وائرس دنیا میں انوکھی تبدیلی لایا ہے

یوں تو دنیا میں ہرا یک سو سال کے دوران کم از کم ایک بڑا سیلاب،ایک بڑا زلزلہ اور ایک بڑی وبائی بیماری سے  انسان وسیع پیمانے پر متاثر ہوتے ہیں تاہم اب اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے ہی یہ صورتحال واضح ہو رہی ہے کہ اس صدی میں وائرس کی کئی مختلف بیماریوں کے خطرات موجود ہیں۔

کورونا ڈیڈ لاک‘ کی انوکھی صورتحال نے معمولات زندگی کو شدید متاثر کرتے ہوئے دنیا کو یوں اپنی لپیٹ میں لیا ہے کہ نسل انسانی کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔تجارتی،معاشی،سیاسی،معاشرتی،علمی رابطوں کے طور پربھی دنیا کے’گلوبل ولج‘ کی شکل میں سامنے آنے کی صورتحال میں اب دنیا کے تمام خطے وبائی امراض کے خطرات کے نشانے پر آ چکے ہیں۔بڑی جنگیں،بڑی قدرتی آفات،وسیع پیمانے پر پھیلتے وبائی امراض دنیا کو نئی ضروریات،نئے ماحول سے روشناس کراتے ہیں۔

جراثیم(بیکٹیریا) کے علاوہ اب انسان وائرس کی چند اقسام سے مہلک بیماریوں کے خطرات کا شکار ہے۔جراثیم کی ہئیت اور عوامل کے بارے میں تو کافی کام ہو چکا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی  اکثربیماریوں کا علاج دریافت ہو چکا ہے تاہم بیماریوں کا باعث بننے والے وائرس کی ساخت  و غیرہ کے بارے میں  بہت سا تحقیقی کام ابھی باقی ہے۔وائرس کے حوالے سے نت نئی وبائی بیماریاں سامنے آ رہی ہیں اور اس تناظر میں صحت و سلامتی کے حوالے سے انسانوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

سرد جنگ کے بعد نیو ورلڈ آرڈر کا تو سنتے آئے ہیں تاہم اب ایسی صورتحال درپیش ہے کہ جہاں انسانی منصوبہ بندی اور تدابیر،  نظر نہ آنے والے،غیر محسوس انداز میں تبدیلی کے موجب عوامل سے مجبور ہوتے نظر آتی ہیں۔آج دنیا کے پاس سب سے زیادہ انسانی وسائل ہیں لیکن انسانی وسائل کے ذخیرے،طاقت کوسوائے جنگ و جدل کے،  استعمال کرنے کے ذرائع محدود کر دیے گئے ہیں۔

کورونا دنیا کے نئے ماحول،نئی ضروریات کو بھی سامنے لایا ہے۔نئے وبائی امراض کے خطرات سے انسانوں میں ایک دوسرے سے خیر سگالی طور پر ہاتھ ملانے،گلے ملنے کے قدیم روائیتی طریقے اب ختم ہو چکے ہیں۔خیر سگالی کے اظہار کے لئے اب انسانوں کو متبادل طریقوں پر غور کرنا پڑے گا۔ اب سمارٹ گھروں کے ساتھ ساتھ ایسے گھروں کی ضرورت میں بھی اضافہ ہو گا کہ جو جراثیم اور وائرس کی نقصانات سے محفوظ ہوں۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کئی جراثیم اور وائرس انسانوں،ماحول کے لئے مفید ہیں،تاہم بیماریوں کے موجب جراثیم اور وائرس سے بچاؤ کی کوششوں میں فائدہ مند جراثیم اور وائرس سے دوری انسان اور ماحول کے لئے نئے اور انوکھے خطرات کا موجب سکتی ہے۔

 قدرت کا توازن برقرار رکھنے کا اپنا ایک نظام ہے۔کورونا سے جہاں دنیا ’ڈیڈ لاک‘ اور اموات کا شکار ہو رہی ہے وہاں مجموعی طور پرٹریفک،آلودگی و دیگر کئی مختلف وجوہات سے ہلاک ہونے کی تعداد میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے،آلودگی کم ہوئی ہے،جنگلی اور قدرتی حیات کو بھی انسانی بداعمالیو ں سے ذرا سکون ملا ہے۔

کورونا اور دیگر وبائی امراض کے تناظر میں دنیا میں روبوٹ،مصنوعی ذہانت کے طریقہ کار کو فروغ ملے گا،  بیروزگاری میں اضافہ ہوگا،  طاقت و اختیار رکھنے والے طبقات کے مفادات مقدس تر قرار پائیں گے جبکہ عام انسانوں کی بے قدری میں مزید اضافہ ہو گا۔اب وقت آ گیا ہے کہ جب ہمیں انسانوں اورقدرتی ماحول کے مفادات کو قطعی طور پر اولین ترجیح بنانا ہو گا۔آج انسان مختلف شعبوں میں اتنی ترقی کر چکا ہے کہ کسی بھی مسئلے،  مشکل کا حل تیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ابھی جدید انسان کو اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کرنی ہے،  اس صلاحیت کی ترویج کرنی ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں ماحولیات اور انسانوں میں تمیز اور تفریق کو ختم کیا جاسکے اور نسل انسانی کو درپیش مسائل ومشکلات اورخطرات کو کم سے کم کرتے ہوئے انسانی دنیا کی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔