امریکی صدر و نائب صدر کا روازانہ کی بنیاد پر کورونا ٹیسٹ ہوگا
- جمعہ 08 / مئ / 2020
- 3950
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کا کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد صدر و نائب صدر کا ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ وہائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق اب صدر اور نائب صدر کا روازانہ ٹیسٹ کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں تعینات امریکی فوجی اہلکار کا بدھ کو کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا۔ جمعرات کو اوول آفس میں ٹیکساس کے گورنر سے ملاقات کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کورونا سے متاثرہ اہلکار اُن سے رابطے میں تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگن گیڈلے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کی صحت ٹھیک ہے۔ دونوں شخصیات کے کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ ترجمان نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے وائٹ ہاؤس میں تعینات فوجی اہلکار سے متعلق مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں کام کرنے والے عملے اور خصوصاً وہ جو اکثر صدر ٹرمپ کے قریب رہتے ہیں، ان کے روزانہ کی بنیاد پر کورونا ٹیسٹ ہوتے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وائٹ ہاؤس کا اسٹاف، سروس ایجنٹس اور مہمان عموماً ماسک نہیں پہنتے۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس ٹیسٹ سے متعلق کہا کہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ ہی درست آرٹ نہیں ہے اس لیے ہم ہفتے میں ایک مرتبہ ہی ٹیسٹ کرتے ہیں۔ لیکن اب ہم روزانہ ٹیسٹ کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کو ماسک نہ پہننے پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے ریاست ایریزونا میں ماسک فیکٹری کے دورے کے موقع پر ماسک نہیں پہنا تھا۔ کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے پر تنقید سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ فیکٹری کے مالک نے اُنہیں بتایا تھا کہ فیکٹری کے اندر ماسک پہننا ضروری نہیں ہے۔
اوول آفس میں بدھ کو نرسز سے ملاقات کے موقع پر بھی صدر ٹرمپ نے ماسک نہیں پہنا تھا۔ اس ملاقات کے دوران طبی عملہ صدر ٹرمپ کے بہت قریب تھا اور اس موقع پر سماجی دوری کا بھی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا تھا البتہ ان میں سے ایک شخص کئی بار کھانستا رہا تھا۔
اس دوران امریکہ کی مختلف ریاستوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر پینس کا ہر روز کورونا وائرس ٹیسٹ کیا جائے گا۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کے عملے کے ایک رکن کا ٹیسٹ مثبت آنے پر اٹھایا گیا ہے۔ ادھر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث بے روز گاری کی شرح 16 فی صد تک پہنچ سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر افریقہ میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا نہ گیا تو اس بر اعظم میں چار کروڑ چالیس لاکھ افراد اس وائرس میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور یہاں ہلاکتوں کی تعداد 190,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ میں افریقہ کے 47 ممالک میں صورت حال کا احاطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ افریقہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح پہلے سال کے دوران دنیا کے دیگر علاقوں سے کم رہنے کی توقع ہے، تاہم خدشہ ہے کہ افریقہ میں کورونا وائرس شدت کے ساتھ باقی دنیا سے زیادہ دیر تک جاری رہ سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے افریقی خطے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماتشی دیسوموئیٹی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس آنے والے کئی برسوں تک ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ رہ سکتا ہے۔ لہذا ٹیسٹ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر موئیٹی کا کہنا ہے کہ اگر افریقہ میں کورونا وائرس زور پکڑ گیا تو استپالوں کی استعداد بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس وائرس کی روک تھام اب نہ کی گئی تو بعد میں اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔