مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد

ان دنوں پوری دنیا میں کورونا کورونا ہو گئی ہے، اس اندھی وبا نے نیک دیکھا ہے نہ بد، جو بھی اس کے شکنجے میں آیا ہے کچلا گیا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ کورونا ایک بیماری ہے جس کا کسی گناہ ثواب، مذہب یا مسلک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

پھر بھی کچھ مذہبی لوگ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے عامۃ الناس کو یوں خوفزدہ کر رہے ہیں کہ جیسے اُن کے مذہبی گناہوں کی پاداش میں خدا نے اُن پر اپنا عذاب ”قہرِ الٰہی“ بنا کر بھیجا ہے، ان مذہبی نافرمانیوں میں وہ خواتین سب سے آگے ہیں جو پورا لباس، برقع یا عبایا وغیرہ نہیں پہنتیں اور یوں وہ فحاشی و عریانی کی مرتکب ہوتی ہیں۔ اس سے آسمانی خدا ناراض ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس خدائی ناراضی کے مجرم وہ لوگ بھی ہیں جو قوم کی بیٹیوں کو نچواتے ہیں۔ قوم کی بیٹیوں کو کون لوگ نچواتے ہیں اور کس کے جلسے میں ناچنے کو ان کا دل کرتا ہے؟ اس کی وضاحت تو نہیں کی گئی ہے کہ وہ تو ایک پارسائی کا مرقع ہے، باقی ساری کی ساری قوم بددیانت، بے ایمان، بے حیا، سود خور اور نہ جانے کن کن برائیوں میں مبتلا ہے۔ الفاظ قابلِ ملاحظہ ہوں: ”اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹے سے وائرس کے ساتھ دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ہمیں اس آفت سے نجات کے لئے بے حیائی کو روکنا ہو گا جب مسلمان کی بیٹی بے حیائی کی طرف چلی جائے تو پھر اللہ کا عذاب آتا ہے۔ کورونا آسمانی آفت ہے، آپ اس سے لڑ نہیں سکتے یہ لفظ اللہ کو پسند نہیں، آفت سے چھٹکارے کے لئے اللہ تعالیٰ کو عاجزی کے ساتھ منانا ہے اور بے حیائی کو روکنا ہے“۔

الحمد للہ درویش خود ایک ریٹائرڈ مولوی ہے اور ساری زندگی اپنے دین کو پڑھتا سمجھتا چلا آ رہا ہے، اس لئے اپنی برادری والوں کی خدمت میں پہلی گزارش یہ کرنا چاہتا ہے کہ خدارا! خدا کو اپنی تنگ نظری پر مبنی سوچ جیسا حقیر بنا کر پیش نہ کریں جو اتنی عظیم الشان کائنات کا خالق و مالک ہے جس کے ”کن“ کہنے سے سب کچھ ہو جاتا ہے، کیا وہ کسی بچی کے ناچ گانے سے یا عبایا نہ پہننے سے ایسی آسمانی آفت بھیج دیتا ہے جو سچے جھوٹے اور نیک بد کی تمیز کئے بغیر سب کو موت کے گھاٹ اتارتی چلی جائے؟

جب وہ عادل ہے تو کیا کوئی منصف اس نوع کی بے انصافی کر سکتا ہے؟ ہمارا دعویٰ ہے کہ ”اللہ الصمد“ یعنی اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، وہ ہماری نمازوں، روزوں یا عبادتوں کا محتاج ہے اور نہ ہی جو لوگ اس نوع کی عبادات نہیں کرتے ان سے اس کی خدائی کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ وہ ہمارے ان صاحبان کی طرح اپنی شان سننے کا حریص نہیں ہے اگر ایسے ہوتا تو اس کی ”بے نیازی“ پر حرف آتا۔ ہم مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ پروردگار عالم اپنے بندوں سے 70ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے تو فوری سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ماں اپنا حکم بجا نہ لانے والے اپنے نافرمان بچے کو آگ کے تنور میں ڈال سکتی ہے؟ کوئی ظالم سے ظالم ماں بھی اپنے بچے کو کسی آفت میں نہیں ڈال سکتی تو پھر وہ جو 70ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، بھلا اپنے بچوں کو کیسے آگ میں ڈالے گا اور کیسے کچھ گنہگار خواتین کے محض ناچ گانے پر یا کم کپڑے پہننے پر ایسی آسمانی آفت نازل کرے گا کہ جو نیک و بد کو بلا تمیز بھسم کر ڈالے۔

اقوام پر عذابوں کے قدیمی حوالوں میں بھی ہمارے ان صاحبان نے بڑی غلطیاں کیں اور ٹھوکریں کھائی ہیں حقائق کو بالعموم قطعی غیر حقیقی رنگ میں پیش کیا گیا ہے، اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں مثال کے طور پر ایک طرف سیدنا ابراہیمؑ کو دہکتی آگ سے نکال لے جانا اور دوسری طرف خود ہی منکرین انبیاء کے حوالے سے یہ فرمانا کہ ”و قتل الانبیاء بغیر حق“ کہ انہوں نے خدا کے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہاں بھی شعور کو استعمال میں لاتے ہوئے غور کرنے کی ضرورت تھی کہ اصلیت کیا ہے؟ ایک طرف آپ اپنے ایک بھیجے ہوئے کو دہکتی آگ سے سلامت نکال لے جا رہے ہیں دوسری طرف آپ کے سامنے آپ کے بھیجے ہوئے پیغمبر نا حق قتل کئے جا رہے ہیں آپ انہیں بچا نہیں رہے تو اصل ماجرا کیا ہے؟ اس سلسلے میں سیدنا یحییٰ ؑ کی مثال پیش کی جا سکتی ہے جو خدا کے پیغمبر سیدنا زکریاؑ کے نورِ نظر تھے، سیدنا ذکریاؑ جب بیٹے کے لئے دعا مانگ رہے تھے تو خدا کی طرف سے فرشتے نے دعا ختم ہونے سے پہلے ایسے بیٹے کی بشارت سنا دی جو سچا و صالح نبی ہو گا۔ بمطابق قرآن اس کا نام یحییٰ ؑبھی خدا نے خود آسمانوں پر رکھ دیا۔ برسوں بعد جوانی کی عمر میں اسی پیغمبر خدا سیدنا یحییٰ ؑ کا سر کاٹ کر طشتری میں رکھ کر کسی کو پیش کیا جا رہا تھا۔

درویش کی گزارش ہے کہ اس نوع کے مباحث قوم کے سامنے پیش کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ ہمارے تیز طراز مولوی صاحبان غیر شعوری اور محض جذباتی خطبات میں معصوم اذہان کو جس طرح مسموم کرتے چلے آ رہے ہیں اس کی روک تھام کرتے ہوئے اندھی جذباتیت کی جگہ کامل سچائی اور حقائق لے سکیں۔ اس امر میں بھلا کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ قوم میں لہو و لعب اور عریانی و فحاشی نہیں ہونی چاہئے لیکن لہو و لعب اور فحاشی ہے کیا؟ اس پر یک طرفہ پروپیگنڈا نہیں ہونا چاہئے، مثال کے طور پر اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فحاشی سے مراد ”بد تہذیبی“ ہے یعنی شائستگی سے گری ہوئی کوئی بات تو اس کی بات بھی سنی جانی چاہئے۔ مذہبی جبر کی روایتی اپروچ نے ہماری سوسائٹی کے اجتماعی شعور کو کئی دہائیوں سے یرغمال بنا رکھا ہے جس کی بدولت ہمارے کچھ خطیب صاحبان اس قدر تگڑے ہو چکے ہیں کہ کافر تو رہے ایک طرف، 57اسلامی ممالک میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ کیا کسی صاحب شعور کو یہ یارا ہے کہ ان کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکے؟ ان کے اپنے قبیلے کا کوئی خرد مند اگر ایسی جسارت کرتا ہے تو اسے ملائیشیا بھاگنا پڑتا ہے یا امریکا۔

اے نونہالانِ قوم آپ پورے تقدس و احترام کے ساتھ ان جذباتیت پھیلانے والوں سے ذرا اتنا تو پوچھ لیا کریں کہ جب خدا نے آدم ؑ و حوا کو اس زمین پر اتارا تو کپڑے کا اہتمام کیوں نہ کیا؟ وہ پتوں کے ذریعے اپنا ستر ڈھانپنے پر مجبور کیوں ہوئے؟ نسل انسانی بڑھانے کے لئے بہن بھائیوں کی شادی کیوں روا رکھی گئی؟ نسل انسانی صدیوں غاروں میں رہنے اور درندوں کی غذا بننے پر مجبور کیوں رہیں؟ کیا یہ انسانی عظمت کی چھوٹی دلیل ہے کہ حضرت انسان نے بغیر کسی آسمانی رہنمائی کے اپنے لئے اس دنیا کو غاروں سے نکل کر اکیسویں صدی کی تہذیبی و تمدنی عظمت تک پہنچایا ہے اور طبی و تحقیقی ترقی نے مختلف النوع بیماریوں سے نسل در نسل کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔ آج بیت اللہ کی فضاؤں کو تعفن سے بچانے کے لئے انسانی دواؤں کا سپرے کیا جا رہا ہے۔

فقیہ شہر کی تحقیر! کیا مجال مری

مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد