے پہلو میں دہی بڑے والی دکان پر، دکان کے مالک کا پورٹریٹ بنا کر دہی بڑے کھایا کرتے تھے ۔ پھر وہ دہی بڑے کھانا بھی بھول گئے ۔ اور اس ایرج مبارک کو بھی پہچاننے سے انکار کر دیاجس کا انہوں نے پورٹریٹ بنایا تھا۔ یہ ہے ایرج مبارک کی ایک یاد داشت۔

ایرج مبارک جس طرح کی یاد داشتیں لکھ رہے ہیں اس سے ہم لاہور والوں کو بھی ان دکانوں، ان دکان داروں اور ان شخصیتوں سے ملنے کا موقع مل رہا ہے جو اپنی اپنی جگہ نہایت دلچسپ شخصیتیں تھیں۔ لیکن اب وہ کسی کو یاد بھی نہیں ر ہیں ۔ بریانی کی وہ دکان تو شاید اب بھی موجود ہے جس کا نام ’جھٹ پٹ بر یانی‘ ہے ۔ لیکن یہ کو ئی نہیں جانتا ہوگا کہ یہ نام کس نے رکھا تھا ۔ ایرج بتاتے ہیں کہ ان کے محلے میں کسی نے یہ دکان کھولی ۔ اب اس کی سمجھ میں نہیں آ تا تھا کہ اس کا نام کیا رکھا جا ئے ۔ ایک دن اردو میں نثری نظم کے بانی اورایرج کے والد مبارک احمد ادھر سے گزر رہے تھے ۔ دکان دار نے ان سے پو چھاکہ وہ کیا نام رکھے اپنی دکان کا؟ مبارک احمد نے کہہ دیا ” جھٹ پٹ بریانی‘‘۔ اور پھر دکان کا یہی نام پڑ گیا۔ ایرج مبارک کی یاد داشتوں میں ہمیں اس قسم کے اور بھی دلچسپ واقعات ملتے ہیں ۔ اور یہی واقعات اور ان کے بیان کر نے کا دلکش انداز ہی ہمیں یہ یاد داشتیں پڑھنے پر مجبورکر تا ہے ۔ حلقے کے آن لائن اجلاس میں یہ مضمون پڑھا گیا۔ اب جن ادیبوں نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، ان سب کے نام تو ہمیں یاد نہیں رہے ۔ البتہ ضیا الحسن اور امجد طفیل کے نام یاد رہ گئے ہیں ۔ انہوں نے لکھ کر اپنی رائے ظاہر کی۔ باقی اصحاب نے بھی لکھ کر ہی اپنی رائے دی۔

سچی بات ہے کہ ہمیں تو یہ تجربہ بہت ہی اچھا لگا۔ اور اس سے یہ امید بندھی کہ اب صرف حلقہ ارباب ذوق ہی نہیں بلکہ باقی علمی اور ادبی اداروں کے اجلاس میں اسی طرح آن لائن ہو تے رہیں گے ۔ اور ہو بھی رہے ہیں ۔ اکادمی ادبیات نے تواسی طرح آن لائن مشاعرہ بھی کرا دیا ہے ۔ ان اداروں کے اتنے مال وسائل نہیں ہیں ورنہ یہ اجلاس اور یہ مشاعرے اس طرح بھی ہونے لگیں گے کہ سب ایک دوسرے کو ایسے دیکھ رہے ہوں گے جیسے سامنے بیٹھے ہیں ۔ چلئے، ہم یہاں اپنا تجربہ بھی بیان کر دیں ۔ ہمارا ایک بیٹا اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا میں رہتا ہے اور دوسرا بیٹا انگلستان میں ۔ ایک بیٹی کراچی میں ہے تو دوسری بیٹی لاہور میں ۔ یہ چاروں ایک ہی وقت میں ہمارے مو بائل پر آجا تے ہیں  اور ہم سب ایسے باتیں کرتے ہیں جیسے سامنے بیٹھے ہوں ۔ اب ہمیں ڈرایا جا رہا ہے کہ یہ جو کورونا کی مہا ماری یا ہولناک وبا پھوٹی ہے، اس سے اتنی جلدی ہماری جان نہیں چھوٹے گی ۔ اس لئے ہمیں میل جول اور بات چیت کے نئے راستے ہی تلاش کر نا پڑیں گے ۔ اور یہ راستے سائنس ہی ہمیں دکھا ئے گی ۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)