امریکہ نے ووہان کی لیبارٹری سے کورونا کے پھیلاؤ کے شواہد نہیں دیے: ڈبلیو ایچ او

  • منگل 05 / مئ / 2020
  • 4730

عالمی ادارہ صحت  نے کہا ہے کہ امریکہ نے اب تک کورونا وائرس کے چین کے شہر ووہان کی لیبارٹری سے پھیلنے کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔  ثبوت کی عدم فراہمی تک یہ ایک دعویٰ ہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی حالات کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے پیر کو ورچوئل بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ کی حکومت نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیے جس سے اس دعوے کو تقویت مل سکے کہ کورونا وائرس چین کی لیبارٹری سے نکلا تھا۔ ہمارے نکتہ نظر سے یہ اب تک قیاس آرائی ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کوئی بھی معلومات حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں اس وائرس کی پیدائش کے متعلق بتایا گیا ہو۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسان میں منتقل ہوا ہے اور یہ ممکنہ طور پر چین کی اس مارکیٹ سے پھیلا ہے جہاں جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت ہوتا تھا۔ تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار چین کو ٹھیرا رہے ہیں۔  صدر ٹرمپ مسلسل یہ بات کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے شواہد دیکھے ہیں کہ کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری سے ہی پھیلا ہے۔ تاہم چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی وبا کے چینی لیبارٹری سے پھیلنے سے متعلق کافی ثبوت موجود ہیں۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اگر ایسے کوئی شواہد موجود ہیں تو یہ امریکی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس معلومات کا تبادلہ کب کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ شواہد کے بغیر معلومات پر کام کرے۔

ورچوئل بریفنگ کے دوران عالمی ادارہ صحت کی ماہر صحت ماریا وین کرکوف نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے پاس کورونا وائرس کے 15 ہزار ڈی این اے کی ترتیب کا مطالعہ ہے۔ تمام شواہد کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ ایک قدرتی وائرس ہے۔ ماریا وین اور مائیکل ریان دونوں نے ہی اس بات پر زور دیا کہ کورونا وائرس چمگادڑ میں پایا گیا ہے. لیکن یہ کس طرح انسان میں منتقل ہوا اس کا پتا لگانے کی ضرورت ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ یہ مطالعہ جاری رکھیں گے کہ آیا کورونا وائرس جانوروں سے پھیلا ہے یا تجربہ گاہ میں ہونے والے کسی حادثے کی وجہ سے۔ یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت کو پہلے بھی صدر ٹرمپ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور امریکہ نے عالمی ادارے کے فنڈز بھی روک لیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق درست معلومات کا تبادلہ نہیں کیا اور اس کی زیادہ توجہ چین کی جانب ہے۔  دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریاسس صدر ٹرمپ کے ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے نے تمام ملکوں کو وبا کے پھیلاؤ سے متعلق پیشگی اطلاع دے دی تھی۔