رمضان میں لاک ڈاؤن کا سامنا مضبوط ذہن سے کریں
- تحریر آبیناز جان علی
- منگل 05 / مئ / 2020
- 8040
حالات پر قابو پانا انسان کی عادت ہے۔ آنے والے پل کی خبر رکھنے میں اسے تسلی ملتی ہے۔ ماحول جب یک لخت بدل جائے تو انسان کہاں جائے؟ اس کی طبیعت اور اس کا مزاج اثر پذیر ہونے لگتا ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ذہنی مضبوطی اختیار کی جائے۔
اس سال کے شروع سے پوری دنیا کووڈ 19 اور لاک ڈاؤن کی نئی صورتِ حال کی عادی ہوہی رہی تھی کہ رمضان المبارک کا مہینہ آگیا۔ ماہِ صیام تو تکلیف برداشت کرنے کا مہینہ ہے۔ مومن اپنی نیند اور اپنی بھوک کو اللہ کی رضا پانے کے لئے قربان کرتا ہے۔ اس سال تو اس کے لئے مسجد کے دروازے بند کردئے گئے ہیں۔ اذان میں بھی یہی صدا بلند کی جارہی ہے کہ گھر پر ہی نماز پڑھی جائے۔ اس سال تراویح اور جمعہ کی باجماعت نمازوں سے بھی محرومی لکھی گئی ہے۔
احباب اور رشتہ داروں سے میل جول بڑھانے کا بہانہ بھی ہاتھ سے گیا۔ افطار کی دعوتیں تو یادیں بن کے رہ گئی ہیں۔ اس سال رمضان سے منسلک بازار میں ملنے والے خاص پکوان دستیاب نہیں۔ موریشس میں رمضان کے مہینے میں نان بیچے جاتے ہیں جو نہ صرف روزہ دار سحری یا افطار میں کھاتے تھے بلکہ غیر مسلم میں بھی سادہ، چکن یا پھر گوشت کے بنائے ہوئے نان خوب پسند کئے جاتے تھے۔ سڑک کے کنارے پکوڑے بیچنے والوں کی قطاریں نظر آتی تھیں۔ اب تو ساری گلیاں خاموش پڑی ہیں۔ ستم بالائے ستم قفل بندی میں عید کی خریداری بھی حرام ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کو اس بار شاید عید پر نئے کپڑے نہ ملیں اور نہ ہی عید کی نمازمسجد میں پڑھنے کی سعادت حاصل ہو۔ ان باتوں پر غور کیا جائے توانسان سوچنے پر مجبور ہوجائے کہ یہ کیسے دن آگئے ہیں۔ اپنوں کی وفات پر میت میں شرکت بھی نہیں کی جاسکتی۔ آئے دن کرونا وائرس سے متاثر لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا ذکر نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ذہن کو مضبوط رکھا جائے۔
یہ مت سمجھئے کہ دنیا آپ کی مقروض ہے کیونکہ آپ کی آزادی اور آپ کا معمول آپ سے چھین لیا گیا ہے۔ غلط توقع رکھنے سے صرف دکھ ہی ملے گا۔ خود پر ترس کھانا بند کریں۔ جن چیزوں پر آپ کا کوئی اختیار نہیں ان پر وقت ضائع نہ کریں۔ لاک ڈاؤن کئی لوگوں کو اپنے ہنر کا مظاہرہ کرنے کا موقع دے رہا ہے۔ آن لائن کا شور و غوغہ انسان کی ہمت اور حوصلہ پر نشتر کا کام کرسکتا ہے۔ دوسروں کی کامیابی پر حسد نہ کریں۔ ایسی چیزوں پر وقت ضائع نہ کریں جو آپ کے اختیار سے باہر ہے۔ ماضی کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو بھول کر حال پر توجہ دیں اور اسی کے مطابق ردِ عمل دکھائیں۔ اپنی زندگی کو دوسروں کی رائے یا ان کی مرضی کے حوالے نہ کریں۔ سب کو خوش کرنے کی فکر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان متبرک ایام سے فیضیاب ہونے کی سعی کریں۔
اپنی غلطیوں کو پاؤں کی زنجیر بنانے کے بدلے ان سے سبق اخذ کرکے آگے بڑھیں اور بار بار وہی غلطیاں کرنے سے پرہیز کریں۔ رمضان توبہ کرنے کا وقت ہے۔ رحمت کے دروازے ابھی بھی کھلے ہیں۔ اس لئے بدلتے حالات سے نہ گھبرائیں بلکہ دل کھول کر نئے طر یقہ کار کو گلے لگائیں۔ زندگی میں نڈر رہیں۔ فوری نتائج کی توقع نہ رکھیں کیونکہ پودے کو پھل دینے میں وقت لگتا ہے۔ کسی کام میں پہلی کوشش پر ناکامی ملے تو ہمت نہ ہاریں۔ اکیلے رہنے سے نہ گھبرائیں۔ یہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا عمدہ موقع ہے۔ یہ تدبر کا وقت ہے۔
اپنے حوصلے کو بلند رکھ کر اپنے اغراض و مقاصد کی طرف قدم اٹھائیں۔ زندگی کی طرف اپنا تجسس برقرار رکھیں۔ ہر کام میں اپنی بساط کے مطابق بہترین کارکردگی دکھائیں اور مصائب کا سامنا کریں۔ زخم ملنے پر بھی آگے بڑھیں۔ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے اسے مضبوط بنائیں۔ فارغ وقت کو غنیمت جان کر اپنے دینی معلومات میں اضافہ کریں اور مسلسل کوشش کرتے رہیں۔ اپنی انفرادیت کو برقرار رکھیں۔ رمضان میں بھی ورزش کے لئے وقت نکالیں۔ اس سے مثبت سوچ کی آبیاری ہوگی۔لاک ڈاؤن میں دل اداس ہو تو دوسروں کی مدد کے لئے آگے بڑھیں۔ لوگوں سے رابطہ قائم کریں اور ان کو تشفی دیں۔ ایسا کام انجام دیں جو آج تک انجام پذیر نہیں ہوا تاکہ دوسروں کی زندگی بہتر ہو۔ پرانے طریقہ کار پر سوالیہ نشان لگائیں۔ اس بین الاقوامی وبا کے بعد دنیا ایک نئی حقیقت کی طرف گامزن ہورہی ہے۔ اس کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار رکھنا ہے۔
یہ کہنے کی جگہ ’کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا‘، ’میں اس میں ماہر نہیں ہوں!‘، ’یہ کام بہت مشکل یا بہت آسان ہے!‘، ’میں غلطی کروں گا اور ہار جاؤں گا!‘، ’میں یہ کام نہیں کرسکتا اور ناکام رہوں گا اس لئے کوشش نہیں کروں گا!‘ یا میں تو اپنے دوستوں کی طرح ہوشیار نہیں ہوں!‘یہ کہیں ’ابھی میرے پاس یہ علم نہیں ہے لیکن میں سیکھ سکتا ہوں!‘، ’میں نے مشق کی ہے اور اس کو کرنا سیکھا ہے!۔ اس کام کو صحیح طرح کرنے کے لئے اور زیادہ مناسب راستہ تلاش کرنے میں محنت کی ضرورت پڑے گی!‘، ’میں اس کام کو کیسے بڑھا سکتا ہوں؟‘،’میں غلطیوں کو سیکھ کربہتر بنوں گا!‘، ’اگر میں سوچ سمجھ کر قدم بڑھاؤں تو آگے جاؤں گا!‘، ’میں دوسروں سے مدد مانگ سکتا ہوں!‘، ’میں اس کام کو بہتر کر سکتا ہوں!‘،’اگر میں ناکام رہا میں دوبارہ کوشش کرسکتا ہوں جب تک کہ میں کامیاب نہ ہو جاؤں!‘، ’میں اپنے ذہن کو مضبوط بنا سکتا ہوں!‘
ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ رات اور دن کا تعین کرنے والا خدا ہے جس کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں گرتا۔ ایسے وقت میں اپنی سوچ کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ جو لوگ اپنا ذہن مضبوط رکھتے ہیں وہ نیا علم حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے ترقی میں وقت لگتا ہے۔ وہ مدد مانگتے ہیں۔ وہ دوسروں سے متاثر ہوکر اپنے کام کو بہتر بناتے ہیں۔ہمت جٹا تے ہوئے دوسروں کی رائے سے سیکھتے ہیں۔ وہ ناکامی سے نہیں ڈرتے۔ انہیں نئے چیلنج پسند ہیں۔ وہ غلطیوں کو نیا موقع مانتے ہیں اور اس وقت تک کوشش کرتے ہیں جب تک انہیں کامیابی نہیں ملتی۔