سعودی عرب میں اخراجات میں کمی لانے اور مشکل معاشی فیصلے کرنے کا اعلان
- سوموار 04 / مئ / 2020
- 4090
کوورونا وائرس سے ہونے والے معاشی نقصان کے پیش نظر سعودی عرب نے اپنے بجٹ اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدان نے ہفتہ کے روز کہا تھا کہ کورونا وائرس سے معیشت کو دھچکا لگا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کڑے اور تکلیف دہ فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے سبھی آپشنز کھلے ہیں۔ العربیہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں الجدان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بجٹ کے خرچوں میں نمایاں کٹوتی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے اثرات رواں سال کے دوران دوسری سہ ماہی پر واضح طور پر نظر آئے ہیں۔ الجدان نے کہا کہ سعودی عرب کے مالی معاملات کو سخت کیا جائے گا تاکہ تمام چیزیں قابو میں رہیں۔ اس کے علاوہ میگا پراجیکٹس کے اخراجات میں بھی کٹوتی کی جائے گی۔ دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک سعودی عرب تاریخی طور پر تیل کی کم قیمت سے نبرد آزما ہے۔
رواں سال مارچ میں سعودی عرب کے مرکزی بینکوں میں بیرونی زر مبادلہ کے زخائر میں گزشتہ 20 برسوں میں سب سے زیادہ کمی آئی ہے۔ تیل کی قیمت گرنے کے بعد پہلی سہ ماہی میں نو ارب ڈالر کا بجٹ میں خسارہ ہوا ہے۔ الجدان نے گزشتہ مہینوں میں کہا تھا کہ سعودی عرب رواں سال 26 ارب ڈالر کا قرض لے سکتا ہے تاکہ زرمبادلہ کے زخائر کو متوازن رکھا جا سکے۔
سعودی عرب کی مالیاتی اتھارٹی نے منگل کے روز کہا تھا کہ مارچ میں سعودی عرب کی غیر ملکی املاک میں 464 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ گزشتہ 19 برسوں میں اپنے سب سے نچلے درجے پر ہے۔ سعودی کے وزیر خزانہ محمد الجدان نے کہا کہ اگلے اقدام اور فیصلوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ نقصان کو پورا کیا جاسکے۔ الجدان نے کہا کہ 'رواں سال کے آغاز میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی اور آج 20 ڈالر فی بیرل ہے۔ یہ 50 فیصد سے بھی زیادہ کی گراوٹ ہے۔'