قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن سوال نہیں کرے گی

  • جمعہ 08 / مئ / 2020
  • 3530

پاکستان کی پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے کورونا وائرس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن کے بعد  قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے۔ اجلاس 11 مئی سے شروع ہو گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ غیر روایتی اجلاس کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لے گا۔ حزب اختلاف اور حکومتی جماعت کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ اس غیر معمولی اجلاس میں نہ تو قانون سازی ہو گی۔ نہ سوالات پوچھے جائیں گے اور نہ ہی کوئی توجہ دلاؤ نوٹس یا تحریک التوا پیش کی جائے گی۔

حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق کیا ہے کہ اس اجلاس میں کورم مکمل نہ ہونے کی نشاندہی بھی نہیں کی جائے گی۔  ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ریاست کا سب سے بڑا ادارہ کورونا وائرس کے حوالے سے کیا کردار ادا کرے گا۔ کیوں کہ طے کردہ ضوابط کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں تقاریر سننے اور کرنے کے سوا کوئی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف کہتے ہیں کہ ہم اس بحرانی صورتِ حال میں سیاسی معاملات پر بحث کا تاثر نہیں دینا چاہتے۔ لہذٰا اپوزیشن، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں، نیب مقدمات یا 18 ویں آئینی ترمیم پر بات نہیں کرے گی۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن موجودہ صورتِ حال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ لہذٰا پارلیمنٹ میں کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے تجاویز دی جائیں گی، لیکن ان پر عمل درآمد حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں بلایا جارہا ہے جب کہ حکومت نے دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو محدود پیمانے پر کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔  پارلیمانی امور کے صحافی ایم بی سومرو کہتے ہیں کہ اعلی ترین ریاستی ادارہ ہونے کی حیثیت سے پارلیمنٹ کو حکومت کی رہنمائی کے علاوہ اس کے اقدامات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ حزب اختلاف نے کرونا وائرس پر بحث کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات نہ کرنے کی شرط کو تسلیم کر کے قومی اسمبلی کو عملی طور پر غیر موثر کر دیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں یہ پہلا اجلاس ہو گا جس میں اپوزیشن نہ ہی حکومت سے سوال کر سکے گی نہ ہی کورم کی نشاندہی کر پائے گی۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی کا ورچوئل اجلاس بلانے کے لیے سابق اسپیکر قومی اسمبلی فخر امام کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی نے تین اجلاس کیے۔ تاہم اس پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کا باقاعدہ اجلاس بلانے کے لیے حزب اختلاف نے باقاعدہ درخواست جمع کروا رکھی تھی۔ جس کے تحت چھ مئی کو ایوان زیریں کا اجلاس بلانا لازم تھا۔  آئین کے آرٹیکل 54 (3) کے تحت ایک چوتھائی اراکین اسمبلی کسی بھی ایجنڈے یا ہنگامی صورتِ حال میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست دے سکتے ہیں۔ جس پر 14 روز کے اندر اجلاس بلانا لازم ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت نے حزبِ اختلاف کے ساتھ قواعد و ضوابط میں تبدیلیاں کرتے ہوئے باقاعدہ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا۔ جس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے اجلاس بلانے کی اپنی درخواست واپس لے لی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں ملک بھر میں پھیلے کورونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال اور حکومت کی جانب سے وبا کو روکنے کے اٹھائے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال ہو گا۔ ان کے بقول اس بحث کا مقصد کورونا وائرس کی صورتِ حال پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ کا اجلاس بلانے کے لیے حزبِ اختلاف نے باقاعدہ درخواست دے رکھی ہے۔ جس کے ایجنڈے میں کورونا وائرس کے معاملے اور وائرس کا قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر پڑنے والے اثر پر بھی بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کے باعث معیشت پر اثر کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

ایم بی سومرو کے کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث وزیر اعظم اور حکومتی وزرا سرکاری ٹیلی ویژن صحافیوں کی عدم موجودگی میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں اور بہت سے سوالات جن کے جواب آنے چاہیے۔ وہ نہیں پوچھے جا رہے۔  انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر وزارت کورونا سے نبرد آزما ہے ۔ ایسے میں حزب اختلاف کو سوالات اُٹھانے چاہئیں۔

پارلیمنٹ کے قواعد کے مطابق قومی اسمبلی کو اپنے پارلیمانی سال کے اختتام پر کم از کم 130 دن اجلاس منعقد کرنا ہوتا ہے۔  موجودہ اسمبلی جو اگست 2018 میں تشکیل پائی۔ اس کے تاحال صرف 72 دن مکمل ہوسکے ہیں۔ جبکہ  اگست تک اسے 58 دن مزید ملنا ہے۔

خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کورونا وائرس میں مبتلا ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں یہ اجلاس منعقد ہوگا۔