ٹڈی دل کے حملوں سے پاکستانی معیشت کو چار ارب ڈالر نقصان کا خدشہ
- منگل 05 / مئ / 2020
- 5310
اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے خوراک اور زراعت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹڈی دل کے حملوں سے پاکستان میں ربیع اور خریف کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ملک کو رواں سال مجموعی طور پر چار ارب ڈالرز نقصان برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرات میں یہ صورتِ حال غذائی تحفظ، مویشیوں کی بقا اور معاشرے کے سب سے کمزور طبقات کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اس مرتبہ ملک میں فصلوں کو لاحق خطرات 27 سال میں پہلی بار اس قدر زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹڈی دل کے حملوں سے ربیع کی فصلیں یعنی گندم، چنا، روغنی بیج کو کم عرصے میں شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اندازے کے مطابق ٹڈی دل کے حملوں سے پاکستان کی 15 فی صد ربیع کی فصل ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ جس سے ملک کو مجموعی طور پر 205 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس سے بھی زیادہ نقصان خریف کی فصل میں ٹڈی دل کے حملوں کی صورت میں اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ جس کے نقصانات کا تخمینہ 464 ارب روپے لگایا گیا ہے جو کل فصل کا 25 فی صد تک ہوسکتا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں ٹڈی دل کی آبادیاں بلوچستان اور ایران کے جنوب مشرقی علاقوں کی جانب رخ کریں گی۔ جو پاکستان اور بھارت دونوں کے سرحدی علاقوں میں موجود ریگستانی علاقوں کو زیادہ متاثر کرسکتی ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق وقت سے پہلے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی صورت میں ٹڈی دل کی یہ افواج وادی مہران سے ہوتی ہوئی تھرپاکر، نارا اور چولستان کے صحرائی علاقوں میں مون سون سیزن میں تباہی کا باعث بنیں گی۔
پاکستان میں وزرات برائے قومی تحفظ خوراک کے ماتحت کام کرنے والے ادارہ ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن ٹڈی دل سے بچاؤ کے اقدامات کرتا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد طارق خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں فصلوں کو ٹڈی دل کے حملے سے بچانے کے لیے قومی سطح پر ایک پلان تیار کیا گیا تھا جس پر عمل درآمد جاری ہے۔ ایکشن پلان کے تحت بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے صحرائی علاقوں کی مانیٹرنگ کا کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موسم بہار میں ٹڈی دل کی آبادیاں بلوچستان اور ایران کے بعض علاقوں میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ مئی سے نومبر دسمبر تک ان کا رخ سندھ اور پنجاب کے صحرائی علاقوں کی جانب ہو جاتا ہے۔ ٹڈی دل کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن تو نہیں لیکن ان کو کنٹرول کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ وہ فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا باعث نہ بنیں۔